"main jitni aur piita ja raha huun nasha utna utarta ja raha hai"

Amit Sharma Meet
Amit Sharma Meet
Amit Sharma Meet
Sherشعر
See all 24 →main jitni aur piita ja raha huun
میں جتنی اور پیتا جا رہا ہوں نشہ اتنا اترتا جا رہا ہے
dil TuuTa to 'mit' samajh men ye aaya
دل ٹوٹا تو میتؔ سمجھ میں یہ آیا عشق وفا سب ایک پہیلی نکلی ہے
zindagi ka ye miri kaun hai qatil jaane
زندگی کا یہ مری کون ہے قاتل جانے میں ہوں مشکل میں سزا دوں تو سزا دوں کس کو
december ki sardi hai us ke hi jaisi
دسمبر کی سردی ہے اس کے ہی جیسی ذرا سا جو چھو لے بدن کانپتا ہے
sach kahne ka akhir ye anjam hua
سچ کہنے کا آخر یہ انجام ہوا ساری بستی میں میں ہی بدنام ہوا
teri surat teri chahat yaden sab
تیری صورت تیری چاہت یادیں سب چھوٹے سے اس دل میں کیا کیا رکھوں گا
Popular Sher & Shayari
48 total"dil TuuTa to 'mit' samajh men ye aaya ishq vafa sab ek paheli nikli hai"
"zindagi ka ye miri kaun hai qatil jaane main huun mushkil men saza duun to saza duun kis ko"
"december ki sardi hai us ke hi jaisi zara sa jo chhu le badan kanpta hai"
"sach kahne ka akhir ye anjam hua saari basti men main hi badnam hua"
"teri surat teri chahat yaden sab chhoTe se is dil men kya kya rakkhunga"
sach kahne kaa aakhir ye anjaam huaa
saari basti mein main hi badnaam huaa
december ki sardi hai us ke hi jaisi
zaraa saa jo chhu le badan kaanptaa hai
raat-bhar khvaab mein jalnaa bhi ik bimaari hai
ishq ki aag se bachne mein samajhdaari hai
raat bechain si sardi mein ThiThurti hai bahut
din bhi har roz sulagtaa hai tiri yaadon se
puraani dekh kar tasvir teri
nayaa har din guzartaa jaa rahaa hai
hamaaraa hijr bhi ab masala ban
zamaane mein uchhaltaa jaa rahaa hai
Ghazalغزل
jab jazba ik baar jigar mein aataa hai
جب جذبہ اک بار جگر میں آتا ہے پھر سب اپنے آپ ہنر میں آتا ہے سب کی زد میں اک میرا ہی گھر ہے کیا روز نیا اک پتھر گھر میں آتا ہے کل میرے سائے میں اس کی شکل دکھی منظر ایسے پس منظر میں آتا ہے میں تنہا آتا ہوں محفل میں یاروں باقی ہر انساں لشکر میں آتا ہے لہجہ اس کا ہر جانب ہے مسلط یوں وہ بندہ ہر بار خبر میں آتا ہے دہشت اس لمحے کی دل میں اتنی ہے اکثر ہی وہ لمحہ ڈر میں آتا ہے میتؔ سبھی کا ساتھ یہاں پر دیتا ہے جو کوئی بھی بیچ سفر میں آتا ہے
na khuli aankhon se dahshat kaa nazaaraa dekhnaa
