"ek din main kisi par hansa tha miyan phir ka.i roz tak mujh ko rona paDa"

Amjad Khan Tajwana
Amjad Khan Tajwana
Amjad Khan Tajwana
Sherشعر
See all 11 →ek din main kisi par hansa tha miyan
ایک دن میں کسی پر ہنسا تھا میاں پھر کئی روز تک مجھ کو رونا پڑا
niind ke ghar men hain khvab aane lage
نیند کے گھر میں ہیں خواب آنے لگے عشق ہے ناچتا آنکھ کے صحن میں
bas kahin mohabbat ka ghar ho aur december ho
بس کہیں محبت کا گھر ہو اور دسمبر ہو دل میں پھر نہ کوئی بھی ڈر ہو اور دسمبر ہو
'ishq dariya men jab se bahne laga
عشق دریا میں جب سے بہنے لگا موج در موج شعر کہنے لگا
tere hathon mile agar murshid
تیرے ہاتھوں ملے اگر مرشد چائے پینا ثواب لگتا ہے
mas.ala jo bhi ho hal ho jaa.e
مسئلہ جو بھی ہو حل ہو جائے تجھ کو سوچوں تو غزل ہو جائے
Popular Sher & Shayari
22 total"niind ke ghar men hain khvab aane lage 'ishq hai nachta aankh ke sahn men"
"bas kahin mohabbat ka ghar ho aur december ho dil men phir na koi bhi Dar ho aur december ho"
"'ishq dariya men jab se bahne laga mauj-dar-mauj she'r kahne laga"
"tere hathon mile agar murshid chaa.e piina savab lagta hai"
"mas.ala jo bhi ho hal ho jaa.e tujh ko sochun to ghazal ho jaa.e"
log logon se dosti kar ke
kitnaa saste mein bech dete hain
tere haathon mile agar murshid
chaae piinaa savaab lagtaa hai
niind ke ghar mein hain khvaab aane lage
'ishq hai naachtaa aankh ke sahn mein
munh kabhi ham ne apnon se moDaa nahin
shahr mein bas ke bhi gaanv chhoDaa nahin
'ishq dariyaa mein jab se bahne lagaa
mauj-dar-mauj she'r kahne lagaa
kisi na kisi zaabte mein rahe hain
bichhaD kar bhi ham raabte mein rahe hain
Ghazalغزل
raunaqein daar ki baDhaate hue
رونقیں دار کی بڑھاتے ہوئے میں مرا عہد کو نبھاتے ہوئے روشنی زخم کی کچھ اور بڑھی شہر کو راستہ دکھاتے ہوئے میرے اندر کا شور بڑھتا گیا چپ کی دیوار کو اٹھاتے ہوئے خود کلامی کی پڑ گئی عادت وسوسوں کی چتا جلاتے ہوئے ہجر کی تلخیاں کہ بڑھتی گئیں فاصلوں کا گلا دباتے ہوئے کیسے کیسے جتن کیے میں نے تیرے پہلو میں گھر بناتے ہوئے جانے کس کرب سے میں گزروں گا میرے امجدؔ تجھے بھلاتے ہوئے
raasta tabdil karne se rahaa
راستہ تبدیل کرنے سے رہا دل مری تعمیل کرنے سے رہا دیکھنے کی ان کو عادت ہے تجھے اپنی آنکھیں سیل کرنے سے رہا ربط کے فقدان پر میں کم نما غیب کی تمثیل کرنے سے رہا راس آئی ہوں جسے آزادیاں جبر کی تکمیل کرنے سے رہا تم نے جھٹلانا ہے جھٹلا دو مگر سچ کو میں تحلیل کرنے سے رہا پھونک دم تعویذ دے مرشد کہ میں دائرے کو کیل کرنے سے رہا مت بتا تو صبر کے معنی مجھے میں انا کی ڈیل کرنے سے رہا پڑھ مرا چہرہ کہ تجھ پر بھی کھلے آنکھ تو میں جھیل کرنے سے رہا
koi ik shaam ham faqiron mein
کوئی اک شام ہم فقیروں میں کر لے آرام ہم فقیروں میں جذب و مستی میں تو بھی ڈال دھمال اور کما نام ہم فقیروں میں جا کہیں کھول اور دکاں اپنی تیرا کیا کام ہم فقیروں میں روح تک تو پہنچ نہیں پاتا عشق ناکام ہم فقیروں میں مے سے مشہور ہے کہیں امجدؔ آنکھ کا جام ہم فقیروں میں
tire haathon ki coffē aur baarish
ترے ہاتھوں کی کافی اور بارش یہ دنیا ہے اضافی اور بارش گنوا بیٹھے جو راہ عشق میں ہم نہیں اس کی تلافی اور بارش وہ جھگڑا نت نئی باتوں پہ تم سے معافی اور تلافی اور بارش غضب تروینیاں گلزارؔ تیری غزل فرتاش حافیؔ اور بارش کروں پھر کیا زمانے کا میں امجدؔ مجھے بس تو ہے کافی اور بارش
kuchh tire khat sanbhaal rakkhe hain
کچھ ترے خط سنبھال رکھے ہیں کتنے غم ہیں جو پال رکھے ہیں یوںہی چہرے پہ جھریاں تو نہیں ساتھ میں ماہ و سال رکھے ہیں یہ مرے شعر قیمتی ہیں بہت ان میں تیرے خیال رکھے ہیں عشق کے ساتھ درد کے ناطے جتنے رکھے کمال رکھے ہیں حادثے وقت میں ہیں جتنے بھی ہم نے وہ کل پہ ٹال رکھے ہیں کتنا مشکل تھا زندگی کا سفر سانس ہم نے بحال رکھے ہیں ان فضاؤں میں خوف ہے امجدؔ کس شکاری نے جال رکھے ہیں
kaun kahtaa hai havaaon mein rahe hain 'amjad'
کون کہتا ہے ہواؤں میں رہے ہیں امجدؔ ہم تو اک شخص کے پاؤں میں رہے ہیں امجد شام ہوتے ہی ہمیں تھام لیا صدموں نے ہم ترے بعد سزاؤں میں رہے ہیں امجد جس پہ لکھا تھا ترا نام محبت سے کبھی ہم اسی پیڑ کی چھاؤں میں رہے ہیں امجد ورنہ یہ شہر تو کھا جاتا بلاؤں کی طرح وہ تو ہم ماں کی دعاؤں میں رہے ہیں امجد ہم نے غربت میں بھی پھیلائے نہیں ہاتھ کبھی ہم سدا اپنی اناؤں میں رہے ہیں امجدؔ





