SHAWORDS
Aslam Aazad

Aslam Aazad

Aslam Aazad

Aslam Aazad

poet
12Shayari
18Ghazal

Popular Shayari

12 total

Ghazalغزل

See all 18
غزل · Ghazal

آنکھوں سے میں نے چکھ لیا موسم کے زہر کو لیکن وجود سہہ نہ سکا اس کے قہر کو پھینکا تھا کس نے سنگ ہوس رات خواب میں پھر ڈھونڈھتی ہے نیند اسی پچھلے پہر کو مٹی کے سب مکان زمیں دوز ہو گئے نقشے میں اب تلاش کرو اپنے شہر کو دریائے شب کا ٹوٹ گیا ہے سکوت آج مدت کے بعد دیکھ کے کرنوں کی نہر کو سائے کے ساتھ وقت کے دوڑا وہ دیر تک پلکوں میں پھر چھپا لیا لمحوں کے قہر کو پیمانۂ گلاب کو ہونٹوں سے چوم کر مٹھی میں قید کر لیا خوشبو کی لہر کو

aankhon se main ne chakh liyaa mausam ke zahr ko

2 views

غزل · Ghazal

جگمگاتی خواہشوں نے مجھ کو اندھا کر دیا قربتیں بخشیں تو محروم تمنا کر دیا اب تو اپنے آپ کو بھی یاد ہم آتے نہیں انتشار ذات نے یوں ریزہ ریزہ کر دیا شیشۂ دل میں سکوں کا عکس بھی باقی نہیں کن اذیت ناک لمحوں سے شناسا کر دیا ناتواں دروازے بوڑھی کھڑکیاں لو دے اٹھیں ریشمی پردوں نے ایک اک گھر کو ننگا کر دیا نرم سرگوشی نہ قدموں کی شناسا آہٹیں گاؤں کی گلیوں کو اسلمؔ کس نے تنہا کر دیا

jagmagaati khvaahishon ne mujh ko andhaa kar diyaa

1 views

غزل · Ghazal

اڑتے لمحوں کے بھنور میں کوئی پھنستا ہی نہیں اس سمندر میں کوئی تیرنے والا ہی نہیں سالہا سال سے ویران ہیں دل کی گلیاں ایک مدت سے کوئی اس طرف آیا ہی نہیں آنکھ کے غار میں ہیں سیکڑوں سڑتی لاشیں جھانک کر ان میں کسی نے کبھی دیکھا ہی نہیں دور تک پھیل گئی ٹوٹتے لمحوں کی خلیج وقت کا سایہ مرے سر سے اترتا ہی نہیں سلسلہ رونے کا صدیوں سے چلا آتا ہے کوئی آنسو مری پلکوں پہ ٹھہرتا ہی نہیں جلتے آکاش کی ڈھلوان پہ سورج کا وجود اک پگھلتا ہوا لاوا ہے کہ بجھتا ہی نہیں

uDte lamhon ke bhanvar mein koi phanstaa hi nahin

غزل · Ghazal

عجیب شخص ہے مجھ کو تو وہ دوانہ لگے پکارتا ہوں تو اس کو مری صدا نہ لگے گزر رہا ہے مرے سر سے جو ہوا کی طرح کبھی کبھی تو وہی لمحہ اک زمانہ لگے گلی میں جس پہ ہر اک سمت سے چلے پتھر مجھے وہ شخص کسی طرح بھی برا نہ لگے مزاج اس نے بھی کیسا عجیب پایا ہے ہزار چھیڑ کروں پر اسے برا نہ لگے ہمارے پیچھے وہ چپ چاپ بیٹھا رہتا ہے میں سوچتا ہوں مگر کچھ مجھے پتا نہ لگے اسی خیال سے شاید ہے بند وہ کھڑکی ٹھٹھرتی شام کی اس کو کہیں ہوا نہ لگے سنائیں کس کو یہاں آپ بیتی اے اسلمؔ ہمیں تو اپنی ہی ہر بات خود فسانہ لگے

ajiib shakhs hai mujh ko to vo divaana lage

غزل · Ghazal

کشت دل ویراں سہی تخم ہوس بویا نہیں خواہشوں کا بوجھ میں نے آج تک ڈھویا نہیں اس کی آنکھوں میں بچھا ہے سرخ تحریروں کا جال ایسا لگتا ہے کہ اک مدت سے وہ سویا نہیں خواب کی انجان کھڑکی میں نظر آیا تھا جو ذہن نے اس چہرۂ مانوس کو کھویا نہیں ایک مدت پر ملے بھی تو نہ ملنے کی طرح اس طرح خاموش ہو منہ میں زباں گویا نہیں میں نے اپنی خواہشوں کا قتل خود ہی کر دیا ہاتھ خون آلود ہیں ان کو ابھی دھویا نہیں دیکھ کر ہونٹوں پہ میرے مسکراہٹ کی لکیر وہ سمجھتے ہیں کہ اسلمؔ میں کبھی رویا نہیں

kisht-e-dil viraan sahi tukhm-e-havas boyaa nahin

غزل · Ghazal

کوئی دیوار سلامت ہے نہ اب چھت میری خانۂ خستہ کی صورت ہوئی حالت میری میرے سجدوں سے منور ہے تری راہ گزر میری پیشانی پہ روشن ہے صداقت میری اور کچھ دیر یوں ہی مجھ کو تڑپنے دیتے آپ نے چھین لی کیوں ہجر کی لذت میری یہ الگ بات کہ میں فاتح اعظم ٹھہرا ورنہ ہوتی رہی ہر گام ہزیمت میری میں نے ہر لمحہ نئی جست لگائی اسلمؔ مجھ سے وابستہ رہی پھر بھی روایت میری

koi divaar salaamat hai na ab chhat meri

Similar Poets