uThaane vaale hamein bazm se zaraa ye dekh
ki TuTtaa hai gharibon kaa aasraa kaise
Aish Meeruthi
Aish Meeruthi
Aish Meeruthi
Popular Shayari
8 totalsaail aayaa hai tire dar pe khudi ko kho kar
dekhnaa hai mujhe kyaa aaj 'ataa hotaa hai
meri jannat tiri nigaah-e-karam
mujh se phir jaae ye khudaa na kare
na milne par bhi use 'aish' pyaar kartaa huun
yuun unchaa kar diyaa meaar-e-zindagi main ne
baDhti rahi nigaah bahakte rahe qadam
guzraa hai is tarah bhi zamaana shabaab kaa
aankhon ko tamanna hai khaak-e-dar-e-jaanaan ki
khaak-e-dar-e-har-kucha iksir nahin hoti
karun kis kaa gila kahte hue bhi sharm aati hai
raqib afsos apne hi puraane aashnaa nikle
ye bhi koi zindagi mein zindagi hai ham-nafas
dil kahin hai ham kahin hain aur jaanaana kahin
Ghazalغزل
اللہ رے یہ رنگ یہ جلوہ شباب کا جیسے کھنچا ہو آنکھ میں نقشہ شراب کا پردہ میں کائنات کے موجود ہر جگہ اس پر یہ اہتمام یہ عالم حجاب کا للچا کے فرط شوق میں آنسو نکل پڑے واعظ نے ہنس کے نام لیا جب شراب کا تاب نظارۂ رخ انور نہیں اسے سورج کی سمت رخ ہے گل آفتاب کا بڑھتی رہی نگاہ بہکتے رہے قدم گزرا ہے اس طرح بھی زمانہ شباب کا ہر اشک واقعات حسیں کی ہے یادگار عالم نہ پوچھئے مری چشم پر آب کا اے عیشؔ جب سے بادۂ لا تقنطو ملا باقی رہا نہ ڈر ہمیں روز حساب کا
allaah re ye rang ye jalva shabaab kaa
40 views
یہ گل بھی زینت آغوش دریائے قضا نکلے جنہیں ہم با وفا سمجھے تھے وہ بھی بے وفا نکلے نتیجہ جستجوئے شوق کا کیا جانے کیا نکلے پس پردہ یہ ممکن ہے وہی رنگیں ادا نکلے کرشمہ ہے یہ سارا عشق کا ہی ورنہ کب ممکن لہو کے قطرہ قطرہ سے انا الحق کی صدا نکلے متاع زندگی آرام جاں صبر و قرار دل خدا کی شان ہے ہم ان کو کیا سمجھے وہ کیا نکلے ہوئے مجروح برگ گل انہیں خاروں سے گلشن کے چمن کے پاسباں ہی بانی جور و جفا نکلے معاذ اللہ الزام اپنی بربادی کا غیروں پر ڈبونے والے کشتی کے جب اپنے ناخدا نکلے کروں کس کا گلہ کہتے ہوئے بھی شرم آتی ہے رقیب افسوس اپنے ہی پرانے آشنا نکلے ہمارے بعد وہ آئے عیادت کو تو کیا آئے کسی کے اس طرح نکلے اگر ارماں تو کیا نکلے بہت مشکل ہے عیشؔ اس دور میں نکلے کوئی حسرت یہ کیا کم ہے کوئی دامن اگر اپنا بچا نکلے
ye gul bhi zinat-e-aaghosh-e-dariyaa-e-qazaa nikle
40 views
ہر نفس آئینہ موج فنا ہوتا ہے آہ کرتا ہوں تو درد اور سوا ہوتا ہے کھنچتی جاتی ہے اسی سمت جبین جدہ جس طرف آپ کا نقش کف پا ہوتا ہے پھوٹ جا آبلۂ پا کہ بڑھے تیرا وقار خار صحرا تجھے انگشت نما ہوتا ہے جنبشیں ہونے لگیں پردۂ زنگاری میں نالۂ عاشق دلگیر بلا ہوتا ہے وہ نہ آئیں گے انہیں ضد ہے تمنا سے مری میں کہوں لاکھ تو کیا میرا کہا ہوتا ہے ہے جبیں خاک پہ اور عرش معلیٰ پہ دماغ نقشہ آنکھوں میں ترے در کا کھنچا ہوتا ہے سائل آیا ہے ترے در پہ خودی کو کھو کر دیکھنا ہے مجھے کیا آج عطا ہوتا ہے ہر روش ان کی قیامت ہے قیامت اے عیشؔ جس طرف جاتے ہیں اک حشر بپا ہوتا ہے
har nafas aaina mauj-e-fanaa hotaa hai
40 views
یہ انقلاب ہوا جانے رونما کیسے بدل گئے تری محفل میں آشنا کیسے تمہاری بزم میں آخر میں لٹ گیا کیسے یہ سانحہ تو ہوا ہے مگر ہوا کیسے ذرا یہ دیکھ کہ میرے سجود پیہم سے مٹا تو نقش کف پا مگر مٹا کیسے وفا کا غیر کی بھی امتحان ہو جائے ہمارے ہوتے ہوئے اس نے یہ کہا کیسے اٹھانے والے ہمیں بزم سے ذرا یہ دیکھ کہ ٹوٹتا ہے غریبوں کا آسرا کیسے میں کوئی قطرۂ شبنم تھا تابش رخ سے وجود حرف غلط کی طرح مٹا کیسے ہے عیشؔ ساتھ کوئی راہبر نہ ہم راہی کٹے گی دیکھیے تنہا رہ وفا کیسے
ye inqalaab huaa jaane runumaa kaise
40 views
کہیں ایسا نہ ہو خدا نہ کرے مجھ کو تجھ سے کوئی جدا نہ کرے میری جنت تری نگاہ کرم مجھ سے پھر جائے یہ خدا نہ کرے بے وفائی بھی ایک نسبت ہے کیا گلہ اس سے گر وفا نہ کرے راندۂ محفل صنم زاہد کیا کرے گر خدا خدا نہ کرے اس کی رحمت پہ گر یقین ہے عیشؔ ہے خطا گر کوئی خطا نہ کرے
kahin aisaa na ho khudaa na kare
40 views
ہے جمال حسن کا پرتو صنم خانہ کہیں بت کدہ کعبہ کہیں ہے اور مے خانہ کہیں سیدھے رستہ سے بھٹک جائے نہ فرزانہ کہیں آ نہ جائے عقل کی باتوں میں دیوانہ کہیں یہ بھی کوئی زندگی میں زندگی ہے ہم نفس دل کہیں ہے ہم کہیں ہیں اور جانانہ کہیں تابش برق ستم سے یا الٰہی جل نہ جائے عندلیب زار کا گلشن میں کاشانہ کہیں پھر نہ دہرائے کہیں تاریخ انجام ستم ہو نہ جائے صبر کا لبریز پیمانہ کہیں ان کے دامن سے لپٹ ہی جائے گی بس خاک دل ضد پہ آ جائے نہ اپنا جوش رندانہ کہیں کیسی اجڑی ہے یہ محفل عیشؔ ہنگام سحر شمع کشتہ ہے کہیں اور خاک پروانہ کہیں
hai jamaal-e-husn kaa partav sanam-khaana kahin
40 views





