hijaab un se vo meraa puchhnaa sar rakh ke qadmon par
sabab kyaa hai jo yuun mujh se khafaa sarkaar baiThe hain

Anwari Jahan Begum Hijab
Anwari Jahan Begum Hijab
Anwari Jahan Begum Hijab
Popular Shayari
7 totalmilne ke baa'd baiTh rahaa pher kar nigaah
zaalim yagaana hote hi begaana ho gayaa
siina se siina milaa denaa to kuchh mushkil nahin
yaar mushkil to tire dil se milaanaa dil kaa hai
kahaan mumkin hai poshida gham-e-dil kaa asar honaa
labon kaa khushk ho jaanaa bhi hai aankhon kaa tar honaa
qayaamat thaa sitam thaa qahr thaa khalvat mein o zaalim
vo sharmaa kar tiraa meri baghal mein jalva-gar honaa
muhit-e-rahmat hai josh-afzaa hui hai abr-e-sakhaa ki aamad
khudaa ki har chiiz kah rahi hai ki ab hai nur-e-khudaa ki aamad
sifaarish ham-damon ki un kaa jaate vaqt ye kahnaa
ki jab taDpe miri tasvir siine se lagaa denaa
Ghazalغزل
کہاں ممکن ہے پوشیدہ غم دل کا اثر ہونا لبوں کا خشک ہو جانا بھی ہے آنکھوں کا تر ہونا غضب مل کر جدا مجھ سے ترا او فتنہ گر ہونا ستم نالوں کا پر تاثیر ہو کر بے اثر ہونا جگر میں درد لب پر نالۂ وحشت اثر ہونا عیاں کرتا ہے اک رشک پری کا دل میں گھر ہونا غضب نالہ کشی اک صاحب عصمت کے کوچہ میں ستم اے دل کسی پردہ نشیں کا پردہ در ہونا وہ ان کا چپکے چپکے مسکرانا خون رونے پر وہ میرا دل ہی دل میں واصف رنگ اثر ہونا جو تنہا پاس منزل دل کو شایاں ہے محبت میں تو آنکھوں کو ہے لازم دیدۂ حسرت نگر ہونا قیامت تھا ستم تھا قہر تھا خلوت میں او ظالم وہ شرما کر ترا میری بغل میں جلوہ گر ہونا ستم کی جور کی بیداد کی کافی شہادت ہے جدائی میں مرا بیتاب بے خود بے خبر ہونا
kahaan mumkin hai poshida gham-e-dil kaa asar honaa
محیط رحمت ہے جوش افزا ہوئی ہے ابر سخا کی آمد خدا کی ہر چیز کہہ رہی ہے کہ اب ہے نور خدا کی آمد فلک کو ہے آرزو کہ جھک کر میں اپنے تارے کروں نچھاور ہوئی ہے مکہ کی سر زمیں پہ یہ آج کس مہ لقا کی آمد ہر اک محب پر یہ فضل رب ہے اثر کو نالوں کی خود طلب ہے مگر اس الطاف کا سبب ہے حبیب رب العلا کی آمد حجابؔ پیہم یہ کہہ رہا ہے گناہ گاروں نے جوش رحمت مبارک اے عاصیو مبارک شفیع روز جزا کی آمد
muhit-e-rahmat hai josh-afzaa hui hai abr-e-sakhaa ki aamad
