"hai hukm-e-am ishq alaihis-salam ka puujo buton ko bhed kuchh in men khuda ke hain"

Ahmad Husain Mail
Ahmad Husain Mail
Ahmad Husain Mail
Sherشعر
See all 37 →hai hukm-e-am ishq alaihis-salam ka
ہے حکم عام عشق علیہ السلام کا پوجو بتوں کو بھید کچھ ان میں خدا کے ہیں
pyaar apne pe jo aata hai to kya karte hain
پیار اپنے پہ جو آتا ہے تو کیا کرتے ہیں آئینہ دیکھ کے منہ چوم لیا کرتے ہیں
jitne achchhe hain main huun un men bura
جتنے اچھے ہیں میں ہوں ان میں برا ہیں برے جتنے ان میں اچھا ہوں
mohabbat ne 'ma.il' kiya har kisi ko
محبت نے مائلؔ کیا ہر کسی کو کسی پر کسی کو کسی پر کسی کو
ramazan men tu na ja ru-ba-ru un ke 'ma.il'
رمضاں میں تو نہ جا رو بہ رو ان کے مائلؔ قبل افطار بدل جائے گی نیت تیری
agarche vo be-parda aa.e hue hain
اگرچہ وہ بے پردہ آئے ہوئے ہیں چھپانے کی چیزیں چھپائے ہوئے ہیں
Popular Sher & Shayari
74 total"pyaar apne pe jo aata hai to kya karte hain a.ina dekh ke munh chuum liya karte hain"
"jitne achchhe hain main huun un men bura hain bure jitne un men achchha huun"
"mohabbat ne 'ma.il' kiya har kisi ko kisi par kisi ko kisi par kisi ko"
"ramazan men tu na ja ru-ba-ru un ke 'ma.il' qabl-e-iftar badal ja.egi niyyat teri"
"agarche vo be-parda aa.e hue hain chhupane ki chizen chhupa.e hue hain"
mohabbat ne 'maail' kiyaa har kisi ko
kisi par kisi ko kisi par kisi ko
musalmaan kaafiron mein huun musalmaanon mein kaafir huun
ki quraan sar pe but aankhon mein hai zunnaar pahlu mein
jitne achchhe hain main huun un mein buraa
hain bure jitne un mein achchhaa huun
duur se yuun diyaa mujhe bosa
honT ki honT ko khabar na hui
agarche vo be-parda aae hue hain
chhupaane ki chizein chhupaae hue hain
naaz kar naaz tire naaz pe hai naaz mujhe
meri tanhaai hai partav tiri yaktaai kaa
Ghazalغزل
samajh ke huur baDe naaz se lagaai choT
سمجھ کے حور بڑے ناز سے لگائی چوٹ جو اس نے آئنہ دیکھا تو خود ہی کھائی چوٹ نظر لڑی جو نظر سے تو دل پر آئی چوٹ گرے کلیم سر طور ایسی کھائی چوٹ لبوں پہ بن گئی مسی جو دل پر آئی چوٹ جگہ بدل کے لگی کرنے خود نمائی چوٹ بڑے دماغ سے مارا نظر سے جب مارا بڑے غرور سے آئی جو دل پر آئی چوٹ کسی کا طور پہ نکلا ہے ہاتھ پردے سے بڑا مزا ہو کرے