SHAWORDS
Akhtar Husain Jafri

Akhtar Husain Jafri

Akhtar Husain Jafri

Akhtar Husain Jafri

poet
4Sher
4Shayari
5Ghazal

Sherشعر

Popular Sher & Shayari

8 total

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

ek parda haTaa ek chehra khulaa raat Dhalne lagi rut badalne lagi

ایک پردہ ہٹا ایک چہرہ کھلا رات ڈھلنے لگی رت بدلنے لگی چاند چلتا ہوا مہر سے جا ملا رات ڈھلنے لگی رت بدلنے لگی دل سے نکلا لبوں تک سوال آ گیا اپنے رہنے سے چل کر غزال آ گیا بند رخت صبا باب نافہ کھلا رات ڈھلنے لگی رت بدلنے لگی اپنے اپنے سفر پر پھریرے چلے رات کے لشکری منہ اندھیرے چلے پاؤں پاؤں چلا بے سپر راستہ رات ڈھلنے لگی رت بدلنے لگی شاخ پر پتیوں کی زبانیں کھلیں نور کی چھاؤں میں پھر دکانیں کھلیں خواب تلنے لگے غم ترازو ہوا رات ڈھلنے لگی رت بدلنے لگی تشنگی کا ستارا زوالوں میں ہے آج اپنا سفر اپنے پیالوں میں ہے رنگ اچھا لگا زہر میٹھا لگا رات ڈھلنے لگی رت بدلنے لگی جمع ہونے لگی فصل صدمات کی پتھروں پر ملیں چوڑیاں ہات کی ایک فرد سزا ایک نوحہ ملا رات ڈھلنے لگی رت بدلنے لگی سطر معتوب پر عذر خواہی نہ تھی میرے خط پر کسی کی گواہی نہ تھی فیصلہ جو ہوا آخر شب ہوا رات ڈھلنے لگی رت بدلنے لگی

غزل · Ghazal

na fikr sidra-nashin meri na rif'at-e-aasmaan meri

نہ فکر سدرہ نشین میری نہ رفعت آسمان میری نہال غم پر مرا بسیرا ہرے شجر تک اڑان میری صدا کے رستے پہ شہر مفہوم دور سے دور تر لگا ہے مرا ہر اک لفظ پا بریدہ خلل گرفتہ زبان میری کہیں تو معدومیوں کی شمعوں میں نیم روشن تھا نام میرا کہیں پہ محرومیوں میں بھیگی رہی شب بے نشان میری بس ایک آنسو کے دخل نے منظر وفا کو بدل دیا تھا بس ایک موج خفی کے آگے خس رواں تھی چٹان میری یہ آتشیں تیر کس مکاں سے شب مناجات آ لگا ہے دھواں دھواں ہے کتاب میری لہو لہو ہے زبان میری

غزل · Ghazal

jirah nishaan pe hui raah par savaal huaa

جرح نشاں پہ ہوئی راہ پر سوال ہوا سفر کا قصد سفر سے سوا وبال ہوا وہ باب نور تھا حرف نگاہ سے آگے کہاں کتاب کھلی کس جگہ وصال ہوا وہ دل کہاں کہ دکھائے لکیر سے تصویر یہ آئنہ بھی ترے بعد بے کمال ہوا ہر ایک ساعت بے رنگ کا قدم مجھ پر میں جتنا سبز ہوا اتنا پائمال ہوا کھلا ہے لفظ پہ پایان نطق میں مضموں یہ آفتاب درخشاں دم زوال ہوا

غزل · Ghazal

sab khayaal us ke liye hain sab savaal us ke liye

سب خیال اس کے لیے ہیں سب سوال اس کے لیے رکھ دیا ہم نے حساب ماہ و سال اس کے لیے اس کی خوشبو کے تعاقب میں نکلا آیا چمن جھک گئی سوئے زمیں لمحے کی ڈال اس کے لیے سرو تا خاک گیہ اپنی وفا کا سلسلہ سر کشیدہ اس کی خاطر پائمال اس کے لیے کیا مکاں خوردہ خلائق میں چلے اس کا خیال تنگ ہائے شہر کچھ رستہ نکال اس کے لیے شاخ تنہائی سے پھر نکلی بہار فصل ذات اپنی صورت پر ہوئے ہم پھر بحال اس کے لیے وصل کے بدلے میں کیا داغ ستارہ مانگنا اس شب بے خانماں سے کر سوال اس کے لیے

غزل · Ghazal

tapish gulzaar tak pahunchi lahu divaar tak aayaa

تپش گلزار تک پہنچی لہو دیوار تک آیا چراغ خود کلامی کا دھواں بازار تک آیا ہوا کاغذ مصور ایک پیغام زبانی سے سخن تصویر تک پہنچا ہنر پرکار تک آیا عبث تاریک رستے کو تہ خورشید جاں رکھا یہی تار نفس آزار سے پیکار تک آیا محبت کا بھنور اپنا شکایت کی جہت اپنی وہ محور دوسرا تھا جو مرے پندار تک آیا عجب چہرہ سفر کا تھا ہوس کے زرد پانی میں قدم دلدل سے نکلا تو خط رفتار تک آیا پھر اس کے بعد طبنور و علم نا معتبر ٹھہرے کوئی قاصد نہ اس شام شکست آثار تک آیا

Similar Poets