"main choT kar to raha huun hava ke mathe par maza to jab tha ki koi nishan bhi paDta"

Abhishek Shukla
Abhishek Shukla
Abhishek Shukla
Sherشعر
See all 23 →main choT kar to raha huun hava ke mathe par
میں چوٹ کر تو رہا ہوں ہوا کے ماتھے پر مزا تو جب تھا کہ کوئی نشان بھی پڑتا
ye jo duniya hai ise itni ijazat kab hai
یہ جو دنیا ہے اسے اتنی اجازت کب ہے ہم پہ اپنی ہی کسی بات کا غصہ اترا
safar ke baad bhi zauq-e-safar na rah jaa.e
سفر کے بعد بھی ذوق سفر نہ رہ جائے خیال و خواب میں اب کے بھی گھر نہ رہ جائے
vahan pahle hi avazen bahut thiin
وہاں پہلے ہی آوازیں بہت تھیں سو میں نے چپ کرایا خامشی کو
us se kahna ki dhuan dekhne laa.eq hoga
اس سے کہنا کہ دھواں دیکھنے لائق ہوگا آگ پہنے ہوئے جاوں گا میں پانی کی طرف
maqam-e-vasl to arz-o-sama ke biich men hai
مقام وصل تو ارض و سما کے بیچ میں ہے میں اس زمین سے نکلوں تو آسماں سے نکل
Popular Sher & Shayari
46 total"ye jo duniya hai ise itni ijazat kab hai ham pe apni hi kisi baat ka ghussa utra"
"safar ke baad bhi zauq-e-safar na rah jaa.e khayal o khvab men ab ke bhi ghar na rah jaa.e"
"vahan pahle hi avazen bahut thiin so main ne chup karaya khamushi ko"
"us se kahna ki dhuan dekhne laa.eq hoga aag pahne hue ja.unga main paani ki taraf"
"maqam-e-vasl to arz-o-sama ke biich men hai main is zamin se niklun tu asman se nikal"
chalte hue mujh mein kahin Thahraa huaa tu hai
rasta nahin manzil nahin achchhaa huaa tu hai
jaane kyaa kuchh ho chhupaa tum mein mohabbat ke sivaa
ham tasalli ke liye phir se khagaaleinge tumhein
main sochtaa huun bahut zindagi ke baare mein
ye zindagi bhi mujhe soch kar na rah jaae
main yuun hi nahin apni hifaazat mein lagaa huun
mujh mein kahin lagtaa hai ki rakkhaa huaa tu hai
teri aankhon ke liye itni sazaa kaafi hai
aaj ki raat mujhe khvaab mein rotaa huaa dekh
safar ke baad bhi zauq-e-safar na rah jaae
khayaal o khvaab mein ab ke bhi ghar na rah jaae
Ghazalغزل
aabru-e-shab-e-tira nahin rakhne vaale
آبروئے شب تیرہ نہیں رکھنے والے ہم کہیں پر بھی اندھیرا نہیں رکھنے والے آئنہ رکھنے کا الزام بھی آیا ہم پر جب کہ ہم لوگ تو چہرا نہیں رکھنے والے ہم پہ فرہاد کا کچھ قرض نکلتا ہے سو ہم تم کہو بھی تو یہ تیشہ نہیں رکھنے والے ہم کو معلوم ہیں از روئے محبت سو ہم کوئی بھی درد زیادہ نہیں رکھنے والے
shahr mein raushaniyaan ghar mein ujaale kam hain
