SHAWORDS
Ali Ul

Ali Ul

Ali Ul

Ali Ul

poet
7Shayari
7Ghazal

Popular Shayari

7 total

Ghazalغزل

See all 7
غزل · Ghazal

کوئی تو سرسری ہڑتال پر ہے تو کوئی منطقی ہڑتال پر ہے ہمارے غم ہوئے ہیں اتنے ابتر ہماری ہر خوشی ہڑتال پر ہے کسی کی لاش بے گور و کفن ہے کسی کی زندگی ہڑتال پر ہے کوئی دولت کے ہاتھوں تنگ ہے اور کسی کی مفلسی ہڑتال پر ہے خدا سے چند مانگیں ہیں ہماری ہماری بندگی ہڑتال پر ہے امامت مسجدوں تک رہ گئی ہے جبھی تو مقتدی ہڑتال پر ہے مشینوں پر مشینیں آ رہی ہیں بیچارہ مستری ہڑتال پر ہے یہ دکھیاروں کی بستی ہے مری جاں یہاں ہر آدمی ہڑتال پر ہے

koi to sarsari haDtaal par hai

غزل · Ghazal

عدیل وقت امیروں کے زر پہ پلتا رہا جبھی تو ملک میں ظالم کا رعب چھایا رہا تمام پیاسوں نے دریا کا رخ کیا اور میں تمہارے آنسو ہتھیلی پہ لے کے بیٹھا رہا بہت سے لوگ بھلائے پہ وہ نہیں بھولا کئی ستارے بجھے پر وہ چاند جلتا رہا طبیب بڑھتے گئے اور مریض مرتے رہے درون شہر یہی کاروبار چلتا رہا ہوائے تیز مرے ذہن سے گزرتی رہی میں تیری یاد کے سارے دیے بچاتا رہا یہ دھوپ وقت سے پہلے تپش گنواتی رہی مسافروں کا سفر میں شباب ڈھلتا رہا یہ میری ماں کی دعا ہے جبھی تو زندگی میں بہت سی ٹھوکریں کھائیں مگر سنبھلتا رہا

adil-e-vaqt amiron ke zar pe paltaa rahaa

غزل · Ghazal

کہیں سزا تو کہیں پر جزا گلاب کا پھول مریض خار کی کامل دوا گلاب کا پھول کسی کے ہجر کی کل داستان ہوتا ہے کسی کی قبر پہ اگتا ہوا گلاب کا پھول کہیں غریب کے بچے کو روٹی مل نہ سکی کہیں وزیر پہ پھینکا گیا گلاب کا پھول جہاں پہ عشق و محبت سرے سے تھے ہی نہیں وہاں بھی عشق و محبت بنا گلاب کا پھول خبر ملی اسے جب میرے لوٹ جانے کی تب اس کے ہاتھ سے یک دم گرا گلاب کا پھول پھر اس نے صحن میں کیکر اگا لیے قصداً جب اس کے صحن میں نہ اگ سکا گلاب کا پھول فرات بھی تھا وہیں پاس میں مگر افسوس بلائے دشت میں جلتا رہا گلاب کا پھول شروع دن سے میں بے ذوق تھا سو میں نے علیؔ کبھی دیا نہ کسی سے لیا گلاب کا پھول

kahin sazaa to kahin par jazaa gulaab kaa phuul

غزل · Ghazal

دل میں اک قبر ہر اک حسرت ناکام کے بعد اور اک شوق کلام آخری پیغام کے بعد شام ڈھلتے ہی چراغوں کو بجھایا میں نے کوئی پروانہ نہیں مرنے دیا شام کے بعد ہائے افسوس صد افسوس مرے ہونٹوں پر ایک بھی نام نہیں ٹھہرا ترے نام کے بعد ذوق کچھ مٹ سا گیا اس کے چلے جانے سے کوئی بھایا نہ مجھے اس پری اندام کے بعد اک تجسس ہوا کرتا ہے برے کام سے قبل ایک پچھتاوا برے کام کے انجام کے بعد کوئی بھی جرم نہ ہو جرم محبت کے سوا کوئی الزام نہ ہو عشق کے الزام کے بعد اب تو فرصت بھی مرے واسطے ناپید ہے دوست اک نیا کام نکل آتا ہے ہر کام کے بعد

dil mein ik qabr har ik hasrat-e-naakaam ke baad

غزل · Ghazal

اپنی بے موسمی سی محبت کا اظہار کر کے مجھے ایسے مائل نہ کر یار تو جانتا ہے میں پہلے ہی تنہا ہوں سو تو مجھے اور تنہا نہ کر دیکھ میں جانتا ہوں ترے ہجر اور وصل کے بھید کو عشق کے وید کو تو مجھے ہجر میں رکھ یا پھر وصل میں ہاں مگر ان کے مابین رسوا نہ کر زندگی اور وقت اپنے اپنے تئیں کتنے بے رحم ہیں سب کو معلوم ہے ان کے ہاتھوں لگے زخم بھرنے بھی دے وقت بے وقت اب ان کو چھیڑا نہ کر

apni be-mausami si mohabbat kaa izhaar kar ke mujhe aise maail na kar

غزل · Ghazal

دیا سلائی بنا تیل جلنے والی نہیں بغیر عشق کے یہ عمر کٹنے والی نہیں کسی کی یاد ہے جو جان پر بنی ہوئی ہے یہ وہ گھٹا ہے جو بارش سے ٹلنے والی نہیں کچھ اس طرح سے جدا ہو گئے ہیں ہم دونوں میں ہنسنے والا نہیں اور وہ رونے والی نہیں محاذ عشق سے ہر شخص کامیاب آئے دعا کریں گے مگر بات ہونے والی نہیں میں گھر پلٹنے میں عجلت تو کر رہا ہوں مگر یہ شام شام جدائی ہے ڈھلنے والی نہیں

diyaa-salaai binaa tel jalne vaali nahin

Similar Poets