نہ کھلی آنکھوں سے دہشت کا نظارا دیکھنا جو ہمارا ہے اسے اوروں کا ہوتا دیکھنا روبرو اس کو نظر بھر دیکھ بھی سکتے نہیں ہائے کتنا دکھ بھرا ہے خود کو ایسا دیکھنا کیا عجب سا روگ بینائی کو میری لگ گیا ہر کسی چہرے میں بس اس کا ہی چہرہ دیکھنا عشق میں پتھرا چکی آنکھوں سے ہے مشکل بہت چاند کو ٹھہرے ہوئے پانی میں چلتا دیکھنا ہائے کیا منظر کشی ابھری ہے اس تصویر میں روتی آنکھوں سے کسی پیاسے کا دریا دیکھنا رات بھر بے چینیاں سونے نہیں دیتیں مجھے اور دن بھر رات کے ہونے کا رستہ دیکھنا موت ہم سے دو قدم کے فاصلے پر ہے کھڑی اب بہت دلچسپ ہوگا یہ تماشا دیکھنا
yuun apne dil ko bahlaane lage hain
یوں اپنے دل کو بہلانے لگے ہیں لپٹ کر خود کے ہی شانے لگے ہیں ہمیں تو موت بھی آساں نہیں تھی سو اب زندہ نظر آنے لگے ہیں اداسی اس قدر حاوی تھی ہم پر کہ خوش ہونے پہ اترانے لگے ہیں جو دیکھی اک شکاری کی اداسی پرندے لوٹ کر آنے لگے ہیں سلیقے سے لپٹ کر پاؤں سے اب یہ غم زنجیر پہنانے لگے ہیں غموں کی دھوپ بڑھتی جا رہی ہے خوشی کے پھول مرجھانے لگے ہیں فقط اب چند قدموں پہ ہے منزل مگر ہم ہیں کہ سستانے لگے ہیں
is miTTi ko aise khel khilaayaa ham ne
اس مٹی کو ایسے کھیل کھلایا ہم نے خود کو روز بگاڑا روز بنایا ہم نے جو سوچا تھا وہ تو ہم سے بنا نہیں پھر جو بن پایا اس سے جی بہلایا ہم نے غم کو پھر سے تنہائی کے ساتھ میں مل کر ہنستے ہنستے باتوں میں الجھایا ہم نے نا ممکن تھا اس کو حاصل کرنا پھر بھی پوری شدت سے یہ عشق نبھایا ہم نے اس کی یادیں بوجھ نہ بن جائیں سانسوں پر سو یادوں سے اپنا دل دھڑکایا ہم نے کہہ دیتے تو شاید اچھے ہو جاتے پر خاموشی سے اپنا مرض بڑھایا ہم نے اس کا چہرہ دیکھ لیا تھا ایک دفعہ پھر ان آنکھوں سے سالوں قرض چکایا ہم نے
duniyaa ko jab nazdiki se dekhaa hai
دنیا کو جب نزدیکی سے دیکھا ہے تب سمجھا یہ سب کچھ کھیل تماشہ ہے ہاتھوں کی دو چار لکیریں پڑھ کر وہ مجھ سے بولا آگے سب کچھ اچھا ہے اس سے بس اک بار ملا پر حیراں ہوں دل میں تب سے گھر کر کے وہ بیٹھا ہے کاغذ پر دل کی تصویر بنائی جب اس نے پوچھا یہ کس شے کا نقشہ ہے سوچ رہا ہوں میں اس کا سودا کر دوں اس کی یادوں کا جو دل میں ملبہ ہے دونوں پہلو میں ہی ہار چھپی اس میں میرے ہاتھوں میں اب یہ جو سکہ ہے اس خاطر میں روز مشقت کرتا ہوں آسانی سے کیا حاصل ہو پاتا ہے جب قدرت نے تھوڑا آج نوازا تو سارے مجھ سے پوچھے ہیں تو کیسا ہے میتؔ یہاں اپنے تو نام کے اپنے ہیں انجانوں سے رشتہ دل کا گہرا ہے
jism ko jiine ki aazaadi deti hain
جسم کو جینے کی آزادی دیتی ہیں سانسیں ہر پل ہی قربانی دیتی ہیں راتیں ساری کروٹ میں ہی بیت رہیں یادیں بھی کتنی بے چینی دیتی ہیں جو راہیں خود میں ہی بے منزل سی ہوں ایسی راہیں ناکامی ہی دیتی ہیں کیسے بھی پر مجھ کو کچھ سپنے تو دیں آنکھیں کیا کیول بینائی دیتی ہیں میتؔ مجھے اکثر راتوں میں لگتا ہے روحیں مجھ کو آوازیں سی دیتی ہیں





