"paDhte the kitabon men qayamat ka saman nepal men kuchh is ka namuna dekha"

Asghar Velori
Asghar Velori
Asghar Velori
Sherشعر
See all 13 →paDhte the kitabon men qayamat ka saman
پڑھتے تھے کتابوں میں قیامت کا سماں نیپال میں کچھ اس کا نمونہ دیکھا
shikar apni ana ka hai aaj ka insan
شکار اپنی انا کا ہے آج کا انساں جسے بھی دیکھیے تنہا دکھائی دیتا ہے
khilna har ek phuul ka 'asghar' hai mo.ajaza
کھلنا ہر ایک پھول کا اصغرؔ ہے معجزہ مرجھاتی ہے کلی بھی بہاروں کے درمیاں
jitna rona tha ro chuke aadam
جتنا رونا تھا رو چکے آدم اور روئے گا آدمی کب تک
tu ne ab tak jise nahin samjha
تو نے اب تک جسے نہیں سمجھا اور پھر اس کی بندگی کب تک
raushni jab se mujhe chhoD ga.i
روشنی جب سے مجھے چھوڑ گئی شمع روتی ہے سرہانے میرے
Popular Sher & Shayari
26 total"shikar apni ana ka hai aaj ka insan jise bhi dekhiye tanha dikha.i deta hai"
"khilna har ek phuul ka 'asghar' hai mo.ajaza murjhati hai kali bhi baharon ke darmiyan"
"jitna rona tha ro chuke aadam aur ro.ega aadmi kab tak"
"tu ne ab tak jise nahin samjha aur phir us ki bandagi kab tak"
"raushni jab se mujhe chhoD ga.i sham.a roti hai sirhane mere"
shikaar apni anaa kaa hai aaj kaa insaan
jise bhi dekhiye tanhaa dikhaai detaa hai
log achchhon ko bhi kis dil se buraa kahte hain
ham ko kahne mein buron ko bhi buraa lagtaa hai
duniyaa se khatm ho gayaa insaan kaa vajud
rahnaa paDaa hai ham ko darindon ke darmiyaan
raushni jab se mujhe chhoD gai
shama roti hai sirhaane mere
un ke haathon se milaa thaa pi liyaa
zahr thaa par zaaiqa achchhaa lagaa
tire mahal mein hazaaron charaagh jalte hain
ye meraa ghar hai yahaan dil ke daagh jalte hain
Ghazalغزل
hamaare haath mein khanjar nahin the
ہمارے ہاتھ میں خنجر نہیں تھے کسی بھی وقت ہم کائر نہیں تھے ہر اک غم سے شناسا ہو گئے ہیں کبھی ہم رنج کے خوگر نہیں تھے وہ کتنے خوش تھے بے چھت کی زمیں پر سبب یہ ہے کہ ان کے گھر نہیں تھے وہ باتیں کر رہے تھے آسماں کی وہ جن کے بازوؤں میں پر نہیں تھے انہیں تھی فکر ناحق اپنے سر کی مرے تو ہاتھ میں پتھر نہیں تھے ہوئی تھی شعر سے تمہید پہلے وہ سب نقال تھے شاعر نہیں تھے اسے دیکھیں پلٹ کر پھر دوبارہ تری گلیوں میں وہ منظر نہیں تھے جو چلتے تھے ہمارے ساتھ اصغرؔ ذرا آگے تھے وہ رہبر نہیں تھے
ek fitna saa uThaayaa hai chalaa jaaegaa
ایک فتنہ سا اٹھایا ہے چلا جائے گا وقت بے وقت جو آیا ہے چلا جائے گا شہر کو سارے جلانے کے لئے نکلا تھا اب جو گھر میرا جلایا ہے چلا جائے گا بیٹھنا ہے تو گھنے پیڑ کے نیچے بیٹھو یہ تو دیوار کا سایا ہے چلا جائے گا ہم کو مارے گا کہاں شیش محل میں رہ کر صرف پتھر ہی اٹھایا ہے چلا جائے گا وہ تو آتا ہے اندھیرے ہی میں ڈسنے کے لیے اب تو ہر سمت اجالا ہے چلا جائے گا خود ہی تھک جائے گا جب گالیاں دے کر مجھ کو اس پہ اتنا تو بھروسہ ہے چلا جائے گا اس نے چپ رہ کے بھی طوفان اٹھائے کتنے آج کہرام مچایا ہے چلا جائے گا سوچ کے آیا تھا دنیا میں سب اپنے ہوں گے اپنا سایہ بھی پرایا ہے چلا جائے گا غم کے آنے کا کوئی غم نہیں ہم کو اصغرؔ اپنی مرضی ہی سے آیا ہے چلا جائے گا
