SHAWORDS
Ashraf Yousafi

Ashraf Yousafi

Ashraf Yousafi

Ashraf Yousafi

poet
3Shayari
12Ghazal

Popular Shayari

3 total

Ghazalغزل

See all 12
غزل · Ghazal

مچھلیاں جال مچھیرے دریا یہ مرے خواب یہ بہتے دریا برف پگھلی تری آہٹ پا کر تیری آواز پہ جاگے دریا یہ روانی نہیں دیکھی ہوگی تو نے دیکھے ہیں بہت سے دریا جس نے دیکھی نہیں آنکھیں تیری وہ کبھی شام کو دیکھے دریا کس کو کس پار اترنا ہے بتا اس کہانی میں ہیں کتنے دریا کشتیٔ نوح میں بیٹھا ہوں میں کیا پیچھے طوفاں ہے اور آگے دریا ڈوبنے والے بتاتے ہی نہیں کس قدر ہوتے ہیں گہرے دریا بستیاں ان کو بھی آتی ہیں نظر اتنے اندھے نہیں ہوتے دریا تو نے پایاب کیا ہے مجھ کو میں ہوا کرتا تھا پہلے دریا تو نہیں جانتا پانی کی کشش تو نے دیکھے نہیں ایسے دریا

machhliyaan jaal machhere dariyaa

1 views

غزل · Ghazal

بہشت زار حسیں گل کدے میں رہتے تھے ہم ایک ساتھ کسی منطقے میں رہتے تھے نہ جانے کون سے پل کا تھا انتظار ہمیں نہ جانے کب سے ہم اک دوسرے میں رہتے تھے یہیں کہیں تھے پریشان خواب کی صورت کبھی تو نیند کبھی رت جگے میں رہتے تھے بہت سی جھیلیں ترے چشم و لب سے ملتی تھیں بہت سے پیڑ مرے راستے میں رہتے تھے زمانوں بعد کہیں سامنا ہوا اپنا سفر میں تھے مگر اک دائرے میں رہتے تھے کہیں جگہ ہی نہیں تھی ہمیں سمانے کو ہم اپنی ذات کے حیرت کدے میں رہتے تھے ہماری روشنی تو ایک تھی وجود الگ کہ دو چراغ تھے اک طاقچے میں رہتے تھے یقین جان کہ اک دوسرے کا عکس تھے ہم اور ایک ساتھ کسی آئینے میں رہتے تھے عجیب گوشۂ تنہائی میں پڑا ہوا ہوں تمام لوگ کبھی رابطے میں رہتے تھے

bahisht-zaar hasin gul-kade mein rahte the

1 views

غزل · Ghazal

آنکھ جب آئنے میں پڑتی ہے زندگی دیکھنے میں پڑتی ہے روز کٹتی ہے فصل خوشبو کی اور ترے تولیے میں پڑتی ہے دن کسی معرکے میں کٹتا ہے شب کسی مورچے میں پڑتی ہے چھوڑ دنیا کی بات دل کی سن چھوڑ کس وسوسے میں پڑتی ہے تو نہیں ہے تو رات بھر بارش جانے کس سلسلے میں پڑتی ہے پاؤں کو لاکھ کھینچتا ہوں مگر وہ گلی راستے میں پڑتی ہے گردش وقت تیری آنکھ کے اس پر کشش دائرے میں پڑتی ہے عشق کے اور ہیں مکان و زماں عمر اک ثانئے میں پڑتی ہے زندگی تو وہاں بھی ہے اشرفؔ برف جس منطقے میں پڑتی ہے

aankh jab aaine mein paDti hai

1 views

غزل · Ghazal

چھن کے آتی ہے جو یہ روشنی دروازے سے کیا مجھے دیکھ رہا ہے کوئی دروازے سے گھر کی تختی سے ملا آج مجھے اپنا پتہ اپنے ہونے کی گواہی ملی دروازے سے میں نے دہلیز سے جانے کی اجازت لے لی پھر مری بات نہ طے ہو سکی دروازے سے ایک روزن میں پڑی آنکھ سے کھلنے لگے ہیں ایک دیوار کے اندر کئی دروازے سے میں نے اس خواب کو اندر کہیں مسمار کیا میری آواز نہ باہر گئی دروازے سے رات بھر سسکیاں لیتا ہے کوئی شخص یہاں کبھی دیوار سے لگ کر کبھی دروازے سے خالی کمرہ مرا کس چاپ سے بھر جاتا ہے آتا جاتا ہی نہیں جب کوئی دروازے سے ایک خوشبو نے قدم بھول کے باہر رکھا پھر گلی آنکھ ملانے لگی دروازے سے روز اک شہر پر اسرار میں کھو جاتا ہوں وہی گلیاں وہی رستے وہی دروازے سے تو نے مہتاب نکلتے ہوئے دیکھا ہے کبھی اور مہتاب بھی ایسے کسی دروازے سے

chhan ke aati hai jo ye raushni darvaaze se

غزل · Ghazal

زیست کے تجربے کی باتیں ہیں عشق میں سب پتے کی باتیں ہیں میری بربادیوں کے ہیں قصے اور ترے سوچنے کی باتیں ہیں جانے کیا کیا اترتا ہے دل پر جانے کس کس سمے کی باتیں ہیں خال و خد سارا کچھ نہیں کہتے اس میں کچھ آئنے کی باتیں ہیں تم چلو گے تو میں بتاؤں گا ایک دو راستے کی باتیں ہیں میرا نقصان ہے سراسر دیکھ اور ترے فائدے کی باتیں ہیں کیا کبھی لوٹ کر بھی آئے لوگ یہ ترے بچپنے کی باتیں ہیں ہم نے کیسے کیا تجھے رخصت یہ بڑے حوصلے کی باتیں ہیں یوسفیؔ سے کبھی ملے ہو تم اس کی باتیں مزے کی باتیں ہیں

ziist ke tajrabe ki baatein hain

غزل · Ghazal

تیرے آنے کا گماں ہوتا ہے کس زمانے کا گماں ہوتا ہے سنگ ریزوں پہ بھی اب چڑیوں کو دانے دانے کا گماں ہوتا ہے میں کھنڈر ہوں تو جہاں کو مجھ میں اک خزانے کا گماں ہوتا ہے ایک تصویر ہوں غم کی جس پر مسکرانے کا گماں ہوتا ہے پیڑ کٹتے ہیں تو ہر تنکے پر آشیانے کا گماں ہوتا ہے دل کہاں اب تو کسی طائر کے پھڑپھڑانے کا گماں ہوتا ہے اس زمانے میں نہیں ہیں ہم تم جس زمانے کا گماں ہوتا ہے مے لرزتی ہے تو دنیا تجھ پر ڈگمگانے کا گماں ہوتا ہے

tere aane kaa gumaan hotaa hai

Similar Poets