SHAWORDS
Arzoo Lakhnavi

Arzoo Lakhnavi

Arzoo Lakhnavi

Arzoo Lakhnavi

poet
93Sher
93Shayari
63Ghazal

Sherشعر

See all 93

Popular Sher & Shayari

186 total

Ghazalغزل

See all 63
غزل · Ghazal

ye daastaan-e-dil hai kyaa ho adaa zabaan se

یہ داستان دل ہے کیا ہو ادا زباں سے آنسو ٹپک رہے ہیں لفظیں ملیں کہاں سے ہے ربط دو دلوں کو بے ربطیٔ بیاں سے کچھ وہ کہیں نظر سے کچھ ہم کہیں زباں سے یہ روتے روتے ہنسنا ترتیب ذکر غم ہے آیا ہوں ابتدا پر چھیڑا تھا درمیاں سے حاصل تو زندگی کا تھی زندگی یہیں کی اب میں ہوں اک جنازہ اٹھوا دو آستاں سے اس طول خامشی کا زور بیاں بھی دیکھا تھی بات میرے دل کی نکلی تری زباں سے جب حسن خود نما ہے اور عشق رخنہ افگن اس کشمکش میں پردہ نکلے گا درمیاں سے میدان امتحان میں اے بے غرض محبت دل کی زمین تو نے ٹکرا دی آسماں سے اس رازدار غم کی حالت نہ پوچھ جس کو کہنا تو ہے بہت کچھ محروم ہے زباں سے اے جذب شوق منزل ممنون غیر کیوں ہوں خود راستہ بدل کر بچھڑا ہوں کارواں سے ہر گام پر ٹھٹھکنا ہر بار مڑ کے تکنا او مسکرانے والے کیا لے چلا یہاں سے ظاہر فریب وعدہ پھر اعتبار اتنا وہ لکھ گیا دلوں پر جو کہہ دیا زباں سے آنکھوں سے باغباں کی شعلے نکلے رہے ہیں تنکے دبائے منہ میں نکلا ہوں آشیاں سے دل کا سکوں گنوا کر ہوں آرزو پشیماں کچھ لے کے رکھ نہ چھوڑا کیوں جنس رائیگاں سے

غزل · Ghazal

jitnaa thaa sargarm-e-kaar utnaa hi dil naakaam thaa

جتنا تھا سرگرم کار اتنا ہی دل ناکام تھا ہوش جس کا نام ہے وہ بھی جنون خام تھا ہوش کا ضامن تھا ساقی کیف پرور دل کا شوق جام تھا پاس اور بے اندیشۂ انجام تھا ختم کرتی جلد کیوں کر زیست کی منزل کو سانس پھیر کوسوں کا تھا لیکن فاصلہ اک گام تھا جوش شوریدہ سری تھا تا بہ وہم اختیار تھک کے دم ٹوٹا تو پھر آرام ہی آرام تھا اب کہاں وہ آمد و رفت نفس کی شاہ راہ اک کشاکش تھی کہ جس کا زندگانی نام تھا چونک کر خود منظر ہستی سے آنکھیں پھیر لیں ہچکیاں کاہے کو تھیں پوشیدہ اک پیغام تھا گل ہوا آخر بھڑک کر شعلۂ جوش شباب تھی کف موج حوادث اور چراغ شام تھا بے جلے کس طرح بنتا شمع پروانے کا دل وہ اسے انجام کیا دیتے جو میرا کام تھا تم نے خود ناکام رکھ کے اس کی ہمت کی تھی پست آرزوئے بے گنہ پر مفت کا الزام تھا

غزل · Ghazal

mujh ko dil qismat ne us ko husn-e-ghaarat-gar diyaa

مجھ کو دل قسمت نے اس کو حسن غارت گر دیا چور کر دے کیوں نہ وہ شیشہ جسے پتھر دیا اس سے طالب ہوں دیت کا آپ سے مطلب نہیں جس نے گردن ایک کو دی ایک کو خنجر دیا تھا مکافات عمل احباب کا حسن عمل یہ بھی ایسا قرض تھا جو اور سے لے کر دیا اب نہ ہے فکر حفاظت اور نہ ضیق رفع کار دینے والے نے دیا اور میری خواہش بھر دیا گریۂ بے اختیار‌ غم بھی تھا فطری علاج جس نے تھوڑے جوش کو ہر مرتبہ کم کر دیا جس میں کیف غم نہیں باز آئے ایسے دل سے ہم یہ بھی دنیا ہے کوئی مے تو نہ دی ساغر دیا آرزوؔ اک روز ڈھا دیتا مجھے میرا ہی زور یہ بھی اس کی کارسازی دل میں جس نے ڈر دیا