گر تری کلائی چوٹ یہ دوڑ دھوپ لڑکپن کی یک قیامت ہے کہ ٹھوکروں سے قیامت نے خوب کھائی چوٹ ابھی اٹھی نہ تھی نیچی نگاہ ظالم کی تڑپ کے دل نے کہا وہ جگر پہ آئی چوٹ جو آئے حشر میں وہ سب کو مارتے آئے جدھر نگاہ پھری چوٹ پر لگائی چوٹ جو دل کا آئنہ مل مل کے ہم نے صاف کیا پھسل پھسل کے تمہاری نظر نے کھائی چوٹ کلف نہیں ہے نشاں ہے یہ چاند ماری کا ہمارے چاند نے لو چاند پر لگائی چوٹ غش آ رہا ہے مجھے ذکر لن ترانی سے لگی ہے دل پہ مرے لو سنی سنائی چوٹ رکیں گے کیا کف گستاخ دست رنگیں سے کہیں نہ کھائے ترا پنجۂ حنائی چوٹ دل و جگر کو بتا کر وہ لوٹنا میرا وہ پوچھنا ترا کس کس جگہ پر آئی چوٹ مریض ہجر یہ سمجھا جو چمکی چرخ پہ برق یہ آگ سینکنے لائی شب جدائی چوٹ اٹھے تڑپ کے اٹھے تو گرے گرے تو مرے پھڑک کے رہ گئے وہ چوٹ پر لگائی چوٹ پڑے گی آہ جو میری کھلیں گے بند قبا شب وصال کرے گی گرہ کشائی چوٹ گرا ہوں خلد سے لنکا میں پہلے طور پہ بعد جہاں جہاں میں گیا ساتھ ساتھ آئی چوٹ وہ جھانک جھانک کے لڑتے ہیں مجھ سے یہ کہہ کر جو ہم نے وار کیا تم نے کیوں بچائی چوٹ جو درد دل میں اٹھا ان کی یاد کھچ آئی دکھاتی ہے اثر جذب کہربائی چوٹ اٹھا اٹھا کے دل مضطرب نے دے ٹپکا گرا گرا کے مجھے چوٹ پر لگائی چوٹ نگاہ شوخ سے جس دم نگاہ شوق لڑی بڑا ہی لطف رہا یہ گئی وہ آئی چوٹ لگائی اس نے جو ٹھوکر تو جی اٹھا مائلؔ نکل کے جان پھر آئی کچھ ایسی کھائی چوٹ
qibla-e-aab-o-gil tumhin to ho
قبلۂ آب و گل تمہیں تو ہو کعبۂ جان و دل تمہیں تو ہو لا مکاں دور دل بہت نزدیک منفصل متصل تمہیں تو ہو میرے پہلو میں دل نہ کیوں ہو خوش دل کے پہلو میں دل تمہیں تو ہو تم سے مل کر خجل ہمیں تو ہیں ہم سے چھٹ کر خجل تمہیں تو ہو دل کی سختی کا ہے گلہ تم سے جس نے رکھی یہ سل تمہیں تو ہو جیتے جی مجھ کو مار ڈالو تم مالک جان و دل تمہیں تو ہو تم کو مائلؔ بہت ہے شرم گناہ رات دن منفعل تمہیں تو ہو
vo paara huun main jo aag mein huun vo barq huun jo sahaab mein huun
وہ پارہ ہوں میں جو آگ میں ہوں وہ برق ہوں جو سحاب میں ہوں زمیں پہ بھی اضطراب میں ہوں فلک پہ بھی اضطراب میں ہوں نہ میں ہوا میں نہ خاک میں ہوں نہ آگ میں ہوں نہ آب میں ہوں شمار میرا نہیں کسی میں اگرچہ میں بھی حساب میں ہوں اگرچہ پانی کی موج بن کر ہمیشہ میں پیچ و تاب میں ہوں وہی ہوں قطرہ وہی ہوں دریا جو عین چشم حباب میں ہوں سلایا کس نے گلے لگا کر کہ صور بھی تھک گیا جگا کر بپا ہے عالم میں شور