SHAWORDS
Arshi Malik

Arshi Malik

Arshi Malik

Arshi Malik

poet
8Shayari
6Ghazal

Popular Shayari

8 total

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

اس جان جاں سے ختم ہے جب سے مکالمہ جاری ہے اپنے آپ سے تب سے مکالمہ دانتوں کے بیچ بھینچ لیا ہے زبان کو ممکن نہیں تھا شور و شغب سے مکالمہ اگ آئے ایک آن میں کانٹے زبان پر جب بھی کیا ہے طیش و غضب سے مکالمہ تالاب کو بہاؤ کے مسلک کی کیا خبر اس کی نظر میں کفر ہے سب سے مکالمہ ہم ان کے تیوروں کی سمجھنے لگے زباں موقوف جب سے ہو گیا لب سے مکالمہ صد شکر بات چیت کی اک راہ تو کھلی جاری ہوا کسی بھی سبب سے مکالمہ دعوائے حفظ پر مرے دھبہ ترا وجود دیوار کر رہی ہے نقب سے مکالمہ اکیسویں صدی تو دلائل کی ہے صدی کرتی نہیں جو نام و نسب سے مکالمہ عرشیؔ ہم ایسے شخص سے کیا گفتگو کریں جاری نہ رکھ سکے جو ادب سے مکالمہ

us jaan-e-jaan se khatm hai jab se mukaalima

غزل · Ghazal

دل مضطرب بہت ہے مجھے آ سنبھال تو جھولی میں میری لطف کی کچھ بھیک ڈال تو دستک ہے تیری یاد کی دھک دھک کی یہ صدا اس بے قرار دل کی مسلسل دھمال تو اس لوح دل پہ صرف ترا نام ہے کھدا اس دل کو ٹھوکروں سے نہ کر پائمال تو تو میرے ذکر و فکر پہ سوچوں پہ حکمراں تو میری گفتگو بھی ہے میرا خیال تو تو لشکر گماں میں یقیں کا ثبات ہے تاریک راستوں میں دیے کی مثال تو میں تیرے آب عشق کی مچھلی ہوں جان جاں خشکی پہ مت فراق کی مجھ کو اچھال تو تجھ کو پکارتا ہے مرا ڈوبتا بدن دلدل سے اس جہان کی مجھ کو نکال تو کر پاک مجھ کو قرب کے قابل بنا مجھے سب گند میرے دور ہوں مجھ کو اجال تو قیوم تو ہے تجھ سے ہر اک چیز کو قیام برسوں سے کر رہا ہے مری دیکھ بھال تو اپنے وجود کو ترے قدموں میں رکھ دیا اس بے کمال چیز کو دے دے کمال تو تکتی ہوں ہر گھڑی ترے جلوے نئے نئے میری خوشی بھی تجھ سے ہے میرا ملال تو جراح بھی ہے تو مرا تو ہی طبیب ہے تو میرے دل کا زخم مرا اندمال تو مانا کہ میں فقیر ہوں مفلس ہوں بے نوا تجھ سے تجھی کو مانگا ہے میرا سوال تو دولت کے دیوتا کا پجاری ہے سارا شہر پر مجھ دل شکستہ کا جاہ و جلال تو غافل کیا ہے کثرت اموال نے جنہیں رکھتا ہے عمر بھر انہیں آشفتہ حال تو مجھ کو فنا کا شوق ہے کر عشق میں فنا آب حیات دے کے نہ عرشیؔ کو ٹال تو

dil muztarib bahut hai mujhe aa sanbhaal tu

غزل · Ghazal

دل ہو یا کہ گھر عرشیؔ جب بسانا پڑتا ہے اک نئے طریقے سے سب سجانا پڑتا ہے نت نئے تقاضوں سے توڑ پھوڑ ہوتی ہے کچھ بچانا پڑتا ہے کچھ گرانا پڑتا ہے سب پرانے بکسوں کی جھاڑ پونچھ ہوتی ہے خط رومال تصویریں سب جلانا پڑتا ہے رابطے گذشتہ کے بے محل سے لگتے ہیں بے محل روابط کو بھول جانا پڑتا ہے آنے والی خوشیوں میں پچھلے غم سسکتے ہیں کچھ نیا جو پانا ہو کچھ گنوانا پڑتا ہے سب کے سب گئے موسم یاد بنتے جاتے ہیں اور بیچ میں عرشیؔ اک زمانہ پڑتا ہے