شہر میں روشنیاں گھر میں اجالے کم ہیں جل اٹھیں آ کہ بہت ہیں یہ حوالے کم ہیں راہ حق پہلے سے مشکل نظر آتی ہے ہمیں خوش نہ ہو کوئی اگر پاؤں میں چھالے کم ہیں گھر تصور میں اگر ہے تو سڑک پر آ جا اور وہ بول جسے بولنے والے کم ہیں ہیں ادھر وہ کہ جو ظالم بھی ہیں شداد بھی ہیں اور ادھر وہ ہیں کہ جو ٹوٹنے والے کم ہیں حاکم شہر ہمیں اتنا بھی مجبور نہ کر فیصلے کر لیے ہم نے جو وہ ٹالے کم ہیں اتنی تاریک فضا پہلے کبھی تھی ہی نہیں ہم نے جتنے بھی چراغ اب کے اچھالے کم ہیں اے وطن جن کو یہ لگتا ہے کہ سب ٹھیک ہے وہ اور کچھ ہوں گے ترے چاہنے والے کم ہیں
duaa ke bas kaa nahin bad-duaa ke bas kaa nahin
دعا کے بس کا نہیں بد دعا کے بس کا نہیں اک ایسا بندہ ہوں میں جو خدا کے بس کا نہیں وہ سر پٹکتی ہے جھنجھلاتی ہے مرے اوپر بس ایک تنکا ہوں میں اور ہوا کے بس کا نہیں ہجوم چارہ گراں دنگ ہے ترا بیمار کسی بھی زہر کسی بھی دوا کے بس کا نہیں برہنہ ہونا پڑے گا تجھے بھی میرے ساتھ کہ ایک لمس بھی بند قبا کے بس کا نہیں مجھے تو چھوڑ کہ میں اک جہان دیگر ہوں مرا خیال بھی اس بے وفا کے بس کا نہیں خموشیو! تمہیں میرا بیان ہونا ہے وہ دکھ ہوں میں کہ جو صوت و صدا کے بس کا نہیں یہی زمیں مرا دوزخ یہی زمیں جنت مرا مزاج سزا و جزا کے بس کا نہیں مرے وجود میں تو تھا جہاں خلا ہے اب جو تیرے بس کا نہ تھا اب خلا کے بس کا نہیں
khaak par khuun ki tahrir se pahchaane gae
خاک پر خون کی تحریر سے پہچانے گئے ترے وحشی تری زنجیر سے پہچانے گئے اپنی تصویر سے ممکن ہی نہ تھی اپنی شناخت ہم کسی اور کی تصویر سے پہچانے گئے جن میں روشن تھا تری دید کا سودا وہ سر لاکھ اندھیرے میں بھی شمشیر سے پہچانے گئے کیا قیامت ہے کہ سو بار کے سوچے ہوئے لوگ سامنے آئے تو تاخیر سے پہچانے گئے دوست پہچانے گئے اپنے نشانے سے اور ہم بھی سینے میں لگے تیر سے پہچانے گئے خواب میں تو کوئی چہرہ ہی نہیں تھا ان کا ہیں کچھ اک غم کہ جو تعبیر سے پہچانے گئے خامشی اصل میں اسلوب تھی ہم جیسوں کا ہم اسی لہجۂ تقریر سے پہچانے گئے ذہن تاریک میں بے نام و نسب تھے کچھ درد جو چمک اٹھنے کی تدبیر سے پہچانے گئے
harf lafzon ki taraf lafz maaani ki taraf
حرف لفظوں کی طرف لفظ معانی کی طرف لوٹ آئے سبھی کردار کہانی کی طرف اس سے کہنا کہ دھواں دیکھنے لائق ہوگا آگ پہنے ہوئے جاوں گا میں پانی کی طرف پہلے مصرعے میں تجھے سوچ لیا ہو جس نے جانا پڑتا ہے اسے مصرع ثانی کی طرف دل وہ دریا ہے مرے سینۂ خالی میں کہ اب دھیان جاتا ہی نہیں جس کہ روانی کی طرف
abhi to aap hi haail hai raastaa shab kaa
ابھی تو آپ ہی حائل ہے راستا شب کا قریب آئے تو دیکھیں گے حوصلہ شب کا چلی تو آئی تھی کچھ دور ساتھ ساتھ مرے پھر اس کے بعد خدا جانے کیا ہوا شب کا مرے خیال کے وحشت کدے میں آتے ہی جنوں کی نوک سے پھوٹا ہے آبلہ شب کا سحر کی پہلی کرن نے اسے بکھیر دیا مجھے سمیٹنے آیا تھا جب خدا شب کا زمیں پہ آ کے ستاروں نے یہ کہا مجھ سے ترے قریب سے گزرا ہے قافلہ شب کا سحر کا لمس مری زندگی بڑھا دیتا مگر گراں تھا بہت مجھ پہ کاٹنا شب کا کبھی کبھی تو یہ وحشت بھی ہم پہ گزری ہے کہ دل کے ساتھ ہی دیکھا ہے ڈوبنا شب کا چٹخ اٹھی ہے رگ جاں تو یہ خیال آیا کسی کی یاد سے جڑتا ہے سلسلہ شب کا





