tire pichhe musalsal bhaagne se
miri raftaar achchhi ho gai hai

Ahmad Muaz
Ahmad Muaz
Ahmad Muaz
Popular Shayari
8 totalye amiri bhi hai gharibi bhi
us ke office mein job karte hain
tum to ye bataa deti ho itni huun tumhaari
main sochtaa rahtaa huun ki kitnaa huun tumhaaraa
mujh ko iflaas ke ruThe hue maathe ki qasam
bakht mein likkhi gai ne'mat-e-avval tum ho
koi fursat se mujh ko dekhtaa aur
main apne kaam mein mashghul hotaa
vo bhi tere hain muntakhab-karda
jo tiraa intikhaab karte hain
main rizq-e-mohabbat huun so baTtaa huun baraabar
jitnaa bhi kisi kaa huun main utnaa huun tumhaaraa
vaqt pahchaan karaataa hai khare khoTe ki
kaam paD jaae to logon kaa pata chaltaa hai
Ghazalغزل
جو کہا اس نے مجھے پیار میں تبدیل کیا اس کی ہر بات کو اشعار میں تبدیل کیا ہم نے اخلاص کے انمول نگینے پا کر کثرت بزم کو دو چار میں تبدیل کیا ہجر کے خوف کو امکان میں رکھ کر ہم نے خواہش وصل کو بیکار میں تبدیل کیا ساری خوشیوں کا ملن ایک جگہ پر تھا معاذؔ جب ترے ہجر کو تہوار میں تبدیل کیا
jo kahaa us ne mujhe pyaar mein tabdil kiyaa
40 views
بچ کے جائیں بھی کہاں جان کو آئی ہوئی ہے آگ ایسی ہے کہ اپنوں کی لگائی ہوئی ہے تجھ پہ لازم ہے کچھ اچھا کرے اس کی خاطر اس نے امید اگر تجھ سے لگائی ہوئی ہے قہقہے کتنے ہی چھینے گی اتر کر مجھ میں جو اداسی مرے اعصاب پہ چھائی ہوئی ہے ورنہ ہر سمت اندھیرا نظر آنا تھا معاذؔ اس نے صد شکر کوئی شمع جلائی ہوئی ہے
bach ke jaaein bhi kahaan jaan ko aai hui hai
40 views
یہی تو اک خرابی ہے تمہاری سبھی کو دستیابی ہے تمہاری وہاں تک کا نظارہ پہلے کر لوں جہاں تک بے حجابی ہے تمہاری ہمارا کام ہے ناکام ہونا اور اس میں کامیابی ہے تمہاری طبیعت ٹھیک ہو تو کس طرح ہو کہ نیت میں خرابی ہے تمہاری
yahi to ik kharaabi hai tumhaari
40 views
ہمارے ہاتھ جو آتے نہیں ہیں اگر آ جائیں تو جاتے نہیں ہیں جنہیں ہم دیکھتے رہتے ہیں گھنٹوں انہیں اک آنکھ بھی بھاتے نہیں ہیں کسی دن دل میاں دو لخت ہوں گے اگر آپ ان کو سمجھاتے نہیں ہیں سوال ایسے ہی کر لیتا ہوں ان سے انہیں ویسے جواب آتے نہیں ہیں معاذؔ اس واسطے جھکتے نہیں ہم جو سیدھے ہوں وہ بل کھاتے نہیں ہیں
hamaare haath jo aate nahin hain
40 views
تو گزر جا اے مرے خواب طلسمات کی رات ورنہ ٹھہرا ہی رہوں گا میں یہاں رات کی رات صبح تک اس نے بھی افلاک میں کھو جانا ہے وہ ستارہ جو چمکتا ہے یہاں رات کی رات کیا اجازت ہے کہ اظہار تمنا کر لوں آپ کے در پہ میں آیا ہوں مناجات کی رات چاند تاروں کو اشاروں پہ نچاتا ہے معاذؔ تیرے آنے پہ سجاتا ہے ملاقات کی رات
tu guzar jaa ai mire khvaab-e-tilismaat ki raat
40 views
بظاہر کچھ نہیں قصہ ہمارا پس تصویر ہے چہرہ ہمارا خرابی ہے ستاروں میں ہمارے جسے چاہیں نہیں ہوتا ہمارا کوئی شیشہ نہیں جو ٹوٹ جائے بہت مضبوط ہے رشتہ ہمارا کہاں ہیں ہم کہیں بھی تو نہیں ہیں کہاں رکھا گیا ہونا ہمارا نظر بھر کر تجھے ہم دیکھتے ہیں مگر یہ دل نہیں بھرتا ہمارا جہاں ہر چیز کو ہونا فنا ہے وہاں پر کیا تمہارا کیا ہمارا
ba-zaahir kuchh nahin qissa hamaaraa
40 views





