SHAWORDS
Akhtar Ziai

Akhtar Ziai

Akhtar Ziai

Akhtar Ziai

poet
4Shayari
17Ghazal

Popular Shayari

4 total

Ghazalغزل

See all 17
غزل · Ghazal

چھپے ہوئے ہیں سر راہ سو خطر خاموش چلے چلو میرے یاران ہم سفر خاموش فضائے قریہ طلسم سکوت میں گم صم سیاہ رات کے دامن میں بام و در خاموش ہمارے بعد اگر رستخیز ہو بھی تو کیا بساط وقت سے ہم تو گئے گزر خاموش بہ ایں نوازش موسم شگفت گل پہ نہ جا زبان حال سے گویا بہ چشم تر خاموش جو عرش جاہ ستارہ شکار تھے ان کو فلک کی آنکھ نے دیکھا فگندہ سر خاموش ہر ایک دور میں گونجی ہے ضربت فرہاد کبھی بھی رہ نہ سکے صاحب ہنر خاموش زباں دراز ضیائیؔ کو روکئے صاحب یہ مصلحت کا تقاضا ہے الحذر خاموش

chhupe hue hain sar-e-raah sau khatar khaamosh

40 views

غزل · Ghazal

اپنی قسمت میں غم عرصۂ ہجراں ہے تو کیا اشک منت کش گہوارۂ مژگاں ہے تو کیا حسن ارباب حقیقت کو ہے ناظورۂ حق شیخ جی آپ کو اندیشۂ ایماں ہے تو کیا وقت کے ساتھ فزوں ہوتا ہے احساس زیاں فہم و ادراک ہی غارت گر انساں ہے تو کیا بے محابانہ مسرت کے تعاقب میں نہ دوڑ دام نیرنگ پس سرحد امکاں ہے تو کیا ہم تو اک عمر سے ہیں منتظر مرگ خزاں اب کے لوگوں میں اگر ذکر بہاراں ہے تو کیا موسم آتا ہے تو کانٹوں ہی میں گل کھلتے ہیں دست گلچیں میں اگر نظم گلستاں ہے تو کیا زیر تعمیر اسی حال میں ہے مستقبل اس میں کچھ ریخت کا پہلو بھی نمایاں ہے تو کیا

apni qismat mein gham-e-arsa-e-hijraan hai to kyaa

40 views

غزل · Ghazal

عہد وفا کا قرض ادا کر دیا گیا محرومیوں کا درد عطا کر دیا گیا پھولوں کے داغ ہائے فروزاں کو دیکھ کر ارزاں کچھ اور رنگ حنا کر دیا گیا وارفتگان شوق کا شکوہ سنے بغیر گلشن سپرد اہل جفا کر دیا گیا دل سے امنگ لب سے دعا چھین لی گئی کہنے کو قیدیوں کو رہا کر دیا گیا یک دو نفس بھی کار زیاں ہم نہ کر سکے خوشبو کو پیرہن سے جدا کر دیا گیا مانگی تھی عافیت کی دعا آگہی کا غم پہلے سے بھی کچھ اور سوا کر دیا گیا اخترؔ ہوس گران عقیدت کے فیض سے سب کچھ روا بہ نام خدا کر دیا گیا

ahd-e-vafaa kaa qarz adaa kar diyaa gayaa

غزل · Ghazal

تجھ سے اے زیست ہمیں جتنے حسیں خواب ملے نقش بر آب کبھی صورت سیماب ملے ہم نے ہر موج حوادث کو کنارا سمجھا ہم کو ہر موج میں لپٹے ہوئے گرداب ملے گردش وقت نے گہنا دئے کتنے سورج صبح کی گود میں دم توڑتے مہتاب ملے جب بھی صدیوں کی فتوحات کو مڑ کر دیکھا خوں میں لتھڑے ہوئے تاریخ کے ابواب ملے سیل ظلمات میں ہے قافلۂ منزل شب کاش ایسے میں کوئی نجم افق تاب ملے اہل کردار کو دیکھا ہے سر دار اکثر اہل گفتار تہ سایۂ محراب ملے فصل گل آئی ہے یارو تو غنیمت جانو پھول افسردہ سہی زخم تو شاداب ملے دل کے ہر داغ سے وابستہ ہے روداد ستم رنج بڑھتا گیا جوں جوں مجھے احباب ملے مجھ کو اخترؔ نہ ملی نالۂ شب گیر کی داد قریۂ شوق کے سب لوگ گراں خواب ملے

tujh se ai ziist hamein jitne hasin khvaab mile

غزل · Ghazal

ہم نشیں رات ہے تو رات بھی ڈھل جائے گی صبح دم صورت حالات بدل جائے گی حدت شوق سلامت ہے تو زنجیر جفا صورت شمع کسی روز پگھل جائے گی ان کا دم بھرتے ہو تو غم نہ کرو آخر کار ان پہ دم دینے کی حسرت بھی نکل جائے گی ہم صفیرو کبھی مٹتی ہے تمنائے بہار یہ کسی پھول کسی شعلے میں ڈھل جائے گی یہی بہتر ہے کہ قربان وفا ہو جائے جاں اگر آج نہ جائے گی تو کل جائے گی کس کو معلوم تھا ملبوس صبا میں صرصر آ کے گلشن میں شگوفوں کو مسل جائے گی اب کے ساون بھی اگر ابر نہ برسا اخترؔ جو کلی شاخ پہ نکلے گی وہ جل جائے گی

ham-nashin raat hai to raat bhi Dhal jaaegi

غزل · Ghazal

دن ڈھلا شب ہوئی چراغ جلے بزم رنداں میں پھر ایاغ جلے دفعتاً آندھیوں نے رخ بدلا ناگہاں آرزو کے باغ جلے آس ڈوبی تو دل ہوا روشن بجھ گیا دل تو دل کے داغ جلے جل بجھے جستجو کے پروانے مستقل منزل سراغ جلے گاہ مصروفیت سلگ اٹھے گاہ تنہائی و فراغ جلے آنکھیں کرتی ہیں شبنم افشانی جب تری یاد میں دماغ جلے ان کا چہرہ تہ نقاب اخترؔ جیسے پردے میں اک چراغ جلے

din Dhalaa shab hui charaagh jale

Similar Poets