مزہ دیتا ہے یاد آ کر ترا بسمل بنا دینا لگا دینا ذرا تیر نظر ہاں پھر لگا دینا وہ میرا بے خودی میں اس کے منہ سے منہ ملا دینا قیامت ایک چپ کا پھر وہ دونوں کو سزا دینا ادائے شرم ہو خلوت میں یا انداز شوخی کے ترے ہر ناز پر ہم کو تو جاں اے دل ربا دینا ہمارا آرزوئے بوسہ کرنا تجھ سے در پردہ ترا دشنام دینا اور کیا کیا برملا دینا سفارش ہمدموں کی ان کا جاتے وقت یہ کہنا کہ جب تڑپے مری تصویر سینہ سے لگا دینا نہ ہونے پائے واقف لذت تعزیر سے دشمن مظاہر چند ہو اس کی مگر ہم کو سزا دینا ادھر اس لب سے نکلا شوخ چتون کو نہ دینا دل ادھر چشم سخن گو نے اشاروں میں کہا دینا لبوں سے لب ملا لیں وصل میں سینے سے یا سینہ مگر ممکن نہیں اس بت کے دل سے دل ملا دینا اگر عہد وفا سے تو بھی پھر جائے محبت میں حجابؔ اس شوخ کو معلوم ہو جائے دغا دینا
maza detaa hai yaad aa kar tiraa bismil banaa denaa
آنا بھی آنے والے کا افسانہ ہو گیا دشمن کے کہنے سننے سے کیا کیا نہ ہو گیا کیا فیضیاب صحبت رندانہ ہو گیا دم بھر میں شیخ ساقیٔ مے خانہ ہو گیا سنتے ہیں بند پھر در مے خانہ ہو گیا دور ایاغ و شغل مل افسانہ ہو گیا ملنے کے بعد بیٹھ رہا پھیر کر نگاہ ظالم یگانہ ہوتے ہی بیگانہ ہو گیا اپنوں سے بھی زیادہ جو پایا نیاز مند وہ بے نیاز اور بھی بیگانہ ہو گیا نا آشنا رہا تو یگانہ بنا رہا ہوتے ہی آشنا کوئی بیگانہ ہو گیا مانا کہ مدعی سے کوئی مدعا نہ تھا پھر کیا سبب تھا ترک جو یارانہ ہو گیا کس طرح اپنی خانہ خرابی عیاں کرے وہ دل جو پردے والوں کا کاشانہ ہو گیا آنے کا وعدہ کر کے وہ ہنستے ہوئے چلے معلوم ابھی سے لطف قدیمانہ ہو گیا جان اس دلاوری سے ترے منچلے نے دی مقتل میں شور ہمت مردانہ ہو گیا پھر بھی سوال وصل کا موقع نہیں ملا سو بار گو کلام کلیمانہ ہو گیا وہ دل جلا تھا میں کہ تری شمع حسن پر جل کر نثار صورت پروانہ ہو گیا مجنوں جو بن گیا کسی لیلیٰ ادا کا میں پھر کیا تھا نجد خود مرا ویرانہ ہو گیا گیسو بنائے جائیے آپ اپنے شوق سے ہو جانے دیجئے جو میں دیوانہ ہو گیا پی لی حجابؔ ہاتھ ہی سے آج میں نے مے چلو مرا مرے لئے پیمانہ ہو گیا
aanaa bhi aane vaale kaa afsaana ho gayaa
وہ مقتل میں اگر کھینچے ہوئے تلوار بیٹھے ہیں تو ہم بھی جان دینے کے لئے تیار بیٹھے ہیں در پیر مغاں پر اس طرح مے خوار بیٹھے ہیں کہ کچھ مخمور بیٹھے ہیں تو کچھ سرشار بیٹھے ہیں اگر وہ گالیاں دینے پر آمادہ ہیں خلوت میں تو ہم بھی عرض مطلب کے لیے تیار بیٹھے ہیں گلا میں کاٹ لوں خود اک اشارہ ہو جو ابرو کا وہ کیوں میرے لیے کھینچے ہوئے تلوار بیٹھے ہیں سہارا جب دیا ہے کچھ امید وصل نے آ کر تو اٹھ کر بستر غم سے ترے بیمار بیٹھے ہیں حجاب ان سے وہ میرا پوچھنا سر رکھ کے قدموں پر سبب کیا ہے جو یوں مجھ سے خفا سرکار بیٹھے ہیں
vo maqtal mein agar khinche hue talvaar baiThe hain
عشق پر دانہ نہیں محتاج تحریک جمال جلنے والا جل بجھے گا شمع سوزاں دیکھ کر اے معاذ اللہ وحشی اور سلامت پیرہن شرم دامن گیر ہوتی ہے گریباں دیکھ کر
ishq par daana nahin mohtaaj-e-tahrik-e-jamaal





