"shaam khulti hai tere aane se lab pe tera saval rakhti hai"

Asima Tahir
Asima Tahir
Asima Tahir
Sherشعر
See all 12 →shaam khulti hai tere aane se
شام کھلتی ہے تیرے آنے سے لب پہ تیرا سوال رکھتی ہے
khushbu jaisi raat ne mera
خوشبو جیسی رات نے میرا اپنے جیسا حال کیا تھا
khvab ka intizar khatm hua
خواب کا انتظار ختم ہوا آنکھ کو نیند سے جگاتے ہیں
mire vajud ke andar hai ik qadim makan
مرے وجود کے اندر ہے اک قدیم مکان جہاں سے میں یہ اداسی ادھار لیتی ہوں
ham ne jab hal-e-dil un se apna kaha
ہم نے جب حال دل ان سے اپنا کہا وہ بھی قصہ کسی کا سنانے لگے
nahin vo itna bhi pagal nahin tha
نہیں وہ اتنا بھی پاگل نہیں تھا جو مر جاتا مری وابستگی میں
Popular Sher & Shayari
24 total"khushbu jaisi raat ne mera apne jaisa haal kiya tha"
"khvab ka intizar khatm hua aankh ko niind se jagate hain"
"mire vajud ke andar hai ik qadim makan jahan se main ye udasi udhar leti huun"
"ham ne jab hal-e-dil un se apna kaha vo bhi qissa kisi ka sunane lage"
"nahin vo itna bhi pagal nahin tha jo mar jaata miri vabastagi men"
khushbu jaisi raat ne meraa
apne jaisaa haal kiyaa thaa
nahin vo itnaa bhi paagal nahin thaa
jo mar jaataa miri vaabastagi mein
chubh rahi hai andheri raat mujhe
har sitaara bujhaae baiThi huun
baam-o-dar par utarne vaali dhuup
sabz rang-e-malaal rakhti hai
mire vajud ke andar hai ik qadim makaan
jahaan se main ye udaasi udhaar leti huun
khvaab kaa intizaar khatm huaa
aankh ko niind se jagaate hain
Ghazalغزل
apni aankhein jo band kar dekhun
اپنی آنکھیں جو بند کر دیکھوں سبز خوابوں کا میں سفر دیکھوں ڈوبنے کی نہ تیرنے کی خبر عشق دریا میں بس اتر دیکھوں بعد اس کے نہیں خبر کیا ہے آئنے تک تو چشم تر دیکھوں دل میں بجتا ہوا دھڑکتا ہوا اپنی تنہائی کا گجر دیکھوں بین کرتی ہوئی بہاروں میں خود میں اک شور خیر و شر دیکھوں خواب کی لہلہاتی وادی میں خوشبوؤں سے بنا نگر دیکھوں آسماں لے رہا ہے انگڑائی تتلیوں کے نگر میں ڈر دیکھوں موجۂ گل کے ہاتھ میں لپٹی عاصمہؔ دشت کی خبر دیکھوں
lafz khushbu mein Dhaaltaa manzar
لفظ خوشبو میں ڈھالتا منظر لیجئے شعر بن گیا منظر کیسا سندر تھا اک زمانے میں تیری آنکھوں میں ڈوبتا منظر رنگ موسم سے اڑ گئے سارے کینوس پر پڑا رہا منظر آپ کا جسم بھی ہے مٹی کا ایک نازک سا بھربھرا منظر مجھ کو حیرت سے مار ڈالے گا آئنے میں سجا ہوا منظر آہ کمرے میں جاگتے رہنا آہ کھڑکی میں سو گیا منظر اس نے دامن جھٹک لیا توبہ میرے ہاتھوں سے گر گیا منظر تم یہاں تھے تو تھا یہیں پر وہ پھر درختوں میں جا چھپا منظر کوئی آواز پھر سے گونجی ہے ہو گیا پھر ہرا بھرا منظر کس کی آہٹ ہے سونی گلیوں میں کس کا کھلتا ہے رات کا منظر کوئی مفلس کی پونجی ہو جیسے جوڑتی ہوں ذرا ذرا منظر
kis ke maatam mein ro rahi hai raat
کس کے ماتم میں رو رہی ہے رات چھپ کے بانہوں میں سو رہی ہے رات دکھ ہے ٹھہرا ہوا نگاہوں میں تیری یادیں بلو رہی ہے رات مجھ کو خوابوں کے باغ میں لا کر گھنے جنگل میں کھو رہی ہے رات روشنی نے لگائے جو الزام بہتی آنکھوں سے دھو رہی ہے رات اس کو بانہوں میں بھر رہی ہوں میں چاند خود میں سمو رہی ہے رات وصل کا دن طلوع ہونا ہے میں تو خوش ہوں کہ ہو رہی ہے رات
zakhm khaa ke bhi muskuraate hain
زخم کھا کے بھی مسکراتے ہیں ہم ہیں پتھر بکھر نہ پاتے ہیں کوئی پہچان ہی نہ لے ہم کو رنگ میں شام ہم ملاتے ہیں خواب کا انتظار ختم ہوا آنکھ کو نیند سے جگاتے ہیں شام کے وقت ہجرتی پتے سبز پیڑوں کا غم مناتے ہیں عاصمہؔ روشنی بھرے الفاظ اپنے اندر ہی جھلملاتے ہیں
apni haalat pe aansu bahaane lage
اپنی حالت پہ آنسو بہانے لگے سرد راتوں میں خود کو جگانے لگے سرخ تاروں کے ہم راہ کر کے سفر خواب زاروں سے کیوں آگے جانے لگے دور بجنے لگی ہے کہیں بانسری ہم بھی زندان میں گیت گانے لگے جو بصارت بصیرت سے محروم ہیں شہر کے آئنوں کو سجانے لگے ہم نے جب حال دل ان سے اپنا کہا وہ بھی قصہ کسی کا سنانے لگے نیستی کا ستم کوئی کم تھا جو تم اپنی ہستی کا دکھ بھی منانے لگے جب بجھی میری آنکھوں کی لو عاصمہؔ تیرہ منظر بھی جلوہ دکھانے لگے
pau phaTte hi train ki siiTi jab kaanon mein gunjti hai
پو پھٹتے ہی ٹرین کی سیٹی جب کانوں میں گونجتی ہے ثروت تیری یاد مرے دل کے خانوں میں گونجتی ہے شہزادی کے ہجر میں لکھے کچھ لفظوں کی حیرانی شہزادی کے گھر تک آتے مے خانوں میں گونجتی ہے شہزادی کے کانوں میں جو بات کہی تھی اک تو نے بعد ترے وہ بات ترے ہی افسانوں میں گونجتی ہے جان سے جانے سے پہلے اک آہ بھری ہوگی تو نے شام ڈھلے جو دور کہیں اب ویرانوں میں گونجتی ہے