محشر مجھے جو دیکھو تو خواب میں ہوں مزا ہے ساقی ترے کرم سے ظہور میرا ہے تیرے دم سے وہ بادہ ہوں جو ہوں میکدے میں وہ نشہ ہوں جو شراب میں ہوں الٰہی وہ گورے گورے تلوے کہیں نہ ہو جائیں مجھ سے میلے کہ خاک بن کر برنگ سرمہ ہمیشہ چشم رکاب میں ہوں جو بھیس اپنا بدل کے آیا تو رنگ اطلاق منہ سے دھویا کیا ہے پانی میں قید مجھ کو ہوا کی صورت حباب میں ہوں غضب ہے جوش ظہور تیرا پکارتا ہے یہ نور تیرا خدا نے اندھا کیا ہے جس کو اسی کے آگے حجاب میں ہوں ہوئی ہے دونوں کی ایک حالت نہ چین اس کو نہ چین مجھ کو ادھر وہ ہے محو شوخیوں میں ادھر جو میں اضطراب میں ہوں الٰہی مجھ پر کرم ہو تیرا نہ کھول اعمال نامہ میرا پکارتا ہے یہ خط قسمت کہ میں بھی فرد حساب میں ہوں دماغ میں ہوں قدح کشوں کے دہن میں آیا ہوں مہ وشوں کے نشہ وہ ہوں جو شراب میں ہوں مزا وو ہوں جو کباب میں ہوں وہ اپنا چہرا اگر دکھائے یقین اندھوں کو خاک آئے پکارتی ہے یہ بے حجابی کہ میں ازل سے حجاب میں ہوں علاحدہ کر کے خود سے مجھ کو جو تو نے بخشا تو خاک بخشا اگرچہ جنت مجھے ملی ہے الٰہی پھر بھی عذاب میں ہوں ہجوم نظروں کا ہے وہ منہ پر دیا ہے دونو کو جس نے دھوکا یقیں یہ مجھ کو پڑا ہے پردا گماں یہ ان کو نقاب میں ہوں جو مجھ کو اس سے جدا کرو گے تو میرا نقصان کیا کرو گے نہیں ہوں مانند صفر کچھ بھی اگرچہ میں بھی حساب میں ہوں نہ آیا مر کر بھی چین مجھ کو اٹھا مری خاک سے بگولا بتوں کا گیسو تو میں نہیں ہوں الٰہی کیوں پیچ و تاب میں ہوں جو حال پوچھو تو اک کہانی نشان پوچھو تو بے نشانی وہ ذرہ ہوں جو مٹا ہوا ہوں اگرچہ میں آفتاب میں ہوں مٹا اگرچہ مزار میرا چھٹا نہ وہ شہسوار میرا پکارتا ہے غبار میرا کہ میں بھی حاضر رکاب میں ہوں کرم کی مائلؔ پہ بھی نظر ہو نظر میں پھر چلبلا اثر ہو ازل سے امیدوار میں بھی الٰہی تیری جناب میں ہوں
shab-e-maah mein jo palang par mire saath soe to kyaa hue
شب ماہ میں جو پلنگ پر مرے ساتھ سوئے تو کیا ہوئے کبھی لپٹے بن کے وہ چاندنی کبھی چاند بن کے جدا ہوئے ہوئے وقت آخری مہرباں دم اولیں جو خفا ہوئے وہ ابد میں آ کے گلے ملے جو ازل میں ہم سے جدا ہوئے یہ الٰہی کیسا غضب ہوا وہ سمائے مجھ میں تو کیا ہوئے مرا دل بنے تو تڑپ گئے مرا سر بنے تو جدا ہوئے چلے ساتھ ساتھ قدم قدم کوئی یہ نہ سمجھا کہ ہیں بہم کبھی دھوپ بن کے لپٹ گئے کبھی سایہ بن کے جدا ہوئے ابھی ہیں زمانہ سے بے خبر رکھا ہاتھ رکھے یہ لاش پر اٹھو بس اٹھو کہا مان لو مری