SHAWORDS
Aamir Rahmati

Aamir Rahmati

Aamir Rahmati

Aamir Rahmati

poet
4Shayari
5Ghazal

Popular Shayari

4 total

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

کہو تو کیا یہ مسئلہ ہے عین شین قاف کا جی رستہ مشکلوں بھرا ہے عین شین قاف کا اسے کیے بغیر خود خدا بھی رہ نہیں سکا یہی تو دوست معجزہ ہے عین شین قاف کا بنے پھرے ہیں قیس آج کل جو ان سے پوچھیے انہیں ذرا سا بھی پتہ ہے عین شین قاف کا یہاں وہاں نہ دیکھ شیخ جا چلا جا میکدے اگر جو رقص دیکھنا ہے عین شین قاف کا سناں کی نوک پر کرا دے جو امام سے ثنا حضور ایسا مرتبہ ہے عین شین قاف کا ترے بغیر چل نہیں سکیں گے اک قدم بھی ہم بہت کٹھن یہ راستہ ہے عین شین قاف کا کہیں پہ کربلا کہیں پہ حشر برپا کر دیا یہ مختصر سا واقعہ ہے عین شین قاف کا

kaho to kyaa ye masala hai 'ain shiin qaaf kaa

41 views

غزل · Ghazal

کون کہوے ہے نسیم سحری آوے ہے گل بدن اوڑھے سحر ایک پری آوے ہے درد الفت کو بڑھاتے ہیں گھٹا دیتے ہیں اف بلا کی انہیں تو بخیہ گری آوے ہے اس بھرے شہر میں میرے سوا کوئی بھی نہیں ایک ہم ہیں جسے شوریدہ سری آوے ہے بقیہ تو نقل مکانی کیا کرتے ہیں سب ہم کو یا جونؔ کو ہی نوحہ گری آوے ہے رقص میں ڈوب کے جانے کرے ہے کیا کیا دل سامنے جب مرے وہ ایک پری آوے ہے جس کو دیکھو اسے دیوانہ بنا دیتے ہو خوب تم کو بھی صنم عشوہ گری آوے ہے زخم جن سے ہے ملا ایک انہیں ہی عامرؔ شہر بھر میں یہاں بس چارہ گری آوے ہے

kaun kahve hai nasim-e-sahari aave hai

41 views

غزل · Ghazal

کسی کو یاد تڑپائے تمہیں کیا کوئی مرتا ہو مر جائے تمہیں کیا تمہیں سجنے سنورنے سے ہے مطلب قیامت آتی ہو آئے تمہیں کیا انا الحق کی سدا دیتے ہوئے گر کوئی پھر سولی چڑھ جائے تمہیں کیا تمہارا حسن یہ ہم عاشقوں پر غضب ڈھائے ستم ڈھائے تمہیں کیا تمہیں تو کھیلنا ہوتا ہے دل سے کسی کی جاں چلی جائے تمہیں کیا ادا سے شانوں پہ گیسو بکھیرو جہاں بھر میں گھٹا چھائے تمہیں کیا تمہارا کام چھپ کر بیٹھ جانا کسی کی جاں بہ لب آئے تمہیں کیا نگہبانی میں ہو عامرؔ کسی کی کریں کچھ بھی یہ ہمسائے تمہیں کیا

kisi ko yaad taDpaae tumhein kyaa

41 views

غزل · Ghazal

تم ساتھ تو بہار زمانے کی تلخیاں ورنہ جگر کے پار زمانے کی تلخیاں جب تک تمہارا ساتھ تھا اے میرے ہم سفر دیکھی نہ ایک بار زمانے کی تلخیاں جس دن سے مجھ سے روٹھ گئے میرے یار تم اتری جگر کے پار زمانے کی تلخیاں معصوم بن کے سہتے رہیں اے مرے خدا کب تک یہ بادہ خوار زمانے کی تلخیاں دراصل بات یہ ہے جو تم تک نہ آ سکا کرتا پھرے شمار زمانے کی تلخیاں یہ تو کرم ہے ان کا وگرنہ لپٹنے کو عامرؔ ہیں بے قرار زمانے کی تلخیاں

tum saath to bahaar zamaane ki talkhiyaan

41 views

غزل · Ghazal

جب بھی دل بے قرار ہوتا ہے شور اندر ہزار ہوتا ہے ڈھانپ لیتے ہیں عیب سارے ہی جس کو بھی ان سے پیار ہوتا ہے اے صنم تیرے اک تغافل پر دل مرا تار تار ہوتا ہے دیکھ کر تیرے اس تبسم کو گل میں تبدیل خار ہوتا ہے یہ محبت ہے کیا کہ پھر ہوگی عشق ہے ایک بار ہوتا ہے تلخ لہجہ ذرا سنبھالو تم دل کے یہ آر پار ہوتا ہے

jab bhi dil be-qaraar hotaa hai

41 views

Similar Poets