"ye badshah nahin hai faqir hai suraj hamesha raat ki jholi se din nikalta hai"

Anjum Barabankvi
Anjum Barabankvi
Anjum Barabankvi
Sherشعر
See all 17 →ye badshah nahin hai faqir hai suraj
یہ بادشاہ نہیں ہے فقیر ہے سورج ہمیشہ رات کی جھولی سے دن نکالتا ہے
mujhe sone ki qimat mat batao
مجھے سونے کی قیمت مت بتاؤ میں مٹی ہوں مری عظمت بہت ہے
jo doston ki mohabbat se ji nahin bharta
جو دوستوں کی محبت سے جی نہیں بھرتا تو آستین میں دو چار سانپ پال کے رکھ
ghar-bar chhoD kar vo faqiron se ja mile
گھر بار چھوڑ کر وہ فقیروں سے جا ملے چاہت نے بادشاہوں کو محکوم کر دیا
ghair to aansu pochhenge
غیر تو آنسو پوچھیں گے دھوکا دیں گے اپنے لوگ
me.araj-e-aqidat hai ki ta.aviz ki surat
معراج عقیدت ہے کہ تعویذ کی صورت بازو پہ کوئی خاک وطن باندھے ہوئے ہے
Popular Sher & Shayari
34 total"mujhe sone ki qimat mat batao main miTTi huun miri azmat bahut hai"
"jo doston ki mohabbat se ji nahin bharta to astin men do-char saanp paal ke rakh"
"ghar-bar chhoD kar vo faqiron se ja mile chahat ne badshahon ko mahkum kar diya"
"ghair to aansu pochhenge dhoka denge apne log"
"me.araj-e-aqidat hai ki ta.aviz ki surat baazu pe koi khak-e-vatan bandhe hue hai"
ye baadshaah nahin hai faqir hai suraj
hamesha raat ki jholi se din nikaaltaa hai
mujhe sone ki qimat mat bataao
main miTTi huun miri azmat bahut hai
jo doston ki mohabbat se ji nahin bhartaa
to aastin mein do-chaar saanp paal ke rakh
jis baat kaa matlab khushbu hai har gaanv ke kachche raste par
us baat kaa matlab badlegaa jab pakki saDak aa jaaegi
mashhur bhi hain badnaam bhi hain khushiyon ke nae paighaam bhi hain
kuchh gham ke baDe inaam bhi hain paDhiye to kahaani kaam ki hai
ghair to aansu pochheinge
dhokaa deinge apne log
Ghazalغزل
har ek lafz mein siine kaa nuur Dhaal ke rakh
ہر ایک لفظ میں سینے کا نور ڈھال کے رکھ کبھی کبھار تو کاغذ پہ دل نکال کے رکھ جو دوستوں کی محبت سے جی نہیں بھرتا تو آستین میں دو چار سانپ پال کے رکھ تجھے تو کتنی بہاریں سلام بھیجیں گی ابھی یہ پھول سا چہرہ ذرا سنبھال کے رکھ یہاں سے دھوپ کے نیزے بلند ہوتے ہیں تمام چھاؤں کے قصوں پہ خاک ڈال کے رکھ مہک رہے ہیں کئی آسمان مٹی میں قدم زمین محبت پہ دیکھ بھال کے رکھ دل و دماغ ٹھکانے پہ آنے والے ہیں اب اس کا ذکر کسی اور دن پہ ٹال کے رکھ
dilon se khauf ke aaseb-o-jin nikaaltaa hai
