SHAWORDS
A

Aleem Akhtar Muzaffarnagri

Aleem Akhtar muzaffarnagri

Aleem Akhtar muzaffarnagri

poet
10Sher
10Shayari
12Ghazal

Sherشعر

See all 10

Popular Sher & Shayari

20 total

Ghazalغزل

See all 12
غزل · Ghazal

sabab-e-tark-e-mulaaqaat koi hai to sahi

سبب ترک ملاقات کوئی ہے تو سہی نہ سہی بات مگر بات کوئی ہے تو سہی خوئے تسلیم و رضا ہو کہ محبت کا فریب غم جاناں کی مکافات کوئی ہے تو سہی کچھ تعلق نہ سہی پھر بھی بہ مجبوریٔ شوق مائل پرسش حالات کوئی ہے تو سہی منفعل اپنی جفاؤں پہ کوئی ہے شاید چشم پرنم ہے نئی بات کوئی ہے تو سہی ہائے وہ بے رخیٔ حسن کہ جس میں پنہاں پہلوئے حسن مراعات کوئی ہے تو سہی رخ روشن سے نمایاں ہیں سحر کے آثار شام گیسو میں نہاں رات کوئی ہے تو سہی پیر مے خانہ کہیں حضرت اخترؔ تو نہیں دیکھنا رند خرابات کوئی ہے تو سہی

غزل · Ghazal

zindagi manzil-e-mauhum ko paane ki lagan

زندگی منزل موہوم کو پانے کی لگن موت کہتے ہیں جسے جہد مسلسل کی تھکن کیا ہے یہ کیفیت موسم گل پیراہن نہ کہیں باد بہاری نہ کہیں بوئے سخن یوں فروزاں نظر آتی ہے محبت کی کرن جیسے اک گھور اندھیرے میں چراغ روشن ہم جو آئے ہیں گلستاں سے جھٹک کر دامن کیا پریشاں نظر آتی ہے نسیم گلشن جسم آدم پہ ہے زرتار لباس اخلاص آدمیت ہے مگر لاشۂ بے گور و کفن اب مرے نقش کف پا ہیں نشان منزل کام کچھ آ ہی گیا شوق کا دیوانہ پن خلوت دل میں اب اپنا بھی گزر مشکل ہے ڈال دی تیرے تصور نے یہ کیسی چلمن کیا کسی آرزوئے شوق نے دم توڑ دیا آج محسوس رگ جاں ہے جو ہلکی سی چبھن نگہ دوست کی بیگانہ روی کے صدقے ان دنوں میری وفا کو ہے تلاش دشمن ہم سا برباد بہاراں بھی نہ ہوگا کوئی نہ کوئی شاخ نشیمن نہ قفس ہے نہ چمن کیا تماشائے نظر ہیں یہ تیرے دیوانے کبھی نمناک نگاہی کبھی ابرو پہ شکن ہم سے کچھ رسم تعلق ہی نہیں ہے نہ سہی پھر بھی بیگانۂ احساس تعلق تو نہ بن ہم کہ بیگانۂ ارباب جہاں ہیں اخترؔ نہ کوئی دوست زمانے میں نہ کوئی دشمن

غزل · Ghazal

dil gudaaz shisha bhi sang bhi hai aahan bhi

دل گداز شیشہ بھی سنگ بھی ہے آہن بھی پیکر محبت بھی دوست بھی ہے دشمن بھی ہم بھرے گلستاں سے پھول ہی نہیں لائے جب اٹھے تو کانٹوں سے بھر لیے ہیں دامن بھی گیسوؤں کی چھاؤں میں دھوپ سی ہے بھادوں کی زلف کی گھٹاؤں میں جھومتا ہے ساون بھی جستجوئے بے پایاں کامگار منزل ہے جستجوئے بے حد ہی راہبر بھی رہزن بھی

