"kya ta.ajjub hai jo yaron ne rifaqat chhoDi baiThta kaun hai girti hui divar ke paas"

Ameer Raza Mazhari
Ameer Raza Mazhari
Ameer Raza Mazhari
Sherشعر
See all 7 →kya ta.ajjub hai jo yaron ne rifaqat chhoDi
کیا تعجب ہے جو یاروں نے رفاقت چھوڑی بیٹھتا کون ہے گرتی ہوئی دیوار کے پاس
ham bane the tabah hone ko
ہم بنے تھے تباہ ہونے کو آپ کا عشق تو بہانہ تھا
ham ko bachpan hi se ik shauq tha barbadi se
ہم کو بچپن ہی سے اک شوق تھا بربادی سے نام لکھ لکھ کے مٹاتے تھے زمیں پر اپنا
hamare baa'd sunna dusron se
ہمارے بعد سننا دوسروں سے کہانی یہ ابھی پوری نہیں ہے
tum kisi ke bhi ho nahin sakte
تم کسی کے بھی ہو نہیں سکتے تم کو اپنا بنا کے دیکھ لیا
ham hain un se vo ghair se mayus
ہم ہیں ان سے وہ غیر سے مایوس کیا محبت کسی کو راس نہیں
Popular Sher & Shayari
14 total"ham bane the tabah hone ko aap ka ishq to bahana tha"
"ham ko bachpan hi se ik shauq tha barbadi se naam likh likh ke miTate the zamin par apna"
"hamare baa'd sunna dusron se kahani ye abhi puuri nahin hai"
"tum kisi ke bhi ho nahin sakte tum ko apna bana ke dekh liya"
"ham hain un se vo ghair se mayus kya mohabbat kisi ko raas nahin"
tum kisi ke bhi ho nahin sakte
tum ko apnaa banaa ke dekh liyaa
ham ko bachpan hi se ik shauq thaa barbaadi se
naam likh likh ke miTaate the zamin par apnaa
ham hain un se vo ghair se maayus
kyaa mohabbat kisi ko raas nahin
kyaa taajjub hai jo yaaron ne rifaaqat chhoDi
baiThtaa kaun hai girti hui divaar ke paas
dekhne vaale samajhte hain shanaasaa bhi nahin
aaj begaane nazar aate hain ham tum kitne
hamaare baa'd sunnaa dusron se
kahaani ye abhi puuri nahin hai
Ghazalغزل
sunein bahaar ki rangin-bayaaniyaan kyaa kyaa
سنیں بہار کی رنگیں بیانیاں کیا کیا کہیں تبسم گل نے کہانیاں کیا کیا دیا جواب نہ کچھ مسکرا کے رہ گئے پھول زبان خار نے کیں بد زبانیاں کیا کیا بڑھا نہ ناقۂ لیلیٰ بغیر نالۂ قیس ہنر دکھاتی رہیں ساربانیاں کیا کیا مزاج سنگ نہ پگھلا کہ تھا نہ سوز کلیم عصا پٹکتی رہیں قہرمانیاں کیا کیا زبان عقل پہ کچھ ہے زبان عشق پہ کچھ ترے سکوت سے نکلیں کہانیاں کیا کیا نہ دیتا حسن اگر دل کو عشق کا شعلہ خود اپنی آگ میں جلتیں جوانیاں کیا کیا مزاج عشق نے پکڑا نہ اعتبار کا رنگ شریک وہم رہیں خوش گمانیاں کیا کیا جرس بھی چپ رہا ٹوٹی نہ کارواں کی بھی نیند سکوت دشت نے کیں نوحہ خوانیاں کیا کیا پکارتی ہے رضاؔ گرد کارواں لیکن بنی ہیں بار سفر سرگرانیاں کیا کیا
kisi tarah bhi jo is reg-zaar-e-hasti par
کسی طرح بھی جو اس ریگ زار ہستی پر ابھر سکا جو نہ پورا وہ نقش پا ہوں میں جو ہر طرف سے ہواؤں کی ٹھوکریں کھائے در قبول کی رد کردہ وہ دعا ہوں میں نہ حوصلوں میں تموج نہ ولولوں میں خروش اسی کا نام ہے جینا تو جی رہا ہوں میں وفا پہ طنز ہے آوارگیٔ شوق نہیں ہر آستاں پہ جو سجدے بکھیرتا ہوں میں بدل سکی جسے اب تک نہ بے رخی تیری وہی وفا کا ستایا ہوا رضاؔ ہوں میں