dil ho yaa ki ghar 'arshi' jab basaanaa paDtaa hai

غزل · Ghazal

دل پہ وہ کرب کے سائے ہیں کہ جی جانتا ہے ہائے کیا لوگ گنوائے ہیں کہ جی جانتا ہے زندگی تو نے بھی رسمی سی خوشی کی خاطر ہم سے وہ رقص کرائے ہیں کہ جی جانتا ہے دیکھ کر میری نگاہوں میں طلب کی شدت اس نے یوں دام بڑھائے ہیں کہ جی جانتا ہے اس کی قربت کی تمنا میں خود اپنے ہم نے مول کیا کیا نہ گھٹائے ہیں کہ جی جانتا ہے اٹھ کے آنا تری محفل سے قیامت ٹھہرا دل نے وہ حشر اٹھائے ہیں کہ جی جانتا ہے ہم کہ نیندوں سے گئے جاگتی آنکھوں اس نے خواب کچھ ایسے دکھائے ہیں کہ جی جانتا ہے کوچۂ عشق میں ہم بھول کے آ نکلے تھے درد پر ایسے کمائے ہیں کہ جی جانتا ہے اس کی اک پل کی توجہ کی طلب میں ہم نے روپ کیا کیا نہ سجائے ہیں کہ جی جانتا ہے ہائے معصوم سے جذبات محبت دائم یوں زمانے نے دبائے ہیں کہ جی جانتا ہے چاک دامان ہیں یوسف کہ زلیخاؤں نے ہاتھ کچھ ایسے بڑھائے ہیں کہ جی جانتا ہے وقت نے لذت امروز کے دھوکے میں ہمیں جام وہ تلخ پلائے ہیں کہ جی جانتا ہے معتبر ہم سے کئی اور بھی عرشیؔ اس نے یوں نگاہوں سے گرائے ہیں کہ جی جانتا ہے

dil pe vo karb ke saae hain ki ji jaantaa hai

غزل · Ghazal

نگر میں دل کے اب کچھ بھی نہیں ہے یہاں شور و شغب کچھ بھی نہیں ہے یہ دل رسماً دھڑکتا جا رہا ہے دھڑکنے کا سبب کچھ بھی نہیں ہے نہ جانے کون کب لہجہ بدل لے یہ دنیا ہے عجب کچھ بھی نہیں ہے تعلق تھا تو تھی ناراضگی بھی پر اب لطف و غضب کچھ بھی نہیں ہے نہ وہ پہلے سے اب رنج و الم ہیں نہ وہ بزم طرب کچھ بھی نہیں ہے تری فرقت کا کیا خدشہ ہو دل کو تری قربت میں جب کچھ بھی نہیں ہے جو کہنا تھا کہا کھل کر ہمیشہ ہمارے زیر لب کچھ بھی نہیں ہے نہ کوئی مصلحت نہ وضع داری ہمیں جینے کا ڈھب کچھ بھی نہیں ہے مہک اشعار کی بانٹی جہاں میں پر اپنا یہ کسب کچھ بھی نہیں ہے بنے بیٹھے ہیں بابائے ادب وہ جنہیں پاس ادب کچھ بھی نہیں ہے میں بنت آدم و حوا ہوں عرشیؔ مرا نام و نسب کچھ بھی نہیں ہے

nagar mein dil ke ab kuchh bhi nahin hai

غزل · Ghazal

تہمت عشق پر ناز ہم نے کیا یہ تو تمغہ ہے ہم عاشقوں کے لئے سر بچایا نہیں بارش سنگ سے آئنے وقف ہیں پتھروں کے لئے اہل دل کے ادب کی نشانی ہے یہ بے ادب سے بھی صبر و تحمل کریں بے رخی اور رعونت یہاں جرم ہے ضابطے اور ہیں دل جلوں کے لئے میں ہوں تانبا اگر تو کرے کیمیا یہ ترا فضل ہے میرے رب الوریٰ منہ خزانوں کے تیرے ہمیشہ کھلے میرے جیسے تہی دامنوں کے لئے جس جگہ بولنا فرض تھا اس جگہ میں نے جرم خموشی کیا بارہا جو تھے منصور وہ رونق دار ہیں کیا ہے ارشاد ہم بزدلوں کے لئے یہ گزارش ہے اے میرے چارہ گراں اپنے نسخے میں لکھ ایک حرف دعا ہاتھ ہے میرے مالک کا دست شفا دل کے رستے ہوئے آبلوں کے لئے ہم زمیں کی کشش میں تھے جکڑے ہوئے خلد کو چھوڑ کر اس جگہ آ بسے نفرتیں بغض و کینے یہاں عام ہیں یہ زمیں وقف ہے پستیوں کے لئے وقت کے ہاتھ سے جو بھی چرکے لگے رائیگاں کب گئے شاعری میں ڈھلے یہ امانت ہے محفوظ اوراق میں آنے والے نئے موسموں کے لئے بہتے پانی پہ پابندیاں مت لگا فکر کے طائروں پر نہ پہرے بٹھا کوئی رستہ تو رہنے دے ظالم کھلا میرے جذبوں کی جولانیوں کے لئے عمر رفتہ کو دیکھا تو دھچکا لگا چند بوسیدہ بے روح ابواب ہیں وہ بھی سیلن زدہ اور دیمک لگے گویا رکھے ہیں آتش کدوں کے لئے ساری رسموں رواجوں کی بخیہ گری ایک جھٹکا لگا تو ادھڑ جائے گی ہم کو عرشیؔ لباس جنوں چاہیے جو بنا ہے ہمیں منچلوں کے لئے

tuhmat-e-'ishq par naaz ham ne kiyaa ye to tamgha hai ham 'aashiqon ke liye

Similar Poets