meri duniyaa mein samundar kaa kahin naam nahin
phir ghaTaa pheinkti hai mujh pe ye patthar kaise

Ashhar Hashmi
Ashhar Hashmi
Ashhar Hashmi
Popular Shayari
7 totaltiraa ghurur jhuk ke jab milaa mire vajud se
na jaane meri kamtari kaa chehra kyuun utar gayaa
vahin ke pattharon se puchh meraa haal-e-zindagi
main reza reza ho ke jis dayaar mein bikhar gayaa
rahguzar bhi tiri pahle thi ajnabi
har gali ab tiri rahguzar ho gai
zindagi karnaa vo mushkil fan hai 'ashhar' haashmi
jaise ki chalnaa paDe bijli ke nange taar par
'ashhar' kahin qarib hi taarik ghaar hai
jugnu ki raushni ko vahin chal ke chhoD dein
us se milne ki talab mein ji liye kuchh aur din
vo bhi khud biite dinon se bar-sar-e-paikaar thi
Ghazalغزل
اک شہر ضیا بار یہاں بھی ہے وہاں بھی لیکن مرا آزار یہاں بھی وہاں بھی روشن مرے اندر کے اندھیروں میں برابر اک آتش پندار یہاں بھی ہے وہاں بھی احباب مرے ایک ہی جیسے ہیں جہاں ہیں اک جذبۂ ایثار یہاں بھی ہے وہاں بھی اک صبح ترے ساتھ کئی میل چلے تھے اس صبح کا اسرار یہاں بھی ہے وہاں بھی گر ساتھ عزیزو نہ میسر ہو تمہارا جینا مرا بے کار یہاں بھی ہے وہاں بھی ہے جس کی روانی سے لہو گرم ہمارا وہ چشمۂ بیدار یہاں بھی ہے وہاں بھی آنکھوں سے مرے دل میں سمایا ہے جو اشہرؔ اس شوخ کی سرکار یہاں بھی ہے وہاں بھی
ik shahr ziyaa-baar yahaan bhi hai vahaan bhi
شور کیسا ہے مرے دل کے خرابے سے اٹھا شہر جیسے کہ کوئی اپنے ہی ملبے سے اٹھا یا اٹھا دشت میں دیوانے سے بار فرقت یا ترے شہر میں اک چاہنے والے سے اٹھا یا مری خاک کو مل جانے دے اس مٹی میں یا مجھے خون کی للکار پہ کوچے سے اٹھا تو مرے پاس نہیں ہوتا یہ سچ ہے لیکن تری آواز پر ہر صبح میں سوتے سے اٹھا چاک پہ رکھا ہے تو لمس بھی دے ہاتھوں کا میری پہچان تعطل کے اندھیرے سے اٹھا دل کہ ہے خون کا اک قطرہ مگر دنیا میں جب اٹھا حشر اسی ایک علاقے سے اٹھا یہ اجالوں کی عنایت ہے کہ بندہ اشہرؔ اپنے سائے پہ گرا اپنے ہی سائے سے اٹھا
shor kaisaa hai mire dil ke kharaabe se uThaa
برف انداز شعلہ فشاں کب نہ تھا فصل تا فصل تھا آسماں کب نہ تھا کب نہ تھا مضطرب اور نا مطمئن موج تا موج آب رواں کب نہ تھا کب نہ تھے دعویدارانِ خواب و خلش ہم پہ لازم کوئی امتحاں کب نہ تھا کب مخالف نہ تھی میری سمت سفر یہ سفینہ ہوا پہ گراں کب نہ تھا سنگریزے نہ چبھتے تھے آنکھوں میں کب شہر نظارہ نا مہرباں کب نا تھا اک بڑے صنعتی شہر میں ہاشمیؔ برگ آوارہ سا بے اماں کب نہ تھا
barf andaaz-e-shoala-fashaan kab na thaa
کیا قدر انا ہوگی جبیں جان رہی ہے جس شہر میں سجدوں کی ہی پہچان رہی ہے کچھ ہم نے بھی دنیا کو ستایا ہے بہر حال کچھ اپنی طبیعت سے بھی ہلکان رہی ہے مضبوط رہا حسن نظر سے مرا رشتہ جب تک وہ مرے شہر میں مہمان رہی ہے مئے نے بھی دیا ہے مری وحشت کو بڑھاوا دو چار دنوں وہ بھی نگہبان رہی ہے اس کو تو سفر کرتے نہیں دیکھا کسی نے راہوں کی مگر دھول اسے پہچان رہی ہے وہ ہو کہ نہ ہو فرق نہیں پڑتا ہے کچھ بھی یہ رات کئی صدیوں سے ویران رہی ہے کیا جانے کہاں ختم ہو اشہرؔ کی کہانی اب تک تو کسی درد کا عنوان رہی ہے
kyaa qadr-e-anaa hogi jabin jaan rahi hai
ہے کون جس سے کہ وعدہ خطا نہیں ہوتا مگر کسی کا ارادہ خطا نہیں ہوتا جہاں بساط پہ گھر جائے شاہ نرغے میں وہاں کبھی بھی پیادہ خطا نہیں ہوتا وہ دشمنوں میں اگر ہو تو بچ بھی جاؤں میں اسی کا وار مبادا خطا نہیں ہوتا جو سر بچے بھی تو دستار بچ نہیں سکتی نشانہ اس کا زیادہ خطا نہیں ہوتا کسی کی گرد سفر بیٹھتے بھی دیکھیں گے ہماری نظروں سے جادہ خطا نہیں ہوتا ہیں تجربے مرے احسان مند لفظوں کے ہو شکل یا کہ لبادہ خطا نہیں ہوتا
hai kaun jis se ki vaada khataa nahin hotaa
شہر میں چھائی ہوئی دیوار تا دیوار تھی ایک پتھریلی خموشی پیکر گفتار تھی بادلوں کی چٹھیاں کیا آئیں دریاؤں کے نام ہر طرف پانی کی اک چلتی ہوئی دیوار تھی انکشاف شہر نامعلوم تھا ہر شعر میں تجربے کی تازہ کاری صورت اشعار تھی آرزو تھی سامنے بیٹھے رہیں باتیں کریں آرزو لیکن بچاری کس قدر لاچار تھی گھر کی دونوں کھڑکیاں کھلتی تھیں سارے شہر پر ایک ہی منظر کی پورے شہر میں تکرار تھی آنسوؤں کے چند قطروں سے تھی تر پوری کتاب ہر ورق پر ایک صورت مائل گفتار تھی اس سے ملنے کی طلب میں جی لیے کچھ اور دن وہ بھی خود بیتے دنوں سے بر سر پیکار تھی
shahr mein chhaai hui divaar-taa-divaar thi





