SHAWORDS
Waliullah Muhib

Waliullah Muhib

Waliullah Muhib

Waliullah Muhib

poet
67Sher
67Shayari
7Ghazal

Sherشعر

See all 67

Popular Sher & Shayari

134 total

Ghazalغزل

See all 7
غزل · Ghazal

vaan jo kuchh kaabe mein asraar hai allaah allaah

واں جو کچھ کعبے میں اسرار ہے اللہ اللہ سو مرے بت میں نمودار ہے اللہ اللہ دیر میں کعبے میں میخانے میں اور مسجد میں جلوہ گر سب میں مرا یار ہے اللہ اللہ اس کے ہر نقش قدم پر کریں عاشق سجدہ بت کافر کی وہ رفتار ہے اللہ اللہ حسن کے اس کی کیا طور تجلی دل کو ہائے کیا جلوۂ دیدار ہے اللہ اللہ نہ غرض کفر سے نہ دین سے ہم کو مطلب یار سے اپنے سروکار ہے اللہ اللہ شیخ ہے تجھ کو ہی انکار صنم میرے سے ورنہ ہر شخص کو اقرار ہے اللہ اللہ خوف کیا دغدغۂ حشر سے ہے مجھ کو محبؔ پیر من حیدر کرار ہے اللہ اللہ

غزل · Ghazal

udhar vo be-muravvat bevafaa be-rahm qaatil hai

ادھر وہ بے مروت بے وفا بے رحم قاتل ہے ادھر بے صبر و بے تسکین و بے طاقت مرا دل ہے ادھر صیاد چشم و دام زلف و ناوک مژگاں ادھر پہلو میں دل اک صید لاغر نیم بسمل ہے ادھر اس کو تو میرے نام سے بھی ننگ ہے ہر دم ادھر سینے میں دل مشتاق ہے عاشق ہے مائل ہے ادھر وہ خود پرست عیار ہے مغرور ہے خود بیں ادھر میرا دل از خود رفتہ ہے شیدائی غافل ہے ادھر ہر روز کا اس کو خلاف وعدہ ہے آساں ادھر شب تا سحر گہہ انتظاری سخت مشکل ہے ادھر خوش سیر دریا سے ہے وہ نا آشنا ظالم ادھر ہم غرق بحر غم ہیں اور ناپید ساحل ہے ادھر برق نگہ ہے صبر کے خرمن کی آتش زن ادھر کشت‌ امید و یاس اب تک سیر حاصل ہے ادھر شانے کو اس کے زلف و کاکل نے چڑھایا سر ادھر دل پر بلائے آسماں یک دست نازل ہے ادھر باقی ہوس ہے بے حساب اس کو جفاؤں کی ادھر لکھیے وفاؤں کی تو کچھ اپنا ہی فاضل ہے ادھر وہ آئنہ میں عکس رو اپنے کا ہے مائل ادھر ہر شے میں وہ ہے جلوہ‌ گر کل و شمائل ہے ادھر ہے اختلاط اغیار سے اس یار جانی کا ادھر دل ذکر اس کے کا محبؔ دن رات شامل ہے

غزل · Ghazal

ai ham-damaan bhulaao na tum yaad-e-raftagaan

اے ہمدماں بھلاؤ نہ تم یاد رفتگاں واماندگاں کو ہے یہی ارشاد رفتگاں جو غنچہ ناشگفتہ ہی جھڑ جائے شاخ سے ہے اس چمن میں وہ دل ناشاد‌ رفتگاں چشم‌ و دل و جگر کے لئے اشک درد و داغ ہم پاس ہے یہ تحفہ‌ٔ امداد رفتگاں اس کارواں سرا میں یہ بانگ جرس نہیں ہے یہ صدائے نالہ و فریاد رفتگاں آسیدہ‌ و روندہ سے پوچھا بہت محبؔ دریافت پر نہ کچھ ہوئی روداد رفتگاں

