SHAWORDS
Ziaul Mustafa Turk

Ziaul Mustafa Turk

Ziaul Mustafa Turk

Ziaul Mustafa Turk

poet
17Sher
17Shayari
4Ghazal

Sherشعر

See all 17

Popular Sher & Shayari

34 total

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

charaagh-e-kushta se qindil kar rahaa hai mujhe

چراغ کشتہ سے قندیل کر رہا ہے مجھے وہ دست غیب جو تبدیل کر رہا ہے مجھے یہ میرے مٹتے ہوئے لفظ جو دمک اٹھے ہیں ضرور وہ کہیں ترتیل کر رہا ہے مجھے میں جاگتے میں کہیں بن رہا ہوں از سر نو وہ اپنے خواب میں تشکیل کر رہا ہے مجھے حریم ناز اور اک عمر بعد میں لیکن یہ اختصار جو تفصیل کر رہا ہے مجھے بدن پہ تازہ نشاں بن رہے ہیں جیسے کوئی مرے غیاب میں تحویل کر رہا ہے مجھے بدل رہے ہیں مرے خد و خال ترکؔ ابھی مسلسل آئینہ تاویل کر رہا ہے مجھے

غزل · Ghazal

sukut se bhi sukhan ko nikaal laataa huaa

سکوت سے بھی سخن کو نکال لاتا ہوا یہ میں ہوں لوح شکستہ سے لفظ اٹھاتا ہوا مکاں کی تنگی و تاریکی بیشتر تھی سو میں دیے جلاتا ہوا آئینے بناتا ہوا ترے غیاب کو موجود میں بدلتے ہوئے کبھی میں خود کو ترے نام سے بلاتا ہوا چراغ جلتے ہی اک شہر منکشف ہم پر اور اس کے بعد وہی شہر ڈوب جاتا ہوا بس ایک خواب کہ اس قریۂ بدن سے ہنوز نواح دل تلک اک راستہ سا آتا ہوا

غزل · Ghazal

mere girya se na aazaar uThaane se huaa

میرے گریہ سے نہ آزار اٹھانے سے ہوا فاصلہ طے نئی دیوار اٹھانے سے ہوا ورنہ یہ قصہ بھلا ختم کہاں ہونا تھا داستاں سے مرا کردار اٹھانے سے ہوا محمل ناز کی تاخیر کا یہ سارا فساد راہ افتادہ کو بیکار اٹھانے سے ہوا شاق گزرا ہے جو احباب کو وہ صدمہ بھی بزم میں مصرع تہہ دار اٹھانے سے ہوا یوں تو مصحف بھی اٹھائے گئے قسمیں بھی مگر آخری فیصلہ تلوار اٹھانے سے ہوا غم نہیں تخت کو اور بخت کو کھو دینے کا کب مرا ہونا بھی دستار اٹھانے سے ہوا جاگنا تھا مرا ہنگامۂ ہستی کا سبب حشر برپا بھی دگربار اٹھانے سے ہوا گوشۂ باغ ہوا خلد گزرنے سے ترے آئینہ عکس رخ یار اٹھانے سے ہوا

غزل · Ghazal

na thiin to duur kahin dhyaan mein paDi hui thiin

نہ تھیں تو دور کہیں دھیان میں پڑی ہوئی تھیں تمام آیتیں امکان میں پڑی ہوئی تھیں کواڑ کھلنے سے پہلے ہی دن نکل آیا بشارتیں ابھی سامان میں پڑی ہوئی تھیں وہیں شکستہ قدمچوں پہ آگ روشن تھی وہیں روایتیں انجان میں پڑی ہوئی تھیں ہم اپنے آپ سے بھی ہم سخن نہ ہوتے تھے کہ ساری مشکلیں آسان میں پڑی ہوئی تھیں پس چراغ میں جو سمتیں ڈھونڈتا رہا ترکؔ وہ ایک لفظ کے دوران میں پڑی ہوئی تھیں

Similar Poets