غزل · Ghazal

gham de ke apnaa phir koi bahlaa gayaa hai dil

غم دے کے اپنا پھر کوئی بہلا گیا ہے دل کیا بات تھی کہ دل کو جو سمجھا گیا ہے دل باتوں میں پھر کسی کی مرا آ گیا ہے دل کتنا بڑا فریب مگر کھا گیا ہے دل ان کی ادائے خاص پہ کیا آ گیا ہے دل خود جلوۂ جمال کو تڑپا گیا ہے دل خلوت نشیں ہے کوئی بہ صد حسن احتیاط یا شوق آرزو سے بسایا گیا ہے دل یہ کیا مقام غم ہے نہ جانے کہ ان دنوں اکثر ترے خیال سے گھبرا گیا ہے دل غم سے بھی بے نیاز خوشی سے بھی بے نیاز کیا کشتگان غم کا بنایا گیا ہے دل اب انتہائے درد محبت ہے زندگی ان کے خیال شوق پہ کیا چھا گیا ہے دل تیری جفا نے حوصلۂ غم بڑھا دیا ظلم و ستم سے داد وفا پا گیا ہے دل وہ یاد بن گئی ہے مری غم گسار شوق جب بھی غم حیات سے اکتا گیا ہے دل کیوں ہو گیا ہے عالم امکاں اداس اداس اخترؔ کبھی ملول جو پایا گیا ہے دل

غزل · Ghazal

vo kyaa gae payaam-e-safar de gae mujhe

وہ کیا گئے پیام سفر دے گئے مجھے اک جذبۂ جنون اثر دے گئے مجھے ہر سمت دیکھتی ہے جو ان کے جمال کو وہ اک نگاہ جلوہ نگر دے گئے مجھے ہر چند کرب مرگ ہے محسوس ہر نفس لطف حیات عشق مگر دے گئے مجھے تصویر حزن و یاس بنا کر چلے گئے لب ہائے خشک و دیدۂ تر دے گئے مجھے بیدار کر گئے سحر و شام زندگی آہ و فغان شام و سحر دے گئے مجھے جمتی نہیں نگاہ کسی چیز پر بھی اب اک خیرگئ تاب نظر دے گئے مجھے عرض حدیث شوق پہ شرما کے رہ گئے کتنا حسیں جواب مگر دے گئے مجھے میرے سکون قلب کو لے کر چلے گئے اور اضطراب درد جگر دے گئے مجھے محروم شش جہات نگاہوں کو کر گئے بس اک نگاہ جانب در دے گئے مجھے اخترؔ وہ آئے اور چلے بھی گئے مگر اک لطف اضطراب اثر دے گئے مجھے

غزل · Ghazal

dil ko shaaista-e-ehsaas-e-tamannaa na karein

دل کو شائستۂ احساس تمنا نہ کریں آپ اس انداز نظر سے مجھے دیکھا نہ کریں یک بہ یک لطف و عنایت کا ارادا نہ کریں آپ یوں اپنی جفاؤں کو تماشا نہ کریں ان کو یہ فکر ہے اب ترک تعلق کر کے کہ ہم اب پرسش احوال کریں یا نہ کریں ہاں مرے حال پہ ہنستے ہیں زمانے والے آپ تو واقف حالات ہیں ایسا نہ کریں ان کی دزدیدہ نگاہی کا تقاضا ہے کہ اب ہم کسی اور کو کیا خود کو بھی دیکھا نہ کریں وہ تعلق ہے ترے غم سے کہ اللہ اللہ ہم کو حاصل ہو خوشی بھی تو گوارا نہ کریں اس میں پوشیدہ ہے پندار محبت کی شکست آپ مجھ سے بھی مرے حال کو پوچھا نہ کریں نہ رہا تیری محبت سے تعلق نہ سہی نسبت غم سے بھی کیا خود کو پکارا نہ کریں میں کہ خود اپنی وفاؤں پہ خجل ہوں اخترؔ وہ تو لیکن ستم و جور سے توبا نہ کریں

Similar Poets