SHAWORDS
Ashique Akbarabadi

Ashique Akbarabadi

Ashique Akbarabadi

Ashique Akbarabadi

poet
20Sher
20Shayari
17Ghazal

Sherشعر

See all 20

Popular Sher & Shayari

40 total

Ghazalغزل

See all 17
غزل · Ghazal

ai dil us zulf ki rakhiyo na tamannaa baaqi

اے دل اس زلف کی رکھیو نہ تمنا باقی حشر تک ورنہ رہے گی شب یلدا باقی ترے ہنگامہ سے خوش ہوں مگر اے جوش جنوں کچھ قیامت کے لئے بھی رہے غوغا باقی آپ کو بیچ چکا ہوں ترے غم کے ہاتھوں ہے مگر عشق کا تیرے ابھی سودا باقی غم ہجراں میں گئی جان چلو خوب ہوا دوستوں کو نہ رہے فکر مداوا باقی جان سینہ سے نکلنے کو ہے دل پہلو سے ہے فقط اس نگہ ناز کا ایما باقی خاک عاشق سے اگاتا ہے مغیلاں کا درخت اس کی مژگاں کا ہے مرقد میں بھی کھٹکا باقی

غزل · Ghazal

lagaae baiThe hain mehndi jo mere khuun se poron mein

لگائے بیٹھے ہیں مہندی جو میرے خوں سے پوروں میں یہی تو رہزنوں میں ہیں یہی ہیں دل کے چوروں میں پڑے رہتے ہیں اکثر سوئے مشکیں روئے جاناں پر بہت دیکھا ہے ہم نے اتفاق ان کالے گوروں میں لگائی آگ ان کے حسن عالم سوز نے ہر سو جلانے چو لکھا بیٹھے ہیں یوں کورے سکوروں میں وفور صحبت اغیار سے کچھ ایسے کھل کھیلے نہ وہ جھیپیں ہزاروں میں نہ شرمائیں کروروں میں ہمیں کوئے بتاں سے دو قدم اٹھنے نہیں دیتی ہماری ناتوانی ان دنوں ہے ایسے زوروں میں اماں دیتا نہیں وہ چاہنے والوں کو مر کر بھی ہمارے نام کو ظالم نے پٹوایا ڈھنڈوروں میں مرے نالوں کا عاشقؔ رنگ اڑایا عندلیبوں نے خرام یار کی شہرت ہوئی سارے چکوروں میں

غزل · Ghazal

na maanaa meraa kahnaa dil gayaa kyuun daad-khvaahi ko

نہ مانا میرا کہنا دل گیا کیوں داد خواہی کو سزا دیتے ہیں واں مجرم بنا کر بے گناہی کو ہماری بے کسی نے چھان ڈالا ہے جہاں سارا سوا تیرے ٹھکانا ہی نہیں ہے بے پناہی کو قیامت میں وہ مجھ کو دیکھ کر کہتے ہیں غیروں سے خدا کی شان ہے عاشق چلے ہیں داد خواہی کو اڑائی خاک اس کی خوب جا کر کوہ و صحرا میں دل وحشی نے کیا الٹے دیے چکر تباہی کو اجڑ جائے گا جس دن کارخانہ بادہ خواروں کا بہت روئے گا ساقی کشتیٔ مے کی تباہی کو برا ہو رشک کا رہبر سمجھ کر دل سے جو پوچھا عدم کا راستہ بتلا دیا گم گشتہ راہی کو

غزل · Ghazal

kaun kahtaa hai ki marnaa miraa achchhaa na huaa

کون کہتا ہے کہ مرنا مرا اچھا نہ ہوا فکر درماں نہ ہوئی رنج مداوا نہ ہوا واہ اس نالہ پہ اور اتنی عدو کو نازش بزم میں اور تو کیا حشر بھی برپا نہ ہوا سیر گلشن سے رہے شاد ولیکن افسوس اب کے معلوم کچھ احوال قفس کا نہ ہوا سو گئے سنتے ہی سنتے وہ دل زار کا حال جب کو ہم سمجھے تھے افسوں وہی افسانہ ہوا ربط کچھ داغ و جگر کا تو ہے چسپاں عاشقؔ ورنہ اس دور میں کوئی بھی کسی کا نہ ہوا

غزل · Ghazal

fitna-khu le gai dil chhin ke jhaT-paT ham se

فتنہ خو لے گئی دل چھین کے جھٹ پٹ ہم سے اور پھر سامنے آنے میں ہے گھونگھٹ ہم سے آپ کا قصد محبت ہے اگر غیروں سے قرض لے لیجئے تھوڑی سی محبت ہم سے سو گئے ہم تو ہم آغوش ہوئے خواب میں وہ اب تو کرنے لگے کچھ کچھ وہ لگاوٹ ہم سے ایک بوسہ کی طلب میں ہوئی محنت برباد وصل کی رات ہوئی یار سے کھٹ پٹ ہم سے صلح کر لیں ترے خنجر کے گلے مل جائیں قتل کے وقت نہ رکھئے وہ رکاوٹ ہم سے ہائے کس ناز سے کہتے ہیں شب وصل میں وہ ہو چکی بات جو ہونی تھی پرے ہٹ ہم سے

غزل · Ghazal

daaghon se dil-o-sina ke afrokhta-jaan huun

داغوں سے دل و سینہ کے افروختہ جاں ہوں گو میں چمن تازہ ہوں پر وقف خزاں ہوں پہلو میں اگر دل ہے تو تو دل میں ہے میرے گو ننگ خلائق ہوں مگر جان جہاں ہوں جس خاک پہ میں بیٹھ گیا فتنہ اٹھایا کس سرو خراماں کی کف پا کا نشاں ہوں ہم راہ تمہارے ہوں کسی جا ہوں کہیں ہوں سایہ کی طرح تم ہو جہاں میں بھی وہاں ہوں یا رب ہو برا وحشت دل کا کہ نہیں چین جب خاک ہوا مر کے تو اب ریگ رواں ہوں کیا زیست ہے یہ خاک مری عاشق ناشاد گہہ مصرف فریاد ہوں گہہ وقف فغاں ہوں

Similar Poets