jin ke daaman mein mere khuun ke chhinTe the 'asar'
ab vo shaffaaf libaason mein nazar aate hain

Ali Asar Bandvi
Ali Asar Bandvi
Ali Asar Bandvi
Popular Shayari
10 totalus be-khabar ki niind kaa 'aalam na puchhiye
takiya kahin hai zulf kahin aur kahin badan
talkhi ke saath kiije na tark-e-ta'alluqaat
chubhtaa rahegaa varna ye lahja tamaam 'umr
jo pahle aankh se ojhal huaa thaa
vo ab dil se bhi rukhsat ho rahaa hai
tu to mahlon mein rahti hai ye tujh ko maa'lum nahin
sahraaon mein main bhaTkaa huun hijr ki vahshat mujh se puchh
ehsaas-e-tishnagi na thaa sahraa mein kuchh magar
lab khushk ho rahe hain samundar ko dekh kar
hijr kaa maaraa huun Table par yahi sab paaoge
adh-likhe khat bikhraa album aur khaali botalein
'ishq mein koi bhi sarhad hamein manzur nahin
'ishq sarhad ke to us paar bhi ho saktaa
khvaab ke jaisaa na paayaa khvaab ki taa'bir se
dard vahshat hijr sahraa hi milaa taqdir se
tumhaare hijr ne hi to hamein shaa'ir banaayaa hai
tumhaare hijr pe ham ko kai divaan likhne hain
Ghazalغزل
میں تو خدا پرست تھا ایسا نہ ہو سکا مجھ سے امیر شہر کا سجدہ نہ ہو سکا اس نے بھی مجھ کو ٹوٹ کے چاہا نہیں کبھی مجھ سے بھی عشق حد سے زیادہ نہ ہو سکا میں نے ترے فراق میں لکھے تھے جو خطوط ان میں سے ایک خط کا بھی اجرا نہ ہو سکا اب تو یقین ہو گیا جائے گا قبر تک اس درد دل کا کوئی مداوا نہ ہو سکا نس کاٹنا کہ پھانسی کے پھندے پہ جھولنا ہم سے تو ہجر میں یہ تماشہ نہ ہو سکا ہم نے غزل کہی ہے اثرؔ جس کے واسطے اس کا غزل میں کوئی بھی چرچا نہ ہو سکا
main to khudaa-parast thaa aisaa na ho sakaa
شاید ہو اسے درد کا احساس الٰہی کچھ دیر جو بیٹھے وہ مرے پاس الٰہی اب ان سے بھلا کیسی کوئی آس الٰہی جن کو نہ وفا کا ہو کوئی پاس الٰہی مجھ کو مرے محبوب کا دیدار کرا دے اب توڑ دے نظروں کا یہ اپواس الٰہی ہم نے ہی نبھایا ہے یہاں عہد وفا بھی ہم کو ہی ملی درد کی میراث الٰہی ہونٹوں سے لگایا ہے مرے یار نے شاید خوشبو سے معطر ہے یہ قرطاس الٰہی جب زاویہ نظروں کا بدل کر اسے دیکھا پتھر سے وہ لگنے لگا الماس الٰہی اب بغض ہے نفرت ہے عداوت ہے دلوں میں اب ملتا نہیں لوگوں میں اخلاص الٰہی صحرا میں بھٹکتا ہے اثرؔ قیس کے مانند ملتی ہی نہیں یار کی بو باس الٰہی
shaayad ho use dard kaa ehsaas ilaahi
جب کوئی تنگ حال ہوتا ہے ہر طرف صرف جال ہوتا ہے دین و مذہب کی کوئی قید نہیں عشق میں سب حلال ہوتا ہے جب وہ گلشن میں پاؤں رکھتے ہیں تب گلوں پر زوال ہوتا ہے مدتوں ہجر میں تڑپتے ہیں چند لمحہ وصال ہوتا ہے کوئی جب چھوڑ جائے راہوں میں حوصلہ تب نڈھال ہوتا ہے ہجر میں خودکشی تو ہے آساں زندہ رہنا کمال ہوتا ہے ترک کر کے اثرؔ تعلق کو کیا اسے کچھ ملال ہوتا ہے
jab koi tang-haal hotaa hai
کیا ضروری ہے کی پھندے پے ہی لٹکا جائے بن کے فولاد چلو ہجر کو کاٹا جائے کون ہے کس کو بیاباں میں پکارا جائے خود ہی اب پاؤں کے کانٹوں کو نکالا جائے اتنی جلدی نہ اسے دل میں بسایا جائے اور کچھ روز نئے شخص کو پرکھا جائے عین ممکن ہے پلٹ کر تمہیں دے دیں نہ جواب اب نئی نسل کے بچوں کو نہ ٹوکا جائے اک دفعہ ڈوب کے نکلا ہوں یہی کافی ہے کون اب عشق کے دریا میں دوبارہ جائے میں اثرؔ عشق میں تنہا تو خطا وار نہیں اس کے سر بھی کوئی الزام لگایا جائے
kyaa zaruri hai ki phande pe hi laTkaa jaae
عزم سفر ہمارا کبھی رائیگاں نہ ہو ہم جس کو ڈھونڈتے ہیں جہاں وہ وہاں نہ ہو شرما کے سن رہے تھے وہ قصہ وصال کا دل چاہتا تھا ختم کبھی داستاں نہ ہو ہر درد و غم کے بعد بھی خوش باش میں رہوں لب پر خدا کرے کبھی آہ و فغاں نہ ہو میں نے بجھا دیا تھا چراغوں کو اس لیے یہ ہے شب وصال کوئی درمیاں نہ ہو ایسا بھی عشق میں کہیں ہوتا ہے اے اثرؔ وہ چاہتا ہے آگ لگے اور دھواں نہ ہو
'azm-e-safar hamaaraa kabhi raaegaan na ho
تم کو یہ لگ رہا تھا کہ پیچھا کریں گے ہم یعنی کہ عشق تم سے دوبارہ کریں گے ہم وہ بار زیست ہو یا جدائی تری صنم ہرگز خدا کے گھر میں نہ شکوہ کریں گے ہم بچوں کی فیس ماں کہ دواؤں کا فرض بھی اتنی سی اک کمائی میں کیا کیا کریں گے ہم کیا کیا مری خطائیں تھیں کیوں وہ جدا ہوا پہروں یہی فراق میں سوچا کریں گے ہم یہ عشق دوسرا ہے سو لازم ہے احتیاط یعنی قدم سنبھال کے رکھا کریں گے ہم انجام جانتے ہیں کہ صحرا ہے جب اثرؔ کار جہاں میں وقت نہ ضائع کریں گے ہم
tum ko ye lag rahaa thaa ki pichhaa kareinge ham