idhar se bhi to havaa-e-bahaar guzri hai
ادھر سے بھی تو ہوائے بہار گزری ہے کچھ ایک بار نہیں بار بار گزری ہے گلا نہیں یہ فقط عرض حال ہے اے دوست ترے بغیر بہت بے قرار گزری ہے وہی تو میری حیات سفر کی پونجی ہے وہ زندگی جو سر رہ گزار گزری ہے قلم لیے ہوئے سوچا کیے کہ کیا لکھیں کچھ اس طرح بھی شب انتظار گزری ہے بھلا سکیں گے نہ اس کو قفس میں اے صیاد وہ دو گھڑی جو سر شاخسار گزری ہے کبھی کبھی تو مری بر محل خموشی بھی انہیں فغاں کی طرح ناگوار گزری ہے ہوئیں جو دل سے مرے بدگمانیاں ان کو تو شاعری بھی مری ناگوار گزری ہے خزاں میں بھی نہ کسی کی خدا کرے گزرے وہ جس طرح مری فصل بہار گزری ہے ابھر گئی ہے کہیں پر رضاؔ جو تلخیٔ فکر مرے مزاج غزل پر وہ بار گزری ہے
rahguzar-baashon ko saae ki bhi kyaa haajat nahin
رہ گزر باشوں کو سائے کی بھی کیا حاجت نہیں پوچھتے ہیں عالم نو تیرے معماروں سے ہم کیا خبر تھی آ کے منزل پر وہ ہوگا چاک چاک جو بچا لائے تھے دامن راہ کے خاروں سے ہم جیسے سایہ بھی گناہوں کا نہیں ہم پر پڑا کس قدر دامن کشیدہ ہیں گنہ گاروں سے ہم دم نہ لیں گے جب تلک یہ سامنے سے ہٹ نہ جائیں ٹکریں لیتے رہیں گے اونچی دیواروں سے ہم آپ غم خواری کی زحمت مت گوارا کیجئے التجا کرتے ہیں اب یہ اپنے غم خواروں سے ہم اپنی ناداری سے خود اپنی نظر میں ہیں سبک اس قدر مرعوب ہیں دولت کے انباروں سے ہم ہو رہے ہیں حوصلے پورے مشیت کے رضاؔ لے رہے ہیں باج مہر و ماہ سے تاروں سے ہم
mire sajda-e-haa-e-niyaaz ko tire aastaan ki talaash hai
مرے سجدہ ہائے نیاز کو ترے آستاں کی تلاش ہے کسی فرد کی یہ طلب نہیں یہ تو اک جہاں کی تلاش ہے نئی سرزمیں کی ہے جستجو نئے آسماں کی تلاش ہے جو مکاں بھی ٹھیک نہ رکھ سکے انہیں لا مکاں کی تلاش ہے مرے پائے شوق سفر میں ہیں ابھی راہ و رسم کی بندشیں مجھے نقش پا کی ہے جستجو مجھے کارواں کی تلاش ہے جو خزاں نصیب ازل کے ہیں انہیں فصل گل کی ہے آرزو وہ جو تھک چکے ہیں بہار سے انہیں اب خزاں کی تلاش ہے یہ مرا کمال مصوری یہ مرا شعور صنم گری ابھی ذوق حسن کثیف ہے اسے جسم و جاں کی تلاش ہے مری زندگی کا فسانہ کیا جو سناؤں شوق سے آپ کو کسی مہرباں کی تلاش تھی کسی مہرباں کی تلاش ہے جو قفس سے چھوٹ کے آئے ہم کسی شاخ نے بھی جگہ نہ دی ہیں چمن میں آ کے بھی بے نوا ہمیں آشیاں کی تلاش ہے ابھی قرض ان کی نظر پہ ہے ترے جلوہ ہائے مجاز کا جو حقیقتوں سے گزر چکے انہیں داستاں کی تلاش ہے ترے دشمنوں کی صفوں پہ یہ کسی دور میں نہ چمک سکی تری تیغ ناز کی آج تک سر دوستاں کی تلاش ہے خس و خار کو بھی جو دئے رضاؔ تر و تازہ رہنے کا حوصلہ اسی باغباں کی ہے آرزو اسی گلستاں کی تلاش ہے
hai muamma miri mohabbat bhi
ہے معمہ مری محبت بھی شکر کے ساتھ ہے شکایت بھی دل کو پیاری ہے جس کی نفرت بھی کیا ہو گر وہ کرے محبت بھی دشمن اعتبار ہوتی ہے بعض حالات میں حقیقت بھی اسی معمورے میں بنا لی ہے سادہ لوحوں نے اپنی جنت بھی اس محبت پہ ناز کیا کیجے ہو ملی جس میں کچھ مروت بھی آگ دل کی کسی طرح نہ بجھی پی کے دیکھی مئے محبت بھی تیرے کوچے میں جائیں کس منہ سے کھو چکے ہم تری امانت بھی ہو بصارت سے کیا امید رضاؔ دھوکے دیتی ہے جب بصیرت بھی





