SHAWORDS
Ahmad Ziya

Ahmad Ziya

Ahmad Ziya

Ahmad Ziya

poet
8Sher
8Shayari
9Ghazal

Sherشعر

See all 8

Popular Sher & Shayari

16 total

Ghazalغزل

See all 9
غزل · Ghazal

milaa jo dhuup kaa sahraa badan shajar na banaa

ملا جو دھوپ کا صحرا بدن شجر نہ بنا میں وہ ہوں خود جو کبھی اپنا ہم سفر نہ بنا نگر نگر میں نئی بستیاں بسائی گئیں ہزار چاہا مگر پھر بھی اپنا گھر نہ بنا یہ بات بات ہے دل کی تو پھر جھجک کیسی یہ نقش نقش وفا ہے تو سوچ کر نہ بنا چمکتے دن کے اجالوں سے آشنا ہو کر اندھیری رات میں سائے کو ہم سفر نہ بنا

غزل · Ghazal

har qadam par mere armaanon kaa khuun

ہر قدم پر میرے ارمانوں کا خوں زندگی تیرا کہاں تک ساتھ دوں آندھیوں کی زد میں ہے میرا وجود اور میں دیوار کی تصویر ہوں کون ہو تم اور کہاں سے آئے ہو سوچتا ہوں اپنے سائے سے کہوں رنگ کی دنیا سے میں اکتا گیا پھول رت میں زہر پی کر سو رہوں چاہتا ہوں تم کو خوشبو کی طرح اب کہ میں آواز ہی آواز ہوں اب کوئی میرا نہیں میرے سوا آج اپنے آپ دل کو توڑ لوں میں کہ پیغمبر نہیں احمد ضیاؔ کون سا پیغام اس دنیا کو دوں

غزل · Ghazal

fikr ke saare dhaage TuuTe zehn bhi ab maazur huaa

فکر کے سارے دھاگے ٹوٹے ذہن بھی اب معذور ہوا اب کے بہار یہ کیسی آئی کیسا یہ دستور ہوا کل پرزوں کا روح رواں یہ اور وہ سرمائے کی جونک لیکن اس کی نظروں میں یہ دھرتی کا ناسور ہوا دن کی سفیدی تیری نظر میں رات کی کالی چادر ہے رات کا خونی اندھیارا بھی تیری نظر میں نور ہوا جب سے دیکھا ہے کھیتوں میں میں نے ظالم دھوپ کا روپ تب سے تیری زلف کا سایہ دور بہت ہی دور ہوا ظلم کو اس نے ظلم کہا ہے جبر کو اس نے جبر کہا یعنی ضیاؔ اب ضیاؔ نہیں ہے وقت کا وہ منصور ہوا

غزل · Ghazal

ehsaas ki manzil se guzar jaaegaa aakhir

احساس کی منزل سے گزر جائے گا آخر مجھ میں ہے جو انسان وہ مر جائے گا آخر اک دن تو تری راہ میں پتھرائیں گی آنکھیں یہ جسم بھی ریزوں میں بکھر جائے گا آخر اے دوست یہاں عرض ہنر جاں کا زیاں ہے تو گہرے سمندر میں اتر جائے گا آخر میں رنگ سحر تیرے لیے ڈھونڈ کے لاؤں تو شام کے میلے میں کدھر جائے گا آخر

غزل · Ghazal

vo khvaab saa paikar hai gul-e-tar ki tarah hai

وہ خواب سا پیکر ہے گل تر کی طرح ہے آنکھوں میں گئی شام کے منظر کی طرح ہے احساس دلاتی ہے یہ پھیلی ہوئی خوشبو اس گھر کی محبت بھی مرے گھر کی طرح ہے میں آئینہ جیسا ہوں کوئی توڑ نہ ڈالے ہر شخص مری راہ میں پتھر کی طرح ہے اک میں ہوں کہ لہروں کی طرح چین نہیں ہے اک وہ ہے کہ خاموش سمندر کی طرح ہے وہ جس نے ضیاؔ حرف بھی دل میں نہ اتارا وہ آج سر بزم سخن ور کی طرح ہے

غزل · Ghazal

zaraa sukun bhi sahraa ke pyaar ne na diyaa

ذرا سکون بھی صحرا کے پیار نے نہ دیا مسافروں کو ہوا نے پکارنے نہ دیا تجھے بھی دے نہ سکے چین وہ گلاب کے پھول مجھے بھی اذن تبسم بہار نے نہ دیا نہ جانے کتنے مراحل کے بعد پایا تھا وہ ایک لمحہ جو تو نے گزارنے نہ دیا کہاں گئے وہ جو آباد تھے خرابے میں پتا کسی کا دل بے قرار نے نہ دیا میں آپ اپنے لیے دشمنوں سے بڑھ کر تھا ضیاؔ یہ دل تھا مرا جس نے ہارنے نہ دیا

Similar Poets