SHAWORDS
Ali Akbar Abbas

Ali Akbar Abbas

Ali Akbar Abbas

Ali Akbar Abbas

poet
10Sher
10Shayari
18Ghazal

Sherشعر

See all 10

Popular Sher & Shayari

20 total

Ghazalغزل

See all 18
غزل · Ghazal

qayaam-o-naql ajaaib ke tarjumaan to nahin

قیام و نقل عجائب کے ترجماں تو نہیں عمل ہر ایک مسلسل ہے ناگہاں تو نہیں یہ مرکزے کی حرارت کشش کا باعث ہے جو ہو وہ سرد تو پھر یہ زمیں بھی ماں تو نہیں محیط چاروں طرف سے ہے اک خلائے بسیط زمیں یہ اپنی فقط زیر آسماں تو نہیں ہوا اڑائے انہیں اور کہیں بھی لے جائے یہ ٹیلے ریت کے پکی نشانیاں تو نہیں ہوا کے پاس امانت ہیں سب صدا و عکس ابھی گرفت سے باہر ہیں پر نہاں تو نہیں

غزل · Ghazal

apne naakhun apne chehre par kharaashein de gae

اپنے ناخن اپنے چہرے پر خراشیں دے گئے گھر کے دروازے پہ کچھ بھوکے صدائیں دے گئے جاگتے لوگوں نے شب ماروں کی جب چلنے نہ دی دن چڑھے وہ روشنی کو بد دعائیں دے گئے خود ہی اپنے ہاتھ کاٹے اور آنکھیں پھوڑ لیں دیوتاؤں کو پجاری کیا سزائیں دے گئے ایک اپنی ذات کے نقطے کو مرکز مان کر حوصلوں کے زاویے بے حد خلائیں دے گئے تیز طوفانوں نے ساحل روند ڈالے تھے مگر جب وہ ٹکرائے پہاڑوں سے گھٹائیں دے گئے

غزل · Ghazal

jo khud ko paaein to phir dusraa talaash karein

جو خود کو پائیں تو پھر دوسرا تلاش کریں اس اک حیات میں اب اور کیا تلاش کریں ستارہ گو ہے یہ شب اس کو غور سے سن لیں اور اس کا دن جو کہیں کھو گیا تلاش کریں ہم اپنی بات کو دیوار ہی میں چنوا دیں نظر شبیہ سماعت صدا تلاش کریں ہے باب جاں پہ رکا عکس میہماں آ کر سر وجود کوئی آئنہ تلاش کریں ہوا میں زہر ہے صحرا کا یا سمندر کا یہ علم ہو تو کوئی بدرقہ تلاش کریں

غزل · Ghazal

kabhi jo nuur kaa mazhar rahaa hai

کبھی جو نور کا مظہر رہا ہے وہ کن تاریکیوں میں مر رہا ہے کسی سورج کا ٹکڑا توڑ لائیں زمیں کا جسم ٹھنڈا پڑ رہا ہے کہیں آثار ڈھونڈیں زندگی کے کبھی یہ چاند میرا گھر رہا ہے متاع آسماں بھی لٹ نہ جائے ستارے پر ستارہ گر رہا ہے ہوا میں لفظ لکھے جا رہے ہیں کوئی زخمی پرندہ اڑ رہا ہے

غزل · Ghazal

pesh har ahd ko ik tegh kaa imkaan kyuun hai

پیش ہر عہد کو اک تیغ کا امکاں کیوں ہے ہر نیا دور نئے خوف میں غلطاں کیوں ہے شہر کے شہر ہی بے ہوش پڑے پوچھتے ہیں زندگی اپنے عمل داروں سے نالاں کیوں ہے آئنہ عکس معطل تو نہیں کرتا کبھی اتنا بے آب مگر آئینۂ جاں کیوں ہے پھر سے مطلوب خلائق ہے گواہی کوئی بر سر کوہ سیہ شعلۂ لرزاں کیوں ہے یہ عمل ہے خس و خاشاک کی چھدرائی کا رنگ‌ رنگین گل و لالہ پریشاں کیوں ہے

غزل · Ghazal

main apne vaqt mein apni ridaa mein rahtaa huun

میں اپنے وقت میں اپنی ردا میں رہتا ہوں اور اپنے خواب کی آب و ہوا میں رہتا ہوں کبھی زمین کبھی سیرگاہ ماہ و نجوم کبھی میں عکس نظر آشنا میں رہتا ہوں سماعتوں پر اترتا ہوں مثل صوت یقیں دلوں کے واہمۂ برملا میں رہتا ہوں میں اڑتی گرد ہوں اہل ہنر کے تیشے کی اور اہل درد کی بھی خاک پا میں رہتا ہوں میں اک فقیر خدا مست برسر دنیا جمال یار کی حیرت سرا میں رہتا ہوں

Similar Poets