SHAWORDS
Arshad Kamal

Arshad Kamal

Arshad Kamal

Arshad Kamal

poet
7Shayari
16Ghazal

Popular Shayari

7 total

Ghazalغزل

See all 16
غزل · Ghazal

اے دل ترے طفیل جو مجھ پر ستم ہوئے پوچھے جو مجھ سے کوئی تو کہہ دوں کہ کم ہوئے میرے چراغ ذہن کو وہ گل نہ کر سکے حالانکہ سب اندھیرے مرے دل میں ضم ہوئے حرف غضب سے بھی ہمیں محروم کر دیا یوں بے نیاز ہم سے ہمارے صنم ہوئے ان کی زمین دل کا تو قصہ ہی اور ہے ورنہ ان آنسوؤں سے تو صحرا بھی نم ہوئے احباب نے تو راستے ڈھونڈے تھے مختلف لیکن سب آ کے میری ہی راہوں میں ضم ہوئے ربط دلی سے خلق کو اب واسطہ کہاں اب تو ہما شما بھی اسیر منم ہوئے ارشدؔ فصیل ذہن میں بڑھنے لگا جو حبس ہم شہر دل میں جا کے ذرا تازہ دم ہوئے

ai dil tire tufail jo mujh par sitam hue

2 views

غزل · Ghazal

ہم زیست کی موجوں سے کنارا نہیں کرتے ساحل سے سمندر کا نظارہ نہیں کرتے ہر شعبۂ ہستی ہے طلب گار توازن ریشم سے کبھی ٹاٹ سنوارا نہیں کرتے دریا کو سمجھنے کی تمنا ہے تو پھر کیوں دریا کے کنارے سے کنارا نہیں کرتے دستک سے علاقہ رہا کب شیش محل کو خوابیدہ سماعت کو پکارا نہیں کرتے ہم فرط مسرت میں کہیں جاں سے نہ جائیں اس خوف سے وہ ذکر ہمارا نہیں کرتے ہم ان کے تغافل کو سمجھتے تو ہیں لیکن دنیا بھی سمجھ لے یہ گوارا نہیں کرتے ظلمت سے ہی کچھ نور نچوڑو کہ ہم ارشدؔ مانگے کے اجالے پہ گزارا نہیں کرتے

ham ziist ki maujon se kinaaraa nahin karte

2 views

غزل · Ghazal

کچھ تو مل جائے کہیں دیدۂ پر نم کے سوا آنکھ سے ٹپکے وہی گریۂ ماتم کے سوا گلشن زیست میں موسم کا بدلنا کیا ہے کاش رک جائے کوئی درد کے موسم کے سوا صبح کا وقت ہے کرنوں کو بتا دے کوئی خوش ہیں گلشن میں سبھی قطرۂ شبنم کے سوا وہ زمانے کا تغیر ہو کہ موسم کا مزاج بے ضرر دونوں ہیں نیرنگی آدم کے سوا ایسے طوفاں کی ہے تمہید یہ موجودہ سکوت کچھ نہ جب ہوگا یہاں شورش پیہم کے سوا

kuchh to mil jaae kahin dida-e-pur-nam ke sivaa

2 views

غزل · Ghazal

گرچہ ظاہر میں ہیں احوال منور سارے رقص کرتے ہیں اندھیرے مرے اندر سارے موجۂ درد بنا دے گا انہیں مثل صبا وہ جو پھرتے ہیں یہاں صورت صرصر سارے داغ دل میرے فروزاں ہیں زمیں پر ایسے چھپتے پھرتے ہیں فلک پر مہ و اختر سارے مرے دریائے سخن سے ہے علاقہ کیسا وہ تو پایاب ندی کے ہیں شناور سارے تشنگی زاغ نے اپنی تو بجھا لی پل میں حیف گاگر میں پڑے رہ گئے کنکر سارے کون بنتا ہے سفینہ یہاں کس کی خاطر یوں تو موجود ہیں دریا میں شناور سارے راہ رو اور بھی دنیا میں ہیں ارشدؔ لیکن میری ہی راہ میں پڑتے ہیں سمندر سارے

garche zaahir mein hain ahvaal munavvar saare

2 views

غزل · Ghazal

کبھی انگڑائی لے کر جب سمندر جاگ اٹھتا ہے مرے اندر پرانا اک شناور جاگ اٹھتا ہے نشیمن گیر ہیں طائر بھلا سمجھیں تو کیا سمجھیں وہ کیفیت کہ جب شاہیں کا شہپر جاگ اٹھتا ہے میں جب بھی کھینچتا ہوں ایک نقشہ روز روشن کا نہ جانے کیسے اس میں شب کا منظر جاگ اٹھتا ہے زمانہ گامزن ہے پھر انہی حالات کی جانب بپھر کر جب ابابیلوں کا لشکر جاگ اٹھتا ہے مرے احساس کی رگ سے الجھ پڑتا ہے جو لمحہ اسی لمحے تڑپ کر اک سخن ور جاگ اٹھتا ہے وہ تارے جو چمک رکھتے نہیں کچھ روز روشن میں شب تاریک میں ان کا مقدر جاگ اٹھتا ہے یہ مانا سیل اشک غم نہیں کچھ کم مگر ارشدؔ ذرا اترا نہیں دریا کہ بنجر جاگ اٹھتا ہے

kabhi angDaai le kar jab samundar jaag uThtaa hai

2 views

غزل · Ghazal

تلاطم ہے نہ جاں لیوا بھنور ہے کہ بہر مصلحت اب مستقر ہے در صیاد پر برپا ہے ماتم قفس میں جب سے ذکر بال و پر ہے تکلم کا کرشمہ اب دکھا دو تمہاری خامشی میں شور و شر ہے کروں کیا آرزوئے سرفرازی کہ جب نیزے پہ ہر پل میرا سر ہے ملی مہلت تو دل میں جھانک لوں گا ابھی تو ذہن پر میری نظر ہے چڑھے دریا میں ٹوٹی ناؤ کھینا کہانی زندگی کی مختصر ہے اگر سودا رہے سر میں تو ارشدؔ ہر اک دیوار کے سینے میں در ہے

talaatum hai na jaan-levaa bhanvar hai

2 views

Similar Poets