vo hamaari samt apnaa rukh badaltaa kyuun nahin
raat to guzri magar suraj nikaltaa kyuun nahin

Afsar Mahpuri
Afsar Mahpuri
Afsar Mahpuri
Popular Shayari
8 totalham kahaan honge na jaane is tamaashaa-gaah mein
kis tamaashaai se pahle kis tamaashaai ke baad
na jaane is qadar kyuun aap divaane se Darte hain
charaagh-e-anjuman hain aur parvaane se Darte hain
kahaan thi manzil-e-maqsud apni qismat mein
kisi ki raahguzar bhi mili hai mushkil se
ham to us vaqt samajhte hain ki aati hai bahaar
dasht se jab koi jhankaar si aa jaati hai
bahaar aaegi gulshan mein to daar-o-gir bhi hogi
jahaan ahl-e-junun honge vahaan zanjir bhi hogi
ye irtiqaa-e-bashar ki hai kaun si manzil
ki is ki zad mein khudaa bhi hai kaaenaat bhi hai
daagh dil ke hain salaamat to koi baat nahin
tirgi laakh sahi subh kaa imkaan rakhnaa
Ghazalغزل
غم حیات کے پیش و عقب نہیں پڑھتا یہ دور وہ ہے جو شعر و ادب نہیں پڑھتا کوئی تو بات ہے روداد خون ناحق میں کہیں کہیں سے وہ پڑھتا ہے سب نہیں پڑھتا کسی کا چہرۂ تاباں کہ ماہ رخشندہ جو پڑھنے والا ہے قرآں وہ کب نہیں پڑھتا وہ کون ہے جو تجھے رات دن نہیں لکھتا وہ کون ہے جو تجھے روز و شب نہیں پڑھتا وہ اب تو اس قدر اظہار حق سے ڈرتا ہے اگر لکھا ہو کہیں لب تو لب نہیں پڑھتا نہ جانے ان دنوں کیا ہو گیا ہے ساقی کو نگاہ رند میں حسن طلب نہیں پڑھتا اسی کا رنگ ہے افسرؔ اسی کی خوشبو ہے مرا کلام کوئی بے سبب نہیں پڑھتا
gham-e-hayaat ke pesh-o-aqab nahin paDhtaa
41 views
ان سے ہر حال میں تم سلسلہ جنباں رکھنا کچھ مداوائے غم گردش دوراں رکھنا اپنے قابو میں ذرا گیسوئے پیچاں رکھنا راس آتا نہیں دنیا کو پریشاں رکھنا اس اندھیرے میں بھٹک جائیں نہ یادیں ان کی اپنی مژگاں پہ چراغوں کو فروزاں رکھنا آج کل بکتے ہیں بازار میں انساں کے ضمیر تم ہو انسان تو پھر وقعت انساں رکھنا داغ دل کے ہیں سلامت تو کوئی بات نہیں تیرگی لاکھ سہی صبح کا امکاں رکھنا موسم شہر نگاراں کا کوئی ٹھیک نہیں گوشۂ دل میں کوئی آتش سوزاں رکھنا تم سے سچ پوچھو تو اتنی ہے گزارش میری اپنے افسرؔ کو خزاں میں بھی غزل خواں رکھنا
un se har haal mein tum silsila-jumbaan rakhnaa
41 views
سرشک غم کی روانی تھمی ہے مشکل سے جو بات کہنی تھی ان سے کہی ہے مشکل سے نہ جانے اہل جنوں پر اب اور کیا گزرے ابھی تو فصل بہاراں کٹی ہے مشکل سے شب فراق نہ پوچھو کہ کس طرح گزری سحر ہوئی تو ہے لیکن ہوئی ہے مشکل سے لگا ہوا ہے یہ دھڑکا کہ بجھ نہ جائے کہیں ہوا میں شمع محبت جلی ہے مشکل سے کہاں تھی منزل مقصود اپنی قسمت میں کسی کی راہ گزر بھی ملی ہے مشکل سے
sarishk-e-gham ki ravaani thami hai mushkil se
41 views
وہ ہماری سمت اپنا رخ بدلتا کیوں نہیں رات تو گزری مگر سورج نکلتا کیوں نہیں ٹھیک اٹھتے ہیں قدم بھی راہ بھی ہموار ہے بوجھ اپنی زندگی کا پھر سنبھلتا کیوں نہیں جس طرح وہ چاہتا ہے ڈھال لیتا ہے ہمیں وہ ہمارے دل کے پیمانے میں ڈھلتا کیوں نہیں کیا محبت میں کبھی ہوتی ہے ایسی کیفیت وہ قریب جاں ہے لیکن دل بہلتا کیوں نہیں آدمی کے دل کا جوہر یوں تو ایماں ہے مگر آج کل بازار میں سکہ یہ چلتا کیوں نہیں جانے کیسی ہیں یہ زنجیریں ہمارے پاؤں میں گرمئ رفتار سے لوہا پگھلتا کیوں نہیں اس مآل شوق پر سب ہاتھ ملتے ہیں مگر تو کبھی افسرؔ کف افسوس ملتا کیوں نہیں
vo hamaari samt apnaa rukh badaltaa kyuun nahin
41 views
شب کو پازیب کی جھنکار سی آ جاتی ہے بیچ میں پھر کوئی دیوار سی آ جاتی ہے ان کا انداز نظر دیکھ کے محفل میں کبھی مجھ میں بھی جرأت اظہار سی آ جاتی ہے اس ادا سے کبھی چلتی ہے نسیم سحری خشک پتوں میں بھی رفتار سی آ جاتی ہے ہم تو اس وقت سمجھتے ہیں کہ آتی ہے بہار دشت سے جب کوئی جھنکار سی آ جاتی ہے
shab ko paazeb ki jhankaar si aa jaati hai
40 views
کیا بتائیں حال دل ان کی شناسائی کے بعد حبس بڑھتا ہی چلا جاتا ہے پروائی کے بعد ایک مدت پر خیال ان کا کہاں سے آ گیا کتنی اچھی انجمن لگتی ہے تنہائی کے بعد جب نظر آیا نہ ساحل ان کی چشم ناز میں کیا دکھائی دے گا وہ دریا کی گہرائی کے بعد در بدر کی ٹھوکریں کھائیں محبت میں تو کیا ہو گئے ہم محترم کچھ اور رسوائی کے بعد ہم کہاں ہوں گے نہ جانے اس تماشا گاہ میں کس تماشائی سے پہلے کس تماشائی کے بعد ان کے بارے میں فقط اتنا ہمیں معلوم ہے اب وہ رہتے ہیں ہمارے دل کی انگنائی کے بعد خوب ہے افسرؔ ہمیں اپنی حقیقت کی خبر کیا ہمارا نالۂ دل ان کی شہنائی کے بعد
kyaa bataaein haal-e-dil un ki shanaasaai ke baad
40 views