کیا خطا جو خفا ہوئے ہیں عجیب مرغ شکستہ پر نہ چمن میں گھر نہ قفس میں گھر جو گرے تو سایہ ہیں خاک پر جو اٹھے تو موج ہوا ہوئے وہ عرق عرق ہوئے جس گھڑی مجھے عمر خضر عطا ہوئی شب وصل قطرے پسینہ کے مرے حق میں آب بقا ہوئے کبھی شکل آئنہ روبرو کبھی طوطی اور کبھی گفتگو کبھی شخص بن کے گلے ملے کبھی عکس بن کے جدا ہوئے نہ تجلیاں ہیں نہ گرمیاں نہ شرارتیں ہیں نہ پھرتیاں ہمہ تن تھے دن کو تو شوخیاں ہمہ تن وہ شب کو حیا ہوئے مرے نالے ہیں کہ ازل ابد ترے عشوے ہیں کہ لب مسیح وہاں کن کا غلغلہ وہ بنے یہاں قم کی یہ جو صدا ہوئے گرے ذات میں تو ہے جملہ اوست اٹھے جب صفت میں ہمہ از دست کہا کون ہو تو ملے رہے کہا نام کیا تو جدا ہوئے کئے اس نے بزم میں شعبدے ملی مہندی ہاتھ پہ شمع کے جو پتنگے رات کو جل گئے وہ تمام مرغ حنا ہوئے مرے دل کے دیکھو تو ولولے کہ ہر ایک رنگ میں جا ملی جو گھٹے تو ان کا دہن بنے جو بڑھے تو ارض و سما ہوئے وہی فرش و عرش نشیں رہے ہوئے نام الگ جو کہیں رہے گئے دیر میں تو صنم بنے گئے لا مکاں تو خدا ہوئے جو تصور ان کا جدا ہوا دل بے خبر نے یہ دی صدا ابھی ہم بغل تھے کدھر گئے ابھی گود میں تھے وہ کیا ہوئے کبھی سوزشیں کبھی آفتیں کبھی رنجشیں کبھی راحتیں ملیں چار ہم کو یہ نعمتیں ترے عشق میں جو فنا ہوئے ہمیں شوق یہ کہ ہو ایک طور اسے ذوق یہ کہ ہو شکل اور بنے آگ تو بجھے آب میں ملے خاک میں تو ہوا ہوئے گئے سر سے جبکہ وہ تا کمر تو الف ادھر کا ہوا ادھر ترا جوڑا کھلتے ہی بال سب پس پشت آ کے بلا ہوئے کوئی دب گیا کوئی مر گیا کوئی پس گیا کوئی مٹ گیا ترے عشوے سے جب سے فلک بنے ترے غمزے جب سے قضا ہوئے مجھے گدگدی سے غش آ گیا تو ہلا کے شانہ یہی کہا ابھی ہنستے تھے ابھی مر گئے ابھی کیا تھے تم ابھی کیا ہوئے کہو کافروں سے کریں خوشی کہ یہ مسئلہ ہے تناسخی مرے نالے خاک میں جب ملے تو سبو کے دست دعا ہوئے پس وصل ہم جو سرک گئے تو وہ کھلکھلا کے پھڑک گئے کہا شوخیوں نے چلو ہٹو کہ حضور تم سے خفا ہوئے تمہیں لوگ کہتے ہیں نوجواں کہ ہو بیس تیس کے درمیاں کہو مجھ سے مائلؔ خوش بیاں وہ تمہارے ولولے کیا ہوئے
vo but pari hai nikaalein na baal-o-par taaviz
