SHAWORDS
Akhtar Saeed Khan

Akhtar Saeed Khan

Akhtar Saeed Khan

Akhtar Saeed Khan

poet
28Shayari
35Ghazal

Popular Shayari

28 total

Ghazalغزل

See all 35
غزل · Ghazal

بلائے تیرہ شبی کا جواب لے آئے بجھے چراغ تو ہم آفتاب لے آئے بکھر گئے جو کبھی چشم انتظار کے رنگ اس انجمن سے ہم اک اور خواب لے آئے ہم اس زمین پہ میزان عدل رکھتے ہیں کہو زمانے سے فرد حساب لے آئے ہر ایک غم سے سلامت گزر گیا ہے دل خدا کرے کہ محبت کی تاب لے آئے گئے تھے ہم بھی ان آنکھوں سے مانگنے کیا کیا وہی ہوا کہ بس اک اضطراب لے آئے ہماری لغزش پیہم کو رائیگاں نہ سمجھ عجب نہیں کہ یہی انقلاب لے آئے نہ لائے کچھ بھی ہم آشوب دہر میں اخترؔ بس ایک حوصلۂ اضطراب لے آئے

balaa-e-tira-shabi kaa javaab le aae

40 views

غزل · Ghazal

نیرنگیٔ نشاط تمنا عجیب ہے کچھ شام سے قفس میں اجالا عجیب ہے شرما رہے ہیں تار گریبان و چاک دل کچھ دن سے رنگ لالۂ صحرا عجیب ہے ہر خواب اعتبار شکستوں سے چور ہے دل میں مگر غرور تمنا عجیب ہے سارا بدن ہے دھوپ میں جھلسا ہوا مگر دل پر جو پڑ رہا ہے وہ سایہ عجیب ہے پھینکے نہیں ہیں آج تلک ریزہ ہائے دل ٹوٹے تعلقات کا رشتہ عجیب ہے جب تک نظر نہ کیجیئے یک قطرہ خوں ہے دل لیکن جو دیکھیے تو یہ دنیا عجیب ہے اخترؔ یہ تیرے پاؤں کے کانٹے نئے نہیں کانٹوں سے کھیلتا ہوا چھالا عجیب ہے

nairangi-e-nashaat-e-tamannaa ajiib hai

40 views

غزل · Ghazal

نہ آپ آئے نہ بیداد انتظار گئی یہ رات پھر مری آنکھوں سے آج ہار گئی لئے ہوئے کوئی افسانۂ بہار گئی صبا چمن سے بہت آج سوگوار گئی ہوئی جو صبح تو اشکوں سے جگمگا اٹھی جو آئی شام تو یادوں سے مشک بار گئی اسی نگاہ نے مارا الم پرستوں کو وہی نگاہ مری زندگی سنوار گئی زمین کوئے ملامت بھی خیر راہ میں تھی کہاں کہاں لئے موج خرام یار گئی

na aap aae na bedaad-e-intizaar gai

40 views

غزل · Ghazal

کوئی مجھ سے جدا ہوا ہے ابھی زندگی ایک سانحا ہے ابھی نہیں موقع یہ پرسش غم کا دیکھیے دل دکھا ہوا ہے ابھی کل گزر جائے دل پہ کیا معلوم عشق سادہ سا واقعہ ہے ابھی بات پہنچی ہے اک نظر میں کہاں ہم تو سمجھے تھے ابتدا ہے ابھی کتنے نزدیک آ گئے ہیں وہ کس قدر ان سے فاصلہ ہے ابھی ساری باتیں یہ خواب کی سی ہیں زندگی دور کی صدا ہے ابھی دار پر کھینچتے ہیں اخترؔ کو جرم یہ ہے کہ جی رہا ہے ابھی

koi mujh se judaa huaa hai abhi

غزل · Ghazal

میں نے مانا ایک نہ اک دن لوٹ کے تو آ جائے گا لیکن تجھ بن عمر جو گزری کون اسے لوٹائے گا ہجر کے صدمے اس کا تغافل باتیں ہیں سب کہنے کی کچھ بھی نہ مجھ کو یاد رہے گا جب وہ گلے لگ جائے گا خواب وفا آنکھوں میں بسائے پھرتا ہے کیا دیوانے تعبیریں پتھراؤ کریں گی جب تو خواب سنائے گا کتنی یادیں کتنے قصے نقش ہیں ان دیواروں پر چلتے چلتے دیکھ لیں مڑ کر کون یہاں پھر آئے گا باد بہاری اتنا بتا دے سادہ دلان موسم کو صرف چمن جو خون ہوا ہے رنگ وہ کب تک لائے گا

main ne maanaa ek na ik din lauT ke tu aa jaaegaa

غزل · Ghazal

مآل گردش لیل و نہار کچھ بھی نہیں ہزار نقش ہیں اور آشکار کچھ بھی نہیں ہر ایک موڑ پہ دنیا کو ہم نے دیکھ لیا سوائے کشمکش روزگار کچھ بھی نہیں نشان راہ ملے بھی یہاں تو کیسے ملے سوائے خاک سر رہ گزار کچھ بھی نہیں بہت قریب رہی ہے یہ زندگی ہم سے بہت عزیز سہی اعتبار کچھ بھی نہیں نہ بن پڑا کہ گریباں کے چاک سی لیتے شعور ہو کہ جنوں اختیار کچھ بھی نہیں کھلے جو پھول وہ دست خزاں نے چھین لیے نصیب دامن فصل بہار کچھ بھی نہیں زمانہ عشق کے ماروں کو مات کیا دے گا دلوں کے کھیل میں یہ جیت ہار کچھ بھی نہیں یہ میرا شہر ہے میں کیسے مان لوں اخترؔ نہ رسم و راہ نہ وہ کوئے یار کچھ بھی نہیں

maaal-e-gardish-e-lail-o-nahaar kuchh bhi nahin

Similar Poets