SHAWORDS
Shahabuddin Saqib

Shahabuddin Saqib

Shahabuddin Saqib

Shahabuddin Saqib

poet
2Sher
2Shayari
4Ghazal

Sherشعر

Popular Sher & Shayari

4 total

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

main shaah kaa kabhi jo musaahib nahin huaa

میں شاہ کا کبھی جو مصاحب نہیں ہوا سجدہ بھی کوئی مجھ پہ تو واجب نہیں ہوا ہم اس کی بزم میں تو بہت دیر تک رہے لیکن وہ شخص ہم سے مخاطب نہیں ہوا دنیا سے بے نیاز رہے ٹھیک ہی کیا دنیا کا رنگ ہم پہ تو غالب نہیں ہوا لازم ہے جا کے شاہ سے سب لوگ یہ کہیں جو کچھ یہاں ہوا وہ مناسب نہیں ہوا ان بستیوں پہ اس کی نوازش بہت ہوئی لیکن یہ کام حسب مراتب نہیں ہوا

غزل · Ghazal

ik tire jaane se ye saaraa makaan khaali huaa

اک ترے جانے سے یہ سارا مکاں خالی ہوا چاند سے تاروں سے اپنا آسماں خالی ہوا اب نہ دریا میں روانی اب ہواؤں میں نہ جوش کشتیوں کے ساتھ سارا بادباں خالی ہوا پھر خزاں نے آ کے اپنے گل کھلائے ہر طرف پھر چمن بندی سے دست باغباں خالی ہوا ترک جب سے کر دیا ہم نے سمندر کا سفر کشتیوں سے پھر وہ بحر‌ بیکراں خالی ہوا کب زباں اپنے وظائف سے رہی ہے بے نیاز کب دعاؤں سے یہ دست ناتواں خالی ہوا

غزل · Ghazal

aflaak se TuuTe hue taare pe chale aae

افلاک سے ٹوٹے ہوئے تارے پہ چلے آئے اس دشت میں ہم کس کے اشارے پہ چلے آئے اس روز تو دریا کی روانی ہی عجب تھی پتوار سبھی ایک ہی دھارے پہ چلے آئے دو لخت کیے جائیں گے معلوم تھا پھر بھی کچھ لوگ بڑے شوق سے آرے پہ چلے آئے ہر وقت جسے کاٹتا رہتا ہے سمندر کیا سوچ کے ہم ایسے کنارے پہ چلے آئے کچھ لوگ تھے ہر وقت منافع کی طلب میں انجام یہ نکلا کہ خسارے پہ چلے آئے

غزل · Ghazal

safar jab dhuup kaa ho to shajar hi kaam aataa hai

سفر جب دھوپ کا ہو تو شجر ہی کام آتا ہے مگر برسات آتی ہے تو گھر ہی کام آتا ہے نہیں لاتا ہے دیوانوں کو خاطر میں کوئی لیکن ضرورت پر تو دیوانوں کا سر ہی کام آتا ہے خس و خاشاک کے ہوتے ہوئے بھی کچھ نہیں ہوتا حرارت کی طلب ہو تو شرر ہی کام آتا ہے کہاں ہر دم فضا کی وسعتیں بھی کام آتی ہیں تھکے ہارے پرندوں کو شجر ہی کام آتا ہے ہمیشہ دوسروں کا مشورہ کافی نہیں ہوتا یہاں انسان کا حسن نظر ہی کام آتا ہے

Similar Poets