وہ بت پری ہے نکالیں نہ بال و پر تعویذ ہیں دونوں بازو پہ اس کے ادھر ادھر تعویذ وہ ہم نہیں جو ہوں دیوانے ایسے کاموں سے کسے پلاتے ہو پانی میں گھول کر تعویذ اٹھے گا پھر نہ کلیجے میں میٹھا میٹھا درد اگر لکھے مرے دل پر تری نظر تعویذ کہاں وہ لوگ کہ جن کے عمل کا شہرا تھا کچھ اس زمانے میں رکھتا نہیں اثر تعویذ پلایا سانپ کو پانی جو من نکال لیا نہانے بیٹھے ہیں چوٹی سے کھول کر تعویذ وہاں گیا جو کوئی دل ہی بھول کر آیا رکھے ہیں گاڑ کے اس نے ادھر ادھر تعویذ پس فنا بھی محبت کا سلسلہ نہ مٹا ترے گلے میں ہے اور میری قبر پر تعویذ یہ بھید ہے کہ نہ مردے ڈریں فرشتوں سے بنا کے قبر بناتے ہیں قبر پر تعویذ یہ کیا کہ زلف میں رکھا ہے باندھ کر مرا دل اسے بھی گھول کے پی جاؤ جان کر تعویذ جو چاند سے ہیں بدن ہیں وہ چاند تاروں میں گلوں میں ہیکلیں ہیکل کے تا کمر تعویذ ہوئے ہیں حضرت مائلؔ بھی دل میں اب قائل کچھ ایسا لکھتی ہے اے جاں تری نظر تعویذ
khaDe hain muusaa uThaao pardaa dikhaao tum aab-o-taab-e-aariz
کھڑے ہیں موسیٰ اٹھاؤ پردا دکھاؤ تم آب و تاب عارض حجاب کیوں ہے کہ خود تجلی بنی ہوئی ہے حجاب عارض نہ رک سکے گی ضیائے عارض جو سد رہ ہو نقاب عارض وہ ہوگی بے پردہ رکھ کے پردا غضب کی چنچل ہے تاب عارض چھپا نہ منہ دونوں ہاتھ سے یوں تڑپتی ہے برق تاب عارض لگا نہ دے آگ انگلیوں میں یہ گرمیٔ اضطراب عارض جو ان کو لپٹا کے گال چوما حیا سے آنے لگا پسینہ ہوئی ہے بوسوں کی گرم بھٹی کھنچے نہ کیوں کر شراب عارض پری جو دیکھے کہے تڑپ کر جو حور دیکھے کہے پھڑک کر تمہارا گیسو جواب گیسو تمہارا عارض جواب عارض حضور گھونگھٹ اٹھا کے آئیں بڑی چمک کس میں ہے دکھائیں ادھر رہے آفتاب محشر ادھر رہے آفتاب عارض چھپانا کیا ایک کا تھا منظور آج تک ہیں جو چار مشہور زبور توریت مصحف انجیل پانچویں ہے کتاب عارض نہ کیوں ہو دعویٰ برابری کا وہاں ملا تل یہاں سویدا یہ نقطۂ انتخاب عارض ہے وہ نقطۂ انتخاب عارض پڑا ہوں غش میں مجھے سنگھا دو پسینہ چہرے کا زلف کی بو نہیں ہے کم لخلخے سے مجھ کو یہ مشک گیسو گلاب عارض جو شعلہ رو منہ چھپا کے نکلا دھواں سر راہ کچھ کچھ اٹھا لگی وہ آتش بنے ہے جل کر نقاب عارض کباب عارض نہ جھیپو صبح وصال دیکھو تم آنکھ سے آنکھ تو ملاؤ لیے ہیں گن گن کے میں نے بوسے زبان پر ہے حساب عارض کرو نہ غصے سے لال چہرا بھوؤں میں ڈالو نہ بل خدارا نہیں مجال جلال ابرو نہیں ہے تاب عتاب عارض جو گال پر گال ہم رکھیں گے شب وصال ان کے ہاتھ اٹھیں گے طمانچے ماریں گے پیار سے وہ بجیں گے چنگ و رباب عارض کمر کو گردن کو دست و لب کو وصال میں لطف دے رہا ہے شباب زانو شباب بازو شباب سینہ شباب عارض جناب مائلؔ یہ کودک دل بتوں کی الفت میں ہوگا کامل پڑھاؤ قرآں کے بدلے اس کو بیاض گردن کتاب عارض





