SHAWORDS
Ahmad Sageer

Ahmad Sageer

Ahmad Sageer

Ahmad Sageer

poet
31Sher
31Shayari
26Ghazal

Sherشعر

See all 31

Popular Sher & Shayari

62 total

Ghazalغزل

See all 26
غزل · Ghazal

baDi gudaaz pashemaaniyon pe zinda rahe

بڑی گداز پشیمانیوں پہ زندہ رہے ہم اپنے خواب کی ویرانیوں پہ زندہ رہے انہیں لگا تھا کہ یہ لوگ مارے جائیں گے سنہرے لوگ ہرے پانیوں پہ زندہ رہے سکون بانٹنے والے نے میرے حق میں کہا اسے کہو کہ پریشانیوں پہ زندہ رہے تم اس کے ہونٹ پیالے کے ذائقے پے مرے ہم اس کی آنکھ کی حیرانیوں پہ زندہ رہے

غزل · Ghazal

faakhtaaon ke bikhere hue par le jaao

فاختاؤں کے بکھیرے ہوئے پر لے جاؤ یہ ضروری ہے یہی رخت سفر لے جاؤ اور تو کیا ہی بچا آنکھ کے ویرانے میں ہے کوئی خواب سا اک رات بدر لے جاؤ اے بھٹکنے کے ارادے سے نکلنے والو ہم سے کچھ دشت نوردی کا ہنر لے جاؤ ایک کشتی بڑی اترائے ہے دریا اوپر اس کے گالوں میں جو پڑتے ہیں بھنور لے جاؤ بیٹھے بیٹھے میں کہیں اور چلا جاتا ہوں یار تم اپنی محبت کا اثر لے جاؤ ہم نے جھک کر نہیں آنے کی قسم کھائی ہے پہلے ماتھے سے الجھتا ہوا در لے جاؤ حکم سلطان کی تعمیل تمہارے لیے ہے میں نہیں جا رہا چاہو تو یہ سر لے جاؤ

غزل · Ghazal

main anaayaas bhaTaktaa rahaa viraane mein

میں انایاس بھٹکتا رہا ویرانے میں اچھا خاصا تھا خدا اس کے بدن خانے میں بحر سے کھیلے ہوئے سارے شناور اک دن ڈوب جاتے ہیں کسی چاہ زنخدانے میں درد طوفان صفت ہیں انہیں دریا میں اتار موج رکنے کی نہیں آنکھ کے پیمانے میں ایک نقصان تجھے کھو کے سہا کافی تھا اور نقصان ہے اس بار تجھے پانے میں اک یہی بات بہت ہے ترا دیوانہ ہے اور کچھ بات نہیں ہے ترے دیوانے میں

غزل · Ghazal

dil ye jis aarzu se Dartaa hai

دل یہ جس آرزو سے ڈرتا ہے رات دن اس کے تئیں ہی مرتا ہے دکھ جلاون سے ذہن بھٹی پر یادیں پکتی ہیں پیٹ بھرتا ہے شام کے بعد شعر ہوتے ہیں شام کے بعد غم اترتا ہے ایک نا بینا عشق شام و سحر یوسفستاں کی سیر کرتا ہے دل گرفتہ اداسیوں کے دروں اک تبسم بڑا اکھرتا ہے یا بدن ہے یا عشق ہے کارن بے وجہ کون ہی سنورتا ہے

غزل · Ghazal

subh kaise hui ghazaalon ki

صبح کیسے ہوئی غزالوں کی رات تھی سرخ آنکھ والوں کی تیرگی کا گلا دباتے ہوئے سانس اکھڑنے لگی اجالوں کی روح پر جسم کی دوائی لگا بات رکھ التجائی چھالوں کی برف پگھلے تو پھر سفید بہے آرزو تھی چناب والوں کی عشق دھونی رماؤ رقص کرو یہ روایت ہے دل شوالوں کی ہم محرم نصیب لوگوں پر رت اترتی نہیں گلالوں کی

غزل · Ghazal

sabhi khudaaon se teri amaan chaahti hai

سبھی خداؤں سے تیری امان چاہتی ہے الٰہی اب کے زمیں آسمان چاہتی ہے اندھیرے بارگہہ رب سے اذن پاتے ہیں یہ روشنی ہی چراغوں کی جان چاہتی ہے اسے بدن کی حقیقت سے ہم کنار کرو وہ روح زادی غلط امتحان چاہتی ہے میں جانتا ہوں تری بات بن چکی ہے کہیں مگر یہ تلخ حقیقت گمان چاہتی ہے مجھے نگاہوں کی بھاشا نہیں سمجھ آتی مری امید تمہاری زبان چاہتی ہے ہمیں نہ باغ ارم چاہیئے نہ جام جم ہماری تیشہ مزاجی چٹان چاہتی ہے ہزار سالوں کی پیاسی یہ دشت کی دیوی نواح نجد کا ایک اور جوان چاہتی ہے

Similar Poets