SHAWORDS
Amjad Khan Tajwana

Amjad Khan Tajwana

Amjad Khan Tajwana

Amjad Khan Tajwana

poet
11Sher
11Shayari
9Ghazal

Sherشعر

See all 11

Popular Sher & Shayari

22 total

Ghazalغزل

See all 9
غزل · Ghazal

raunaqein daar ki baDhaate hue

رونقیں دار کی بڑھاتے ہوئے میں مرا عہد کو نبھاتے ہوئے روشنی زخم کی کچھ اور بڑھی شہر کو راستہ دکھاتے ہوئے میرے اندر کا شور بڑھتا گیا چپ کی دیوار کو اٹھاتے ہوئے خود کلامی کی پڑ گئی عادت وسوسوں کی چتا جلاتے ہوئے ہجر کی تلخیاں کہ بڑھتی گئیں فاصلوں کا گلا دباتے ہوئے کیسے کیسے جتن کیے میں نے تیرے پہلو میں گھر بناتے ہوئے جانے کس کرب سے میں گزروں گا میرے امجدؔ تجھے بھلاتے ہوئے

غزل · Ghazal

raasta tabdil karne se rahaa

راستہ تبدیل کرنے سے رہا دل مری تعمیل کرنے سے رہا دیکھنے کی ان کو عادت ہے تجھے اپنی آنکھیں سیل کرنے سے رہا ربط کے فقدان پر میں کم نما غیب کی تمثیل کرنے سے رہا راس آئی ہوں جسے آزادیاں جبر کی تکمیل کرنے سے رہا تم نے جھٹلانا ہے جھٹلا دو مگر سچ کو میں تحلیل کرنے سے رہا پھونک دم تعویذ دے مرشد کہ میں دائرے کو کیل کرنے سے رہا مت بتا تو صبر کے معنی مجھے میں انا کی ڈیل کرنے سے رہا پڑھ مرا چہرہ کہ تجھ پر بھی کھلے آنکھ تو میں جھیل کرنے سے رہا

غزل · Ghazal

koi ik shaam ham faqiron mein

کوئی اک شام ہم فقیروں میں کر لے آرام ہم فقیروں میں جذب و مستی میں تو بھی ڈال دھمال اور کما نام ہم فقیروں میں جا کہیں کھول اور دکاں اپنی تیرا کیا کام ہم فقیروں میں روح تک تو پہنچ نہیں پاتا عشق ناکام ہم فقیروں میں مے سے مشہور ہے کہیں امجدؔ آنکھ کا جام ہم فقیروں میں

غزل · Ghazal

tire haathon ki coffē aur baarish

ترے ہاتھوں کی کافی اور بارش یہ دنیا ہے اضافی اور بارش گنوا بیٹھے جو راہ عشق میں ہم نہیں اس کی تلافی اور بارش وہ جھگڑا نت نئی باتوں پہ تم سے معافی اور تلافی اور بارش غضب تروینیاں گلزارؔ تیری غزل فرتاش حافیؔ اور بارش کروں پھر کیا زمانے کا میں امجدؔ مجھے بس تو ہے کافی اور بارش

غزل · Ghazal

kuchh tire khat sanbhaal rakkhe hain

کچھ ترے خط سنبھال رکھے ہیں کتنے غم ہیں جو پال رکھے ہیں یوںہی چہرے پہ جھریاں تو نہیں ساتھ میں ماہ و سال رکھے ہیں یہ مرے شعر قیمتی ہیں بہت ان میں تیرے خیال رکھے ہیں عشق کے ساتھ درد کے ناطے جتنے رکھے کمال رکھے ہیں حادثے وقت میں ہیں جتنے بھی ہم نے وہ کل پہ ٹال رکھے ہیں کتنا مشکل تھا زندگی کا سفر سانس ہم نے بحال رکھے ہیں ان فضاؤں میں خوف ہے امجدؔ کس شکاری نے جال رکھے ہیں

غزل · Ghazal

kaun kahtaa hai havaaon mein rahe hain 'amjad'

کون کہتا ہے ہواؤں میں رہے ہیں امجدؔ ہم تو اک شخص کے پاؤں میں رہے ہیں امجد شام ہوتے ہی ہمیں تھام لیا صدموں نے ہم ترے بعد سزاؤں میں رہے ہیں امجد جس پہ لکھا تھا ترا نام محبت سے کبھی ہم اسی پیڑ کی چھاؤں میں رہے ہیں امجد ورنہ یہ شہر تو کھا جاتا بلاؤں کی طرح وہ تو ہم ماں کی دعاؤں میں رہے ہیں امجد ہم نے غربت میں بھی پھیلائے نہیں ہاتھ کبھی ہم سدا اپنی اناؤں میں رہے ہیں امجدؔ

Similar Poets