SHAWORDS
Akhilesh Tiwari

Akhilesh Tiwari

Akhilesh Tiwari

Akhilesh Tiwari

poet
13Sher
13Shayari
23Ghazal

Sherشعر

See all 13

Popular Sher & Shayari

26 total

Ghazalغزل

See all 23
غزل · Ghazal

ghar ko bhi ghar kar na paae aur na viraani mili

گھر کو بھی گھر کر نہ پائے اور نہ ویرانی ملی بس یہی مشکل تھی اپنی صرف آسانی ملی منتظر کتنے خدا تھے ہر طرف اب کیا کہیں جب کے سجدوں کے لیے بس ایک پیشانی ملی اس گلی سے آج مدت بعد جانا پھر ہوا آج بھی حیرت سے تکتی ہم کو حیرانی ملی اجنبی اس بھیڑ میں تنہائی بھی آئی نظر دل کو کچھ تسکیں ہوئی اک شکل پہچانی ملی آنسوؤں سے رات جو نم ہو گیا تھا بے طرح آپ کے اس خواب کو کیا پھر سے تابانی ملی

غزل · Ghazal

kab tak ghuT kar jiite rahte sachchaai ke maare khvaab

کب تک گھٹ کر جیتے رہتے سچائی کے مارے خواب پلکوں کی دہلیز سے باہر نکلے پھر بنجارے خواب فطرت سے ہی آوارہ ہیں کب ٹھہرے جو ٹھہریں گے کیسے پلکوں پر اٹکے ہیں کچھ خوش رنگ تمہارے خواب اب مولیٰ ہی جانے ان میں اپنا کون پرایا کون ہنس ہنس کر ہر شب ملتے ہیں یوں تو اتنے سارے خواب جیون کی اس آپا دھاپی میں جو پیچھے چھوٹ گئے جانے اب کس حال میں ہوں گے وہ قسمت کے مارے خواب تعبیروں کی فصلیں کیسی اگتی ہیں کل دیکھیں گے ہم نے بھی بوئے ہیں شب بھر رنگ برنگے پیارے خواب کب اکھلیشؔ توقع کی تھی برفیلی اس گھاٹی سے آنکھوں سے برسیں گے اس کی بن کر یوں انگارے خواب

غزل · Ghazal

raushni tez hui koi sitaaraa TuuTaa

روشنی تیز ہوئی کوئی ستارا ٹوٹا دھار میں اب کے ندی کا ہی کنارا ٹوٹا تھرتھراتے ہوئے لب چپ تو لگا بیٹھے پر چپ نے ہی جوڑا بھی اظہار ہمارا ٹوٹا در بدر پھرتا کوئی خواب مرا آوارہ رات آنکھوں میں چلا آیا تھا ہارا ٹوٹا جانے کس موڑ پہ بچھڑی وہ صدا ماضی کی ایک تنکے کا سہارا تھا سہارا ٹوٹا دھوپ چڑھتے ہی پلاتا تھا جو صحرا پانی دھوپ ڈھلتے ہی طلسمی وہ نظارا ٹوٹا فکر و معانی کے چنے شعر اسی ملبے سے ہم نے تنہائی کا دیکھا جو ادارہ ٹوٹا

غزل · Ghazal

jin se Darte the maraasim un hadon tak aa gae

جن سے ڈرتے تھے مراسم ان حدوں تک آ گئے آپ سے پھر رفتہ رفتہ خود سے ہم اکتا گئے ریت پر کچھ دور تک دیکھے تھے ہم نے صاف صاف پھر غبار اٹھا کوئی وہ نقش بھی دھندھلا گئے خودکشی سورج نے کر لی یہ بتانے کے لیے کالے رنگوں کے پرندے آسماں پر چھا گئے چند جگنو ہیں یہاں پر اور مسلسل تیرگی صاحبو ہم شمع لے کر کس کھنڈر میں آ گئے وہ ولی ہے اور نہ بادہ خوار ہے دانشوروں آپ بھی ہم زاد سے میرا ہی دھوکا کھا گئے

غزل · Ghazal

joD kar rakkhi hui sab paai paai le uDi

جوڑ کر رکھی ہوئی سب پائی پائی لے اڑی دنیا احساسات کی گاڑھی کمائی لے اڑی مطمئن تھے راز دل ہم میں کہیں محفوظ ہے اس کو بھی تنہائی کی پر آوا جائی لے اڑی ایک صدا آئی قفس کے پار بھی کوئی جال ہے آشیاں کی اور جب ہم کو رہائی لے اڑی سچ کی عریانی پہنتی کیوں قبا تحریر کی چھین لی مجھ سے قلم پھر روشنائی لے اڑی ابر کا ٹکڑا میرے ہم راہ کتنی دور تک چیل سی کوئی ہوا کی موج آئی لے اڑی لڑکھڑاتے پاؤں تھے پر تھے تو منزل کی طرف راستہ ہی رہبروں کی رہنمائی لے اڑی ہم سے آوارہ مزاجوں کی کوئی منزل کہاں آپ کو بھی آپ کی ہی پارسائی لے اڑی ڈھونڈتے ہو اب کہاں اکھلیشؔ وہ سائے گھنے برگدوں کی شخصیت تو بونسائی لے اڑی

غزل · Ghazal

hai to pagDanDi nazar mein mo'tabar alfaaz ki

ہے تو پگڈنڈی نظر میں معتبر الفاظ کی لے کے جائے گی کہاں تک رہ گزر الفاظ کی اس سے آگے صرف تو ہے اور معانی کا طلسم اب کوئی حکمت نہ ہوگی کارگر الفاظ کی کس گلی میں چھوڑ کر رخصت ہوئی پرچھائیاں میں ہوں اور بے بس صدائیں در بدر الفاظ کی خامشی کے ان ہرے پیڑوں پہ جانے کیا بنی آریاں چلتی سنی ہیں رات بھر الفاظ کی اور اک جذبے نے کاغذ پر ابھی توڑا ہے دم رہ گئیں سب کوششیں پھر بے اثر الفاظ کی تم نے جو پچھلی رتوں میں بو دئے تھے حرف کچھ فصل اگ آئی ہے دیکھو با ثمر الفاظ کی جسم سے باہر نکل آئی نمائش کے لیے خود نمائی کی ہوس تھی کس قدر الفاظ کی

Similar Poets