"yahin se raah koi asman ko jaati thi khayal aaya hamen siDhiyan utarte hue"

Akhilesh Tiwari
Akhilesh Tiwari
Akhilesh Tiwari
Sherشعر
See all 13 →yahin se raah koi asman ko jaati thi
یہیں سے راہ کوئی آسماں کو جاتی تھی خیال آیا ہمیں سیڑھیاں اترتے ہوئے
vo shakl vo shanakht vo paikar ki aarzu
وہ شکل وہ شناخت وہ پیکر کی آرزو پتھر کی ہو کے رہ گئی پتھر کی آرزو
phislan ye kinaron pa ye Thahrav nadi ka
پھسلن یہ کناروں پہ یہ ٹھہراؤ ندی کا سب صاف اشارہ ہیں کہ گہرائی بہت ہے
sub.h-savera daftar biivi bachche mahfil ninden raat
صبح سویرا دفتر بیوی بچے محفل نیندیں رات یار کسی کو مشکل بھی ہوتی ہے اس آسانی پر
hansna rona paana khona marna jiina paani par
ہنسنا رونا پانا کھونا مرنا جینا پانی پر پڑھیے تو کیا کیا لکھا ہے دریا کی پیشانی پر
be-sabab kuchh bhi nahin hota hai ya yuun kahiye
بے سبب کچھ بھی نہیں ہوتا ہے یا یوں کہیے آگ لگتی ہے کہیں پر تو دھواں ہوتا ہے
Popular Sher & Shayari
26 total"vo shakl vo shanakht vo paikar ki aarzu patthar ki ho ke rah ga.i patthar ki aarzu"
"phislan ye kinaron pa ye Thahrav nadi ka sab saaf ishare hain ki gahra.i bahut hai"
"sub.h-savera daftar biivi bachche mahfil ninden raat yaar kisi ko mushkil bhi hoti hai is asani par"
"hansna rona paana khona marna jiina paani par paDhiye to kya kya likkha hai dariya ki peshani par"
"be-sabab kuchh bhi nahin hota hai ya yuun kahiye aag lagti hai kahin par to dhuan hota hai"
subh-saveraa daftar biivi bachche mahfil nindein raat
yaar kisi ko mushkil bhi hoti hai is aasaani par
phislan ye kinaaron pa ye Thahraav nadi kaa
sab saaf ishaare hain ki gahraai bahut hai
hansnaa ronaa paanaa khonaa marnaa jiinaa paani par
paDhiye to kyaa kyaa likkhaa hai dariyaa ki peshaani par
khayaal aayaa hamein bhi khudaa ki rahmat kaa
sunaai jab bhi paDi hai azaan pinjre mein
har-dam badan ki qaid kaa ronaa fuzul hai
mausam sadaaein de to bikhar jaanaa chaahiye
be-sabab kuchh bhi nahin hotaa hai yaa yuun kahiye
aag lagti hai kahin par to dhuaan hotaa hai
Ghazalغزل
ghar ko bhi ghar kar na paae aur na viraani mili
گھر کو بھی گھر کر نہ پائے اور نہ ویرانی ملی بس یہی مشکل تھی اپنی صرف آسانی ملی منتظر کتنے خدا تھے ہر طرف اب کیا کہیں جب کے سجدوں کے لیے بس ایک پیشانی ملی اس گلی سے آج مدت بعد جانا پھر ہوا آج بھی حیرت سے تکتی ہم کو حیرانی ملی اجنبی اس بھیڑ میں تنہائی بھی آئی نظر دل کو کچھ تسکیں ہوئی اک شکل پہچانی ملی آنسوؤں سے رات جو نم ہو گیا تھا بے طرح آپ کے اس خواب کو کیا پھر سے تابانی ملی
kab tak ghuT kar jiite rahte sachchaai ke maare khvaab