غزل · Ghazal

tum jaante ho kis liye vo mujh se gayaa laD

تم جانتے ہو کس لئے وہ مجھ سے گیا لڑ اے ہمدم من اس کے کہیں اور لگی لڑ اس نے شجر دوستی اب دل سے اکھاڑا کہنے سے رقیبوں کے ہے فتنے کی بندھی جڑ اس بت کو کہاں پہنچیں بت آذر کے تراشے ہاتھ اپنے سے تیار کرے جس کو خدا گھڑ دل دوز نگہ یار کی ہوتی ہے مقابل برچھی کی انی سی مرے سینے میں گئی گڑ خجلت سے تو پھر سامنے آنکھیں نہ کرے گا اے ابر مرے گریہ کی جس وقت لگی جھڑ خط کا یہ جواب آیا کہ قاصد گیا جی سے سر ایک طرف لوٹے ہے اور ایک طرف دھڑ رندوں نے عوض وسمے کے نورا جو لگایا پاکی کی طرح شیخ کی داڑھی بھی گئی جھڑ ترچھی نگہ اس کی کہ ہوا کوئی نہ آڑے سینے کو سپر کر کے رہے ایک ہمیں اڑ صحرائے جنوں سے محبؔ اس زلف کی زنجیر پھر پیچ میں لے آئی مجھے پاؤں مرے پڑ

غزل · Ghazal

dekhtaa kuchh huun dhyaan mein kuchh hai

دیکھتا کچھ ہوں دھیان میں کچھ ہے ہے یقیں کچھ گمان میں کچھ ہے صنم اپنے کو ہم خدا جو کہیں کب قصور اس کی شان میں کچھ ہے کچھ نہ دیکھا کسی مکان میں ہم کہتے ہیں لا مکان میں کچھ ہے تشنۂ خوں ہیں لعل لب تیرے سرخیٔ رنگ پان میں کچھ ہے تیرے دیدار کی ہوس کے سوا دیکھ تو میری جان میں کچھ ہے تو جو تلوار کھینچے ہے مجھ پر زخم بھی درمیان میں کچھ ہے دیکھ تو اب جفا کشی کی تاب مجھ دل ناتوان میں کچھ ہے دیکھ کر مجھ کو نزع میں تو نے نہ کہا اس جوان میں کچھ ہے ہم کو پٹکا زمین کے اوپر گردش آسمان میں کچھ ہے فائدہ تجھ کو اے زخود غافل فکر سود و زیان میں کچھ ہے یہ زمانہ محبؔ بقول دردؔ آن میں کچھ ہے آن میں کچھ ہے

غزل · Ghazal

kaafir hue sanam ham din-daar teri khaatir

کافر ہوئے صنم ہم دیں دار تیری خاطر تسبیح توڑ باندھا زنار تیری خاطر گل سینہ چاک بلبل نالاں چمن میں دیکھی آنکھوں کے دکھ سے نرگس بیمار تیری خاطر ابرو کی تو اشارت جس کی طرف کرے تھا چلتی تھی مجھ میں اس میں تلوار تیری خاطر میں جھوٹ سچ بھی یک دم آنسو نہ ان کے پونچھے جو چشم روز و شب ہیں خوں بار تیری خاطر سب آشناؤں سے ہم بیگانہ ہو رہے تھے اب زندگی ہے اپنی دشوار تیری خاطر مسجد میں میکدے میں کیا کیفی اور صوفی بے ہوش تیری خاطر ہشیار تیری خاطر جو راہ عاشقی میں تھی پستی و بلندی وہ ہم نے کی سراسر ہموار تیری خاطر پتھرا گئی ہیں آنکھیں انجم کی طرح ہر شب بیدار رہتے رہتے اے یار تیری خاطر اس ابر میں چمن نے کیا کیا کیا ہے ساقی اسباب مے کشی کا تیار تیری خاطر ہر غنچہ ہے گلابی ہر گل ہے ساغر مے مے خانہ ہو رہا ہے گلزار تیری خاطر آگے تو کوچہ گردی شیوہ نہ تھا محبؔ کا کی اب شروع اس نے ناچار تیری خاطر

Similar Poets