غزل · Ghazal

tumhein kyaa kaam naalon se tumhein kyaa kaam aahon se

تمہیں کیا کام نالوں سے تمہیں کیا کام آہوں سے چھپایا ہو گناہ عشق تو پوچھو گواہوں سے میں کشکول دل بے مدعا لے کر کہاں جاؤں یہ پیغام طلب کیوں اونچی اونچی بارگاہوں سے زباں ہو ایک الفت کی تو ممکن ہے زباں بندی ہوئی جو بات چپکے کی وہ کہہ ڈالی نگاہوں سے محبت اندر اندر زیست کا نقشہ پلٹتی ہے یہی چلتی ہوئی سانسیں بدل جائیں گی آہوں سے سند بے اعتمادی کی ہے قبل امتحاں گویا بیان حال کے پہلے حلف لینا گواہوں سے محبت نیک و بد کو سوچنے دے غیر ممکن ہے بڑھی جب بے خودی پھر کون ڈرتا ہے گناہوں سے ہوئے جب آپ سے باہر پھر احساس دوئی کیسا پتہ منزل کا ملتا ہے انہیں گم کردہ راہوں سے بتا سکتی نہیں روئیدگی سبزہ و گل بھی فقیروں سے پٹے تھے یہ گڑھے یا بادشاہوں سے چھلکتے ظرف کا کھلتا بھرم کھوتا ہے بات اپنی سکوں پاتا ہے دل کا درد نالوں سے نہ آہوں سے یہ پہلے سوچ لیں آنکھوں میں لہراتے ہوئے آنسو کہ وہ پھر اٹھ بھی سکتے ہیں جو گر جائیں نگاہوں سے ملا بیٹھا ہے سب میں کچھ مگر منہ سے نہیں کہتا الگ سمجھو تم اپنے آرزوؔ کو دادخواہوں سے

غزل · Ghazal

dil mein yaad-e-but-e-be-pir liye baiThaa huun

دل میں یاد بت بے پیر لیے بیٹھا ہوں یعنی اک ظلم کی تصویر لیے بیٹھا ہوں آہ میں درد کی تاثیر لیے بیٹھا ہوں دل میں اک خون بھرا تیر لیے بیٹھا ہوں اک ذرا سی خلش درد جگر پر یہ گھمنڈ جیسے کل عشق کی جاگیر لیے بیٹھا ہوں ہے مجھے ساز طرب سوختہ سامانی دل پردۂ خاک میں اکسیر لیے بیٹھا ہوں چور شیشے پہ نظر پڑتے ہی دل یاد آیا مٹنے والے تری تصویر لیے بیٹھا ہوں قید کو توڑ کے سمجھا کہ سہارا توڑا ہاتھ میں پاؤں کی زنجیر لیے بیٹھا ہوں آرزوؔ ہو چکی سو مرتبہ دنیا بیدار اور میں سوئی ہوئی تقدیر لیے بیٹھا ہوں

غزل · Ghazal

taDapte dil ko na le iztiraab letaa jaa

تڑپتے دل کو نہ لے اضطراب لیتا جا پٹک دے ساغر خالی شراب لیتا جا وہ ہاتھ مار پلٹ کر جو کر دے کام تمام بڑے عذاب میں ہوں میں ثواب لیتا جا وہ بن ہی گھر سے ہے اچھا سکون جس میں ملے مجھے بھی او دل خانہ خراب لیتا جا ملے اک آہ کا وقفہ تو وقت پرشش حال ہر اک سوال کا اپنے جواب لیتا جا نقاب اٹھا کے کیا سامنا تو منہ کو نہ پھیر دکھا کے خواب نہ آنکھوں سے خواب لیتا جا

Similar Poets