کب تک گھٹ کر جیتے رہتے سچائی کے مارے خواب پلکوں کی دہلیز سے باہر نکلے پھر بنجارے خواب فطرت سے ہی آوارہ ہیں کب ٹھہرے جو ٹھہریں گے کیسے پلکوں پر اٹکے ہیں کچھ خوش رنگ تمہارے خواب اب مولیٰ ہی جانے ان میں اپنا کون پرایا کون ہنس ہنس کر ہر شب ملتے ہیں یوں تو اتنے سارے خواب جیون کی اس آپا دھاپی میں جو پیچھے چھوٹ گئے جانے اب کس حال میں ہوں گے وہ قسمت کے مارے خواب تعبیروں کی فصلیں کیسی اگتی ہیں کل دیکھیں گے ہم نے بھی بوئے ہیں شب بھر رنگ برنگے پیارے خواب کب اکھلیشؔ توقع کی تھی برفیلی اس گھاٹی سے آنکھوں سے برسیں گے اس کی بن کر یوں انگارے خواب
raushni tez hui koi sitaaraa TuuTaa
روشنی تیز ہوئی کوئی ستارا ٹوٹا دھار میں اب کے ندی کا ہی کنارا ٹوٹا تھرتھراتے ہوئے لب چپ تو لگا بیٹھے پر چپ نے ہی جوڑا بھی اظہار ہمارا ٹوٹا در بدر پھرتا کوئی خواب مرا آوارہ رات آنکھوں میں چلا آیا تھا ہارا ٹوٹا جانے کس موڑ پہ بچھڑی وہ صدا ماضی کی ایک تنکے کا سہارا تھا سہارا ٹوٹا دھوپ چڑھتے ہی پلاتا تھا جو صحرا پانی دھوپ ڈھلتے ہی طلسمی وہ نظارا ٹوٹا فکر و معانی کے چنے شعر اسی ملبے سے ہم نے تنہائی کا دیکھا جو ادارہ ٹوٹا
jin se Darte the maraasim un hadon tak aa gae
جن سے ڈرتے تھے مراسم ان حدوں تک آ گئے آپ سے پھر رفتہ رفتہ خود سے ہم اکتا گئے ریت پر کچھ دور تک دیکھے تھے ہم نے صاف صاف پھر غبار اٹھا کوئی وہ نقش بھی دھندھلا گئے خودکشی سورج نے کر لی یہ بتانے کے لیے کالے رنگوں کے پرندے آسماں پر چھا گئے چند جگنو ہیں یہاں پر اور مسلسل تیرگی صاحبو ہم شمع لے کر کس کھنڈر میں آ گئے وہ ولی ہے اور نہ بادہ خوار ہے دانشوروں آپ بھی ہم زاد سے میرا ہی دھوکا کھا گئے
joD kar rakkhi hui sab paai paai le uDi
جوڑ کر رکھی ہوئی سب پائی پائی لے اڑی دنیا احساسات کی گاڑھی کمائی لے اڑی مطمئن تھے راز دل ہم میں کہیں محفوظ ہے اس کو بھی تنہائی کی پر آوا جائی لے اڑی ایک صدا آئی قفس کے پار بھی کوئی جال ہے آشیاں کی اور جب ہم کو رہائی لے اڑی سچ کی عریانی پہنتی کیوں قبا تحریر کی چھین لی مجھ سے قلم پھر روشنائی لے اڑی ابر کا ٹکڑا میرے ہم راہ کتنی دور تک چیل سی کوئی ہوا کی موج آئی لے اڑی لڑکھڑاتے پاؤں تھے پر تھے تو منزل کی طرف راستہ ہی رہبروں کی رہنمائی لے اڑی ہم سے آوارہ مزاجوں کی کوئی منزل کہاں آپ کو بھی آپ کی ہی پارسائی لے اڑی ڈھونڈتے ہو اب کہاں اکھلیشؔ وہ سائے گھنے برگدوں کی شخصیت تو بونسائی لے اڑی
hai to pagDanDi nazar mein mo'tabar alfaaz ki
ہے تو پگڈنڈی نظر میں معتبر الفاظ کی لے کے جائے گی کہاں تک رہ گزر الفاظ کی اس سے آگے صرف تو ہے اور معانی کا طلسم اب کوئی حکمت نہ ہوگی کارگر الفاظ کی کس گلی میں چھوڑ کر رخصت ہوئی پرچھائیاں میں ہوں اور بے بس صدائیں در بدر الفاظ کی خامشی کے ان ہرے پیڑوں پہ جانے کیا بنی آریاں چلتی سنی ہیں رات بھر الفاظ کی اور اک جذبے نے کاغذ پر ابھی توڑا ہے دم رہ گئیں سب کوششیں پھر بے اثر الفاظ کی تم نے جو پچھلی رتوں میں بو دئے تھے حرف کچھ فصل اگ آئی ہے دیکھو با ثمر الفاظ کی جسم سے باہر نکل آئی نمائش کے لیے خود نمائی کی ہوس تھی کس قدر الفاظ کی