suno kuchh dida-e-nam bolte hain
سنو کچھ دیدۂ نم بولتے ہیں جو چپ تھے آج وہ غم بولتے ہیں کہو سانسوں میں ہے آواز کس کی یہ تم کہتے ہو یا ہم بولتے ہیں تمہارے حسن کی خوشبو گلوں میں تمہارا نام موسم بولتے ہیں کسی کی بھی کبھی سنتے نہیں وہ مگر ان سے کہو ہم بولتے ہیں تمہارا راگ گھنگرو کے لبوں پر تمہارے ہونٹ سرگم بولتے ہیں تمہارے حسن کا جادو ہے کتنا تمہاری زلف کے خم بولتے ہیں وہ دیکھا ہے تمہاری چشم نم میں جسے ہم ساغر جم بولتے ہیں اسے ہم نے کہیں دیکھا نہیں ہے جسے احباب ہمدم بولتے ہیں ہر اک سنتا ہے ان کی بات اصغرؔ جو سنتے ہیں بہت کم بولتے ہیں
koi chhoTaa yahaan koi baDaa hai
کوئی چھوٹا یہاں کوئی بڑا ہے یہ سارا کھیل ظالم وقت کا ہے وہ سر کرتے ہیں جن کو حوصلہ ہے وگرنہ زندگی اک مرحلہ ہے تجھے معلوم کیا ہے لذت غم ترا دل عشق سے نا آشنا ہے جو خود واقف نہیں منزل سے اپنی خدا بخشے ہمارا رہنما ہے ڈبوئے گا اسے کیا کوئی طوفاں خدا کشتی کا جس کی ناخدا ہے چھپاؤں آئنے سے کیا حقیقت بڑا کمبخت ہے سچ بولتا ہے فقط اک درمیاں پردا ہے ورنہ ترا میرا ازل سے واسطہ ہے ملا کر ہاتھ ہم سے فائدہ کیا وہی اب تک دلوں میں فاصلہ ہے نظر جاتی نہیں اصغرؔ کسی پر نظر میں جب سے وہ جلوہ نما ہے
kisi ki chaah mein gham kyaa hai aur khushi kyaa hai
کسی کی چاہ میں غم کیا ہے اور خوشی کیا ہے تجھے خبر نہیں مفہوم عاشقی کیا ہے تپش میں دھوپ کے ہوتی ہے قدر سائے کی نہ ہو جو موت کا خطرہ تو زندگی کیا ہے نہیں ہے فرق اندھیرے میں اور اجالے میں نظر نہ آئے جہاں تو وہ روشنی کیا ہے ہیں یوں تو سیکڑوں مخلوق بزم ہستی میں نہیں ہے دل میں محبت تو آدمی کیا ہے رہے جو دل سے لپٹ کر وہ غم ہی بہتر ہے جو چند لمحوں کی مہماں ہے وہ خوشی کیا ہے ہے آدمی تو اٹھانا ہے بار ہستی کا ہے آس جینے کی ہونٹوں پہ کپکپی کیا ہے ترے لیے تو جھکانا بھی سر عبادت ہے اگر جھکا نہ سکے دل تو بندگی کیا ہے تمہارے جلوۂ اقدس کا ایک پرتو ہے یہ نجم اور یہ زہرہ یہ مشتری کیا ہے وہ دل لگی ہے اگر گدگدی سی آ جائے جلا دے دل کو جو اصغرؔ وہ دل لگی کیا ہے
ho gai apnon ki zaahir dushmani achchhaa huaa
ہو گئی اپنوں کی ظاہر دشمنی اچھا ہوا چھوڑ دی ہم نے بھی ان کی دوستی اچھا ہوا بچ گئے اپنوں کے ہر مشق ستم سے شکر ہے دوستوں نے ہم کو سمجھا اجنبی اچھا ہوا جس کو جینے کا ذرا سا بھی نہیں تھا حوصلہ ڈر کے غم سے مر گیا وہ آدمی اچھا ہوا جانے میں اور تو کے جھگڑے کیسے سلجھاتے بھی ہم آ گئی تھی کام اپنی بے خودی اچھا ہوا شام کے سائے سے بھی ڈرتی رہی جو روشنی کھا گئی اس روشنی کو تیرگی اچھا ہوا غم ہی اپنا یار ہے دل سے جدا ہوتا نہیں چند لمحوں کی خوشی اب جا چکی اچھا ہوا کون دیتا مجھ کو ان کی بے وفائی کا ثبوت آپ نے کر دی کہی کو ان کہی اچھا ہوا مجھ کو دیوانہ سمجھ کر لوگ مجھ سے دور ہیں مفت میں جو مجھ پہ یہ تہمت لگی اچھا ہوا اس طرح سے لاج رکھ لی ہم نے اصغرؔ پیار کی روتے روتے آ گئی لب پر ہنسی اچھا ہوا





