"vahi qatil vahi munsif bana hai usi se faisla Thahra hua hai"

Abdussamad ’Tapish’
Abdussamad ’Tapish’
Abdussamad ’Tapish’
Sherشعر
See all 20 →vahi qatil vahi munsif bana hai
وہی قاتل وہی منصف بنا ہے اسی سے فیصلہ ٹھہرا ہوا ہے
vaqt ke daman men koi
وقت کے دامن میں کوئی اپنی ایک کہانی رکھ
kuchh haqa.eq ke zinda paikar hain
کچھ حقائق کے زندہ پیکر ہیں لفظ میں کیا بیان میں کیا ہے
use khilaunon se baDh kar hai fikr roTi ki
اسے کھلونوں سے بڑھ کر ہے فکر روٹی کی ہمارے دور کا بچہ جنم سے بوڑھا ہے
un ke lab par mira gila hi sahi
ان کے لب پر مرا گلہ ہی سہی یاد کرنے کا سلسلہ تو ہے
koi column nahin hai hadson par
کوئی کالم نہیں ہے حادثوں پر بچا کر آج کا اخبار رکھنا
Popular Sher & Shayari
40 total"vaqt ke daman men koi apni ek kahani rakh"
"kuchh haqa.eq ke zinda paikar hain lafz men kya bayan men kya hai"
"use khilaunon se baDh kar hai fikr roTi ki hamare daur ka bachcha janam se buDha hai"
"un ke lab par mira gila hi sahi yaad karne ka silsila to hai"
"koi column nahin hai hadson par bacha kar aaj ka akhbar rakhna"
kaun patthar uThaae
ye shajar be-samar hai
use khilaunon se baDh kar hai fikr roTi ki
hamaare daur kaa bachcha janam se buDhaa hai
koi column nahin hai haadson par
bachaa kar aaj kaa akhbaar rakhnaa
un ke lab par miraa gila hi sahi
yaad karne kaa silsila to hai
vahi qaatil vahi munsif banaa hai
usi se faisla Thahraa huaa hai
ab nishaana us ki apni zaat hai
laD rahaa hai ik anokhi jang vo
Ghazalغزل
jafaa ke zikr pe vo bad-havaas kaisaa hai
جفا کے ذکر پہ وہ بد حواس کیسا ہے ذرا سی بات تھی لیکن اداس کیسا ہے نہ جانے کون فضاؤں میں زہر گھول گیا ہرا بھرا سا شجر بے لباس کیسا ہے مری طرح سے نہ حق بات تم کہو دیکھو بلا کا سایہ مرے آس پاس کیسا ہے یہ فیصلہ ہے کہ ہم اپنے حق سے باز آئیں تو پھر یہ لہجہ یہ ترا، التماس کیسا ہے وہی جو شہر کے لوگوں میں تھا بہت بد نام وہی تو آج سراپا سپاس کیسا ہے میں کیا کہوں کہ میں کیوں دل سے ہو گیا مجبور تم ہی بتاؤ کہ وہ خوش لباس کیسا ہے
khauf-o-vahshat bar-sar-e-baazaar rakh jaataa hai kaun
خوف و وحشت بر سر بازار رکھ جاتا ہے کون یوں رگ احساس پر تلوار رکھ جاتا ہے کون کیوں وہ ملنے سے گریزاں اس قدر ہونے لگے میرے ان کے درمیاں دیوار رکھ جاتا ہے کون منبر و محراب سے آتش فشاں ہوتے تو ہیں وقت کی دہلیز پر دستار رکھ جاتا ہے کون بس خدا غافل نہیں ہے ورنہ اس منجدھار میں میری کشتی کے لئے پتوار رکھ جاتا ہے کون یہ مرا ذوق سفر ہے ورنہ ایسی دھوپ میں ہر قدم پر اک شجر چھتنار رکھ جاتا ہے کون دل بڑی نازک سی شے ہے ان سے اتنا پوچھیے ٹوٹے شیشوں کا یہاں انبار رکھ جاتا ہے کون تیرگی اپنا مقدر لکھ چکی پھر بھی تپشؔ آئنے میں اک غلط پندار رکھ جاتا ہے کون
main zabaan-e-khalq par ik zamzama ban jaaungaa
میں زبان خلق پر اک زمزمہ بن جاؤں گا اس طرح بکھروں گا میں کہ قافلہ بن جاؤں گا شب کی تنہائی میں بھی تنہا نہیں رہ پاؤ گے میں تمہارے واسطے اک مسئلہ بن جاؤں گا گرد ماضی سے نکل کر حال و مستقبل کے بیچ آتی جاتی لہر کا اک سلسلہ بن جاؤں گا مجھ تک آ کر یوں گزر جانا تو کچھ آساں نہیں ہر قدم پر دائرہ در دائرہ بن جاؤں گا بے سکوں لمحات میں مجھ کو برت کر دیکھنا میں سکون قلب کا اک واسطہ بن جاؤں گا راستے مسدود ہوں تو میں تمہارے واسطے ارتقائی منزلوں کا رابطہ بن جاؤں گا
garche nezon pe sar hai
گرچہ نیزوں پہ سر ہے موت تو وقت پر ہے کون پتھر اٹھائے یہ شجر بے ثمر ہے گھونسلہ زندگی کا سانس کی شاخ پر ہے کوئی دشمن نہیں ہے مجھ کو اپنا ہی ڈر ہے شک بھی کیجے تو کس پر وہ بڑا معتبر ہے زد میں آندھی کے اکثر ایک میرا ہی گھر ہے اپنی پہچان رکھنا بھیڑ ہر موڑ پر ہے میرے مولا تپشؔ کو عشق خیرالبشر ہے
ek bhi chain kaa bistar nahin hone detaa
ایک بھی چین کا بستر نہیں ہونے دیتا میرے گھر کو وہ مرا گھر نہیں ہونے دیتا نت نیا ایک شگوفہ وہ دکھاتا ہے مجھے ظلم کی حد وہ مقرر نہیں ہونے دیتا سب کو دکھلاتا ہے وہ چھوٹا بنا کر مجھ کو مجھ کو وہ میرے برابر نہیں ہونے دیتا کیسی سازش ہے یہ اس کی ذرا میں بھی دیکھوں کیوں مجھے وہ سر منظر نہیں ہونے دیتا خوف کیسا ہے یہ شاہیں کے قبیلہ میں تپشؔ کیوں ممولوں میں کوئی پر نہیں ہونے دیتا
tamaam bughz 'adaavat chhupaa ke lahje mein
تمام بغض عداوت چھپا کے لہجے میں وہ بولتا ہے کسی رہنما کے لہجے میں عجیب کرب و بلا ہے فضا کے لہجے میں یہ کون چیخ پڑا ہے دعا کے لہجے میں دلوں میں گرمئ احساس دے گئی سب کے کچھ ایسی بات کہی ہے دعا کے لہجے میں نہ جانے خلق خدا کس حساب میں رکھ لے وہ بولتا ہے بہت آشنا کے لہجے میں یہ کیسی بوئے عداوت تمام پھیل گئی یہ کیسا زہر گھلا ہے ہوا کے لہجے میں وہ سخت دل ہے مگر سخت بھی نہیں اتنا ذرا جو بات کرو التجا کے لہجے میں





