SHAWORDS
Afroz Rizvi

Afroz Rizvi

Afroz Rizvi

Afroz Rizvi

poet
2Shayari
19Ghazal

Popular Shayari

2 total

Ghazalغزل

See all 19
غزل · Ghazal

نگاہ سے بھی گئے عرض حال سے بھی گئے وہ برہمی ہے کہ ہم بول چال سے بھی گئے وہ لفظ جو میں تری آرزو میں لکھتی تھی وہ نقش تو مری لوح خیال سے بھی گئے مثال دیتی تھی دنیا بھی جس رفاقت کی وہ فاصلے ہیں کہ اب اس مثال سے بھی گئے وہ طائران محبت جنہیں فلک نہ ملا اڑان بھر نہ سکے اور ڈال سے بھی گئے وہ حرف مرہم ہر زخم یاد تھے افروزؔ اب ان کے بعد تو ہم اندمال سے بھی گئے

nigaah se bhi gae arz-e-haal se bhi gae

41 views

غزل · Ghazal

ترے خیال کو موج رواں بناتے ہوئے میں پانیوں پہ چلی کشتیاں بناتے ہوئے مرے وجود کے ساحل پہ خواب بنتے ہیں تمہارے ہاتھ شب مہرباں بناتے ہوئے تمہارے ساتھ رفاقت کے خواب بنتی ہوں میں طائروں کے لئے آشیاں بناتے ہوئے زمیں سے اتنی محبت ہے مجھ کو میں ہر پل زمیں بناتی رہی آسماں بناتے ہوئے رہ وفا میں تری بے وفائی کی حد تک میں دھوپ دھوپ ہوئی سائباں بناتے ہوئے

tire khayaal ko mauj-e-ravaan banaate hue

41 views

غزل · Ghazal

دیکھنے میں جو لگے شام و سحر کے ساتھی وہ تو ساتھی تھے فقط راہ گزر کے ساتھی اب کہاں ہیں وہ مرے اشک پرونے والے اب کہاں ہیں وہ مرے دیدۂ تر کے ساتھی تم کو دیکھا تو مرے دل نے کہا تم ہی تو ہو زخم دل زخم جگر زخم نظر کے ساتھی اس میں کیا شک زمن افروز رہا ہے یہ کلام ہم بھی رہتے ہیں مدام اہل نظر کے ساتھی میں اکیلی ہی چلی جانب منزل افروزؔ ہم سفر ٹھہرے مرے صرف سفر کے ساتھی

dekhne mein jo lage shaam-o-sahar ke saathi

41 views

غزل · Ghazal

مسلسل آنکھ میں یوں آنا جانا آنسوؤں کا ہے مرا چہرہ ہے اور مہمان خانہ آنسوؤں کا ہے بہت مشکل بیاں ہے چشم و دل کے خون ہونے کا بہت آسان پلکوں سے گرانا آنسوؤں کا ہے پڑے رہتے ہیں اس کی دید کے کچھ عکس کونوں میں وگرنہ آنکھ میں سارا ٹھکانہ آنسوؤں کا ہے فقط تجدید نو کی بات ہے ہر عہد میں ورنہ تمہارے ہجر سے رشتہ پرانا آنسوؤں کا ہے بہت آساں سہی دامن پہ گرنا چند قطروں کا بہت مشکل سر مژگاں اٹھانا آنسوؤں کا ہے خیال و خواب کو افروزؔ کوئی آ کے سمجھا دے بلانا اس کی یادوں کا بلانا آنسوؤں کا ہے

musalsal aankh mein yuun aanaa jaanaa aansuon kaa hai

41 views

غزل · Ghazal

آئینے سے تمہاری نظر دیر سے ملی مجھ کو نوید شام و سحر دیر سے ملی دریائے بے خودی کو بھنور دیر سے ملا پانی کو ساحلوں کی خبر دیر سے ملی شاید اسی لئے مجھے منزل نہ مل سکی مجھ کو تمہاری راہ گزر دیر سے ملی بے خواب راستوں میں یہ تعبیر درد دل مل تو گئی ہے مجھ کو مگر دیر سے ملی ان کو نہ مل سکی ترے اجلے بدن کی دھوپ جن کو ضیائے شمس و قمر دیر سے ملی

aaine se tumhaari nazar der se mili

41 views

غزل · Ghazal

بن بن کے بگڑتی ہے مری بات تو دیکھو اس کوچۂ دل میں مری اوقات تو دیکھو جو جسم تمنا میں سلگتا ہے تمہاری اس جسم میں حسرت بھری اک رات تو دیکھو جس آنکھ نے دیکھے تھے کبھی خواب تمہارے اس آنکھ سے ہوتی ہوئی برسات تو دیکھو اے وقت شناسو یہ کڑا وقت ہے کیسا اے دست شناسو مرا تم ہات تو دیکھو جس آنکھ میں ہے خون تمنا مرا افروزؔ اس آنکھ میں سرمے کی کرامات تو دیکھو

ban ban ke bigaDti hai miri baat to dekho

40 views

Similar Poets