agar ho qais to phir jaa ke DhunDo lailaa ko
agar ho jaun to phir faariha ke saath raho

Ali Ul
Ali Ul
Ali Ul
Popular Shayari
7 totalkhudi se pyaar karo aur khudaa ke saath raho
ye tum se kis ne kahaa bevafaa ke saath raho
sazaaein dekhtaa huun aur sochtaa huun main
jahaan mein ishq se baDh kar koi bhi jurm nahin
ik tajassus huaa kartaa hai bure kaam se qabl
ek pachhtaavaa bure kaam ke anjaam ke baad
jab se TuuTaa hai to chubhtaa hai miri aankhon mein
khvaab thaa meraa kisi kaanch ke jaisaa shaayad
khudaa se chand maangein hain hamaari
hamaari bandagi haDtaal par hai
zindagi khvaab hai aur khvaab bhi aisaa ki jise
jaagti aankhon se sab ke liye dekhaa jaae
Ghazalغزل
کوئی تو سرسری ہڑتال پر ہے تو کوئی منطقی ہڑتال پر ہے ہمارے غم ہوئے ہیں اتنے ابتر ہماری ہر خوشی ہڑتال پر ہے کسی کی لاش بے گور و کفن ہے کسی کی زندگی ہڑتال پر ہے کوئی دولت کے ہاتھوں تنگ ہے اور کسی کی مفلسی ہڑتال پر ہے خدا سے چند مانگیں ہیں ہماری ہماری بندگی ہڑتال پر ہے امامت مسجدوں تک رہ گئی ہے جبھی تو مقتدی ہڑتال پر ہے مشینوں پر مشینیں آ رہی ہیں بیچارہ مستری ہڑتال پر ہے یہ دکھیاروں کی بستی ہے مری جاں یہاں ہر آدمی ہڑتال پر ہے
koi to sarsari haDtaal par hai
عدیل وقت امیروں کے زر پہ پلتا رہا جبھی تو ملک میں ظالم کا رعب چھایا رہا تمام پیاسوں نے دریا کا رخ کیا اور میں تمہارے آنسو ہتھیلی پہ لے کے بیٹھا رہا بہت سے لوگ بھلائے پہ وہ نہیں بھولا کئی ستارے بجھے پر وہ چاند جلتا رہا طبیب بڑھتے گئے اور مریض مرتے رہے درون شہر یہی کاروبار چلتا رہا ہوائے تیز مرے ذہن سے گزرتی رہی میں تیری یاد کے سارے دیے بچاتا رہا یہ دھوپ وقت سے پہلے تپش گنواتی رہی مسافروں کا سفر میں شباب ڈھلتا رہا یہ میری ماں کی دعا ہے جبھی تو زندگی میں بہت سی ٹھوکریں کھائیں مگر سنبھلتا رہا
adil-e-vaqt amiron ke zar pe paltaa rahaa
کہیں سزا تو کہیں پر جزا گلاب کا پھول مریض خار کی کامل دوا گلاب کا پھول کسی کے ہجر کی کل داستان ہوتا ہے کسی کی قبر پہ اگتا ہوا گلاب کا پھول کہیں غریب کے بچے کو روٹی مل نہ سکی کہیں وزیر پہ پھینکا گیا گلاب کا پھول جہاں پہ عشق و محبت سرے سے تھے ہی نہیں وہاں بھی عشق و محبت بنا گلاب کا پھول خبر ملی اسے جب میرے لوٹ جانے کی تب اس کے ہاتھ سے یک دم گرا گلاب کا پھول پھر اس نے صحن میں کیکر اگا لیے قصداً جب اس کے صحن میں نہ اگ سکا گلاب کا پھول فرات بھی تھا وہیں پاس میں مگر افسوس بلائے دشت میں جلتا رہا گلاب کا پھول شروع دن سے میں بے ذوق تھا سو میں نے علیؔ کبھی دیا نہ کسی سے لیا گلاب کا پھول
kahin sazaa to kahin par jazaa gulaab kaa phuul
دل میں اک قبر ہر اک حسرت ناکام کے بعد اور اک شوق کلام آخری پیغام کے بعد شام ڈھلتے ہی چراغوں کو بجھایا میں نے کوئی پروانہ نہیں مرنے دیا شام کے بعد ہائے افسوس صد افسوس مرے ہونٹوں پر ایک بھی نام نہیں ٹھہرا ترے نام کے بعد ذوق کچھ مٹ سا گیا اس کے چلے جانے سے کوئی بھایا نہ مجھے اس پری اندام کے بعد اک تجسس ہوا کرتا ہے برے کام سے قبل ایک پچھتاوا برے کام کے انجام کے بعد کوئی بھی جرم نہ ہو جرم محبت کے سوا کوئی الزام نہ ہو عشق کے الزام کے بعد اب تو فرصت بھی مرے واسطے ناپید ہے دوست اک نیا کام نکل آتا ہے ہر کام کے بعد
dil mein ik qabr har ik hasrat-e-naakaam ke baad
اپنی بے موسمی سی محبت کا اظہار کر کے مجھے ایسے مائل نہ کر یار تو جانتا ہے میں پہلے ہی تنہا ہوں سو تو مجھے اور تنہا نہ کر دیکھ میں جانتا ہوں ترے ہجر اور وصل کے بھید کو عشق کے وید کو تو مجھے ہجر میں رکھ یا پھر وصل میں ہاں مگر ان کے مابین رسوا نہ کر زندگی اور وقت اپنے اپنے تئیں کتنے بے رحم ہیں سب کو معلوم ہے ان کے ہاتھوں لگے زخم بھرنے بھی دے وقت بے وقت اب ان کو چھیڑا نہ کر
apni be-mausami si mohabbat kaa izhaar kar ke mujhe aise maail na kar
دیا سلائی بنا تیل جلنے والی نہیں بغیر عشق کے یہ عمر کٹنے والی نہیں کسی کی یاد ہے جو جان پر بنی ہوئی ہے یہ وہ گھٹا ہے جو بارش سے ٹلنے والی نہیں کچھ اس طرح سے جدا ہو گئے ہیں ہم دونوں میں ہنسنے والا نہیں اور وہ رونے والی نہیں محاذ عشق سے ہر شخص کامیاب آئے دعا کریں گے مگر بات ہونے والی نہیں میں گھر پلٹنے میں عجلت تو کر رہا ہوں مگر یہ شام شام جدائی ہے ڈھلنے والی نہیں
diyaa-salaai binaa tel jalne vaali nahin





