SHAWORDS
A

Ahmad Shahid Khan

Ahmad Shahid Khan

Ahmad Shahid Khan

poet
3Sher
3Shayari
8Ghazal

Sherشعر

Popular Sher & Shayari

6 total

Ghazalغزل

See all 8
غزل · Ghazal

le ke phir zakhmon ki saughaat bahaaro aao

لے کے پھر زخموں کی سوغات بہارو آؤ چشم پر نم کے مقابل تو پھوہارو آؤ چند تنکوں کا جلانا تو بڑی بات نہیں عزم کو میرے جلاؤ تو شرارو آؤ غم کا سیلاب غضب دل کی شکستہ کشتی موج کے ساتھ ہی یادوں کے کنارو آؤ تکتے رہتے ہو کسے دور سے حیرانی سے دل کے صحرا میں کبھی چاند ستارو آؤ آمد یار ہو ہر سمت کنول کھلتے ہوں خواب میں ہی کبھی رنگین نظارو آؤ

غزل · Ghazal

saaraa aalam dhuaan dhuaan kyuun hai

سارا عالم دھواں دھواں کیوں ہے ہر طرف آہ اور فغاں کیوں ہے بند ہے آج کیا در رحمت ہر دعا میری رائیگاں کیوں ہے پی لیا کیا ستم نے آب حیات خوف سے بند ہر زباں کیوں ہے ساتھ چلتی ہے میرے ہر جانب اس قدر برق مہرباں کیوں ہے آ کے ساحل پہ کون ڈوب گیا موج کی ہر ادا جواں کیوں ہے جسم ہے روح مر چکی کب کی مرگ پہ زیست کا گماں کیوں ہے جب فنا ہی نصیب ہے سب کا پھر یہ ہنگامۂ جہاں کیوں ہے

غزل · Ghazal

duniyaa sabhi baatil ki talabgaar lage hai

دنیا سبھی باطل کی طلب گار لگے ہے جس روح کو دیکھو وہی بیمار لگے ہے جب بھوک سے مر جاتا ہے دوراہے پہ کوئی بستی کا ہر اک شخص گنہ گار لگے ہے شاید نئی تہذیب کی معراج یہی ہے حق گو ہی زمانے میں خطا کار لگے ہے وہ تیری وفا کی ہو کہ دنیا کی جفا کی مت چھیڑ کوئی بات کہ تلوار لگے ہے کیا ظرف ہے ہر ظلم پہ خاموش ہے دنیا اس دور کا انسان پر اسرار لگے ہے جس نے کبھی دریا کا تلاطم نہیں دیکھا ساحل بھی اسے دور سے منجھدار لگے ہے

غزل · Ghazal

jab tak ghubaar-e-raah miraa ham-safar rahaa

جب تک غبار راہ مرا ہم سفر رہا رستہ تو تھا طویل مگر مختصر رہا ہر چند ہو گیا ہے ثریا سے بھی بلند لیکن شجر جفا کا سدا بے ثمر رہا اہل جنوں نے توڑ دیئے وہ حصار بھی ہوش و خرد کا تیشہ جہاں بے ضرر رہا یہ مے کدہ ہے جائے عبادت ہے رند کی دنیا کا ہر فریب یہاں بے اثر رہا فصل خزاں میں اس کا کوئی تذکرہ نہیں صدیوں تلک بہار کا جو راہ بر رہا

غزل · Ghazal

dil ki khvaahish baDhte baDhte tufaan hoti jaati hai

دل کی خواہش بڑھتے بڑھتے طوفاں ہوتی جاتی ہے زر کی چاہت اب لوگوں کا ایماں ہوتی جاتی ہے پیار محبت ہمدردی کے رشتے تھے انسانوں میں دل والوں کو اب یہ دنیا زنداں ہوتی جاتی ہے مرگھٹ کا سا سناٹا ہے گھر کوچے بازاروں میں دل کی بستی رفتہ رفتہ ویراں ہوتی جاتی ہے انسانوں کے خوں کے پیاسے اور نہیں خود انساں ہیں عقل بچاری دیکھ کے دنیا حیراں ہوتی جاتی ہے جھوٹے وعدے سنتے سنتے سپنے چکنا چور ہوئے مایوسی بے زاری دل میں مہماں ہوتی جاتی ہے

غزل · Ghazal

junun ki rasm zamaane mein aam ho na saki

جنوں کی رسم زمانے میں عام ہو نہ سکی ہوس تھی چاہ وفا کی غلام ہو نہ سکی لکھے تھے دار و رسن جس کسی کی قسمت میں پھر اس کی زلف کے سائے میں شام ہو نہ سکی مری اداسی کا باعث شب فراق نہیں بسر یہ رات بصد اہتمام ہو نہ سکی مری نگاہ اٹھی ہی رہی سوئے جاناں تجلیوں میں گھری ہم کلام ہو نہ سکی روا جہاں کو کہ مجنوں کو سنگسار کرے قبائے زیست جنوں کی نیام ہو نہ سکی خرد کی بات بھی سنتے کہاں ملی فرصت جنوں کی بات لحد تک تمام ہو نہ سکی

Similar Poets