SHAWORDS
Abdul Waqar

Abdul Waqar

Abdul Waqar

Abdul Waqar

poet
3Sher
3Shayari
5Ghazal

Sherشعر

Popular Sher & Shayari

6 total

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

pahle paidal paidal jaayaa karte the

پہلے پیدل پیدل جایا کرتے تھے پھر دونوں اک بس میں بیٹھا کرتے تھے وہ زلفوں کو پیچھے کرتی رہتی تھی پھر بھی اس کے گیسو بکھرا کرتے تھے وہ اول تھی پڑھنے لکھنے میں اور ہم پیچھے سب سے پیچھے بیٹھا کرتے تھے نام پکارا جاتا تھا جب اس کا تو یس سر یس سر ہم بھی بولا کرتے تھے دہرے کام کی عادت بچپن سے ہی تھی اس کی کاپی بھی ہم لکھا کرتے تھے اس کی نظریں رہتی تھیں بس ٹیچر پر ہم تو کیول اس کو دیکھا کرتے تھے

غزل · Ghazal

dard kaa silsila nikal aayaa

درد کا سلسلہ نکل آیا زخم سے رابطہ نکل آیا لوگ ہنسنا نہ بھول جائیں کہیں سوچ کر مسخرا نکل آیا اب نہیں مسئلہ مجھے کوئی یہ نیا مسئلہ نکل آیا شک یقیں میں بدل گیا جس دن جیب سے خط ترا نکل آیا روٹیاں سینکنے سیاست کی ہر کوئی رہنما نکل آیا لڑکیاں بے وفا نہیں ہوتیں یہ سنا قہقہہ نکل آیا

غزل · Ghazal

tum siyaasat mein ho jo chaahe nayaa karte raho

تم سیاست میں ہو جو چاہے نیا کرتے رہو پر کتر کے ان پرندوں کو رہا کرتے رہو دکھ کے سب بادل چھٹیں گے دھوپ کھل کر آئے گی مسئلے پر تم بڑوں سے مشورہ کرتے رہو ہم نے یہ تعلیم پائی ہے نبئ پاک سے دشمنوں کے حق میں بھی رب سے دعا کرتے رہو تم بھی گن سکتے ہو تارے آسماں کے ہاں مگر شرط اتنی ہے مسلسل رتجگا کرتے رہو برکتیں بڑھ جائیں گی گھر میں تمہارے دیکھنا ہو سکے تو مفلسوں کا حق ادا کرتے رہو تنکا تنکا جوڑ کر تعمیر ہوتا ہے محل اس لیے ہر دن نیا کچھ تجربہ کرتے رہو

غزل · Ghazal

jab un ke kuche mein jaanaa paDtaa hai

جب ان کے کوچے میں جانا پڑتا ہے راہوں میں بے درد زمانہ پڑتا ہے باتوں کی قیمت جب گھٹنے لگتی ہے تب اشکوں کو کام میں لانا پڑتا ہے رہبر بس رستہ بتلاتے رہتے ہیں منزل تک راہی کو جانا پڑتا ہے پختہ کر لے اے زاہد اپنا ایماں مسجد سے پہلے مے خانہ پڑتا ہے ایسے بھی گل ہیں جن کو اس دنیا میں کھلنے سے پہلے مرجھانا پڑتا ہے یوں ہی خوں ریزی تھوڑی ہو جاتی ہے پہلے نفرت کو اکسانا پڑتا ہے دل میں ہے تو بس دل میں ہی مت رکھئے اس دنیا میں پیار جتانا پڑتا ہے ہے پہلے آنسو سے دل ہلکا ہوتا تھا اب آنکھوں سے خون بہانا پڑتا ہے

غزل · Ghazal

ye dil hai ab tumhaaraa bolte hain

یہ دل ہے اب تمہارا بولتے ہیں ذرا سن لو دوبارہ بولتے ہیں وہاں پر لوگ پیاسے مر رہے ہیں چلو پانی کا نعرہ بولتے ہیں امانت تم کسی کی ہو مگر سب تمہیں اب تک ہمارا بولتے ہیں جو جگنو ہم نے ٹانکا تھا فلک پر اسی کو لوگ تارا بولتے ہیں کہ ہم تم ہیں محبت میں جہاں پر ہمیں سب ویر زارا بولتے ہیں انہیں کوئی سمندر کیا ڈبوئے بھنور کو جو کنارا بولتے ہیں

Similar Poets