SHAWORDS
Asima Tahir

Asima Tahir

Asima Tahir

Asima Tahir

poet
12Sher
12Shayari
13Ghazal

Sherشعر

See all 12

Popular Sher & Shayari

24 total

Ghazalغزل

See all 13
غزل · Ghazal

apni aankhein jo band kar dekhun

اپنی آنکھیں جو بند کر دیکھوں سبز خوابوں کا میں سفر دیکھوں ڈوبنے کی نہ تیرنے کی خبر عشق دریا میں بس اتر دیکھوں بعد اس کے نہیں خبر کیا ہے آئنے تک تو چشم تر دیکھوں دل میں بجتا ہوا دھڑکتا ہوا اپنی تنہائی کا گجر دیکھوں بین کرتی ہوئی بہاروں میں خود میں اک شور خیر و شر دیکھوں خواب کی لہلہاتی وادی میں خوشبوؤں سے بنا نگر دیکھوں آسماں لے رہا ہے انگڑائی تتلیوں کے نگر میں ڈر دیکھوں موجۂ گل کے ہاتھ میں لپٹی عاصمہؔ دشت کی خبر دیکھوں

غزل · Ghazal

lafz khushbu mein Dhaaltaa manzar

لفظ خوشبو میں ڈھالتا منظر لیجئے شعر بن گیا منظر کیسا سندر تھا اک زمانے میں تیری آنکھوں میں ڈوبتا منظر رنگ موسم سے اڑ گئے سارے کینوس پر پڑا رہا منظر آپ کا جسم بھی ہے مٹی کا ایک نازک سا بھربھرا منظر مجھ کو حیرت سے مار ڈالے گا آئنے میں سجا ہوا منظر آہ کمرے میں جاگتے رہنا آہ کھڑکی میں سو گیا منظر اس نے دامن جھٹک لیا توبہ میرے ہاتھوں سے گر گیا منظر تم یہاں تھے تو تھا یہیں پر وہ پھر درختوں میں جا چھپا منظر کوئی آواز پھر سے گونجی ہے ہو گیا پھر ہرا بھرا منظر کس کی آہٹ ہے سونی گلیوں میں کس کا کھلتا ہے رات کا منظر کوئی مفلس کی پونجی ہو جیسے جوڑتی ہوں ذرا ذرا منظر

غزل · Ghazal

kis ke maatam mein ro rahi hai raat

کس کے ماتم میں رو رہی ہے رات چھپ کے بانہوں میں سو رہی ہے رات دکھ ہے ٹھہرا ہوا نگاہوں میں تیری یادیں بلو رہی ہے رات مجھ کو خوابوں کے باغ میں لا کر گھنے جنگل میں کھو رہی ہے رات روشنی نے لگائے جو الزام بہتی آنکھوں سے دھو رہی ہے رات اس کو بانہوں میں بھر رہی ہوں میں چاند خود میں سمو رہی ہے رات وصل کا دن طلوع ہونا ہے میں تو خوش ہوں کہ ہو رہی ہے رات

غزل · Ghazal

zakhm khaa ke bhi muskuraate hain

زخم کھا کے بھی مسکراتے ہیں ہم ہیں پتھر بکھر نہ پاتے ہیں کوئی پہچان ہی نہ لے ہم کو رنگ میں شام ہم ملاتے ہیں خواب کا انتظار ختم ہوا آنکھ کو نیند سے جگاتے ہیں شام کے وقت ہجرتی پتے سبز پیڑوں کا غم مناتے ہیں عاصمہؔ روشنی بھرے الفاظ اپنے اندر ہی جھلملاتے ہیں

غزل · Ghazal

apni haalat pe aansu bahaane lage

اپنی حالت پہ آنسو بہانے لگے سرد راتوں میں خود کو جگانے لگے سرخ تاروں کے ہم راہ کر کے سفر خواب زاروں سے کیوں آگے جانے لگے دور بجنے لگی ہے کہیں بانسری ہم بھی زندان میں گیت گانے لگے جو بصارت بصیرت سے محروم ہیں شہر کے آئنوں کو سجانے لگے ہم نے جب حال دل ان سے اپنا کہا وہ بھی قصہ کسی کا سنانے لگے نیستی کا ستم کوئی کم تھا جو تم اپنی ہستی کا دکھ بھی منانے لگے جب بجھی میری آنکھوں کی لو عاصمہؔ تیرہ منظر بھی جلوہ دکھانے لگے

غزل · Ghazal

pau phaTte hi train ki siiTi jab kaanon mein gunjti hai

پو پھٹتے ہی ٹرین کی سیٹی جب کانوں میں گونجتی ہے ثروت تیری یاد مرے دل کے خانوں میں گونجتی ہے شہزادی کے ہجر میں لکھے کچھ لفظوں کی حیرانی شہزادی کے گھر تک آتے مے خانوں میں گونجتی ہے شہزادی کے کانوں میں جو بات کہی تھی اک تو نے بعد ترے وہ بات ترے ہی افسانوں میں گونجتی ہے جان سے جانے سے پہلے اک آہ بھری ہوگی تو نے شام ڈھلے جو دور کہیں اب ویرانوں میں گونجتی ہے

Similar Poets