دلوں سے خوف کے آسیب و جن نکالتا ہے وہی چراغ جلاتا ہے دن نکالتا ہے عجیب تیشہ ہے مزدور کا پسینہ بھی پہاڑ کاٹ کے راستہ کٹھن نکالتا ہے یہ بادشاہ نہیں ہے فقیر ہے سورج ہمیشہ رات کی جھولی سے دن نکالتا ہے ذرا سی دیر میں کوئی گلاب توڑے گا جو اپنے کوٹ کے کالر سے پن نکالتا ہے اسی کے نام سے منسوب ہے غزل اپنی جو نام پھول کھلاتا ہے دن نکالتا ہے
khayaal jaan se baDh kar safar mein rahtaa hai
خیال جان سے بڑھ کر سفر میں رہتا ہے وہ میری روح کے اندر سفر میں رہتا ہے جو سارے دن کی تھکن اوڑھ کر میں سوتا ہوں تو ساری رات مرا گھر سفر میں رہتا ہے جنم جنم سے مری پیاس سر پٹکتی ہے جنم جنم سے سمندر سفر میں رہتا ہے مرا یقین کرو اس کے پاؤں میں تل ہے اسی لئے وہ برابر سفر میں رہتا ہے میں دل ہی دل میں جسے پوجنے لگا ہوں بہت وہ دیوتا نہیں پتھر سفر میں رہتا ہے
zanjir to pairon se thakan baandhe hue hai
زنجیر تو پیروں سے تھکن باندھے ہوئے ہے دیوانہ مگر سر سے کفن باندھے ہوئے ہے خوشبو کے بکھرنے میں ذرا دیر لگے گی موسم ابھی پھولوں کے بدن باندھے ہوئے ہے دستار میں طاؤس کے پر باندھنے والا گردن میں مسائل کی رسن باندھے ہوئے ہے شاید کسی مجذوب محبت کو خبر ہو کس سحر سے دھرتی کو گگن باندھے ہوئے ہے معراج عقیدت ہے کہ تعویذ کی صورت بازو پہ کوئی خاک وطن باندھے ہوئے ہے سورج نے اندھیروں کی نظر باندھ کے پوچھا اب کون اجالوں کا سخن باندھے ہوئے ہے
ham sab ko bataate rahte hain ye baat puraani kaam ki hai
ہم سب کو بتاتے رہتے ہیں یہ بات پرانی کام کی ہے دس بیس گھروں میں چرچے ہوں تب جا کے جوانی کام کی ہے یہ وقت ابھی تھم جائے گا ماحول میں دل رم جائے گا بس آپ یوں ہی بیٹھے رہئے یہ رات سہانی کام کی ہے آسان بھی ہے دشوار بھی ہے دکھ سکھ کا بڑا بازار بھی ہے معلوم نہیں تو مجھ سے سنو یہ دنیا دوانی کام کی ہے مشہور بھی ہیں بدنام بھی ہیں خوشیوں کے نئے پیغام بھی ہیں کچھ غم کے بڑے انعام بھی ہیں پڑھیے تو کہانی کام کی ہے جو لوگ چلے ہیں رک رک کر ہموار زمیں پر جھک جھک کر وہ کیسے بتائیں گے تم کو دریا کی روانی کام کی ہے
vo jis ke naam mein lazzat bahut hai
وہ جس کے نام میں لذت بہت ہے اسی کے ذکر سے برکت بہت ہے ذرا محفوظ رستوں سے گزرنا تمہاری شہر میں شہرت بہت ہے ابھی سورج نے لب کھولے نہیں ہیں ابھی سے دھوپ میں شدت بہت ہے مجھے سونے کی قیمت مت بتاؤ میں مٹی ہوں مری عظمت بہت ہے کسی کی یاد میں کھوئے رہیں گے گنہگاروں کو یہ جنت بہت ہے جنہیں مصروف رہنے کا مرض تھا انہیں بھی آج کل فرصت بہت ہے جہاں پر خوشبوئیں تھیں زندگی کی اسی محفل میں اب غیبت بہت ہے کبھی تو حسن کا صدقہ نکالو تمہارے پاس یہ دولت بہت ہے غزل خود کہہ کے پڑھنا چاہتے ہو میاں اس کام میں محنت بہت ہے ہوا تو تھم چکی لیکن دیوں کے رویوں میں ابھی دہشت بہت ہے





