SHAWORDS
Atta Shad

Atta Shad

Atta Shad

Atta Shad

poet
4Shayari
8Ghazal

Popular Shayari

4 total

Ghazalغزل

See all 8
غزل · Ghazal

چوب صحرا بھی وہاں رشک ثمر کہلائے ہم خزاں بخت شجر ہو کے حجر کہلائے ہم تہ خاک کئے جاں کا عرق ان کے لئے اور پس راہ وفا گرد سفر کہلائے ان کی پوروں میں ستارے بھی ہیں انگارے بھی وہ صدف جسم ہوئے آتش تر کہلائے اپنی راہوں کا گلستان لگے ویرانہ ان کی دہلیز کی مٹی بھی گہر کہلائے جن کی خیرات سے لمحوں کی لویں جاگتی ہیں شب نژادوں میں وہی دست نگر کہلائے ان کے کتبے پہ یہی وقت نے لکھا ہے کہ وہ روشنی بانٹتے تھے تیرہ نظر کہلائے وہ تو دیواروں میں چنتا ہے زمانے کا ضمیر ہم ہی کیا سنگ سر راہ گزر کہلائے شادؔ بے صرفہ گیا عمر کا سرمایۂ حرف ہم کہ تھے جان صدا گنگ ہنر کہلائے

chob-e-sahraa bhi vahaan rashk-e-samar kahlaae

غزل · Ghazal

یہ دل بھی زخم ہے وہ گل بھی گھاؤ رکھتا ہے تمام شہر طلب کا تناؤ رکھتا ہے شکستہ شاخ ہو تم بارشوں کو دو نہ صدا نشیب اب کے غضب کا بہاؤ رکھتا ہے قریب ہے تو قریب آئے دور ہے تو رہے یہ کیا کہ پاس بھی ہے اور کھچاؤ رکھتا ہے وہ معتبر بھی ہمیں کر گیا سپرد ہوا یہ مہربان بھی موجوں کی ناؤ رکھتا ہے دکھا کے خواب مجھے نیند سے جگاتا ہے مجھے بگاڑ کے اپنا بناؤ رکھتا ہے عطاؔ سے بات کرو چاندنی سی شبنم سی خنک نظر ہے مگر دل الاؤ رکھتا ہے

ye dil bhi zakhm hai vo gul bhi ghaav rakhtaa hai

غزل · Ghazal

گہری ہے شب کی آنچ کہ زنجیر در کٹے تاریکیاں بڑھے تو سحر کا سفر کٹے کتنی شدید ہے یہ خنک سرخیوں کی شام سلگا ہے وہ سکوت کہ تار نظر کٹے سوگند ہے کہ ترک طلب کی سزا ملے رک جائے گر قدم کی مسافت تو سر کٹے کیوں کشت اعتبار بھی سرسر کی زد میں ہو کیا انتظار خلق سے فصل ہنر کٹے یوں بھی تو ہو کہ سر کے سبب ہو شکست سنگ یہ بھی تو ہو کبھی کہ شجر سے تبر کٹے کھل جائیں روشنی پہ مرے پتھروں کے رنگ اس رات سی پہاڑ کا سینہ مگر کٹے صدیوں سفر ہے شادؔ مجھے خود مرا وجود دل سے غبار راہ چھٹے رہ گزر کٹے

gahri hai shab ki aanch ki zanjir-e-dar kaTe

غزل · Ghazal

یک لمحہ سہی عمر کا ارمان ہی رہ جائے اس خلوت یخ میں کوئی مہمان ہی رہ جائے قربت میں شب گرم کا موسم ہے ترا جسم یہ خطۂ جاں وقف زمستان ہی رہ جائے مجھ شاخ برہنہ پہ سجا برف کی کلیاں پت جھڑ پہ ترے حسن کا احسان ہی رہ جائے برفاگ کے آشوب میں جم جاتی ہیں سوچیں اس کرب قیامت میں ترا دھیان ہی رہ جائے تجھ بن تو سنائی نہ دے سورج کی صدا بھی دل دشت ہوا بستہ ہے سنسان ہی رہ جائے مرمر کی سلوں میں تو گھٹے آگے کا دم بھی یہ قریۂ جاناں ہے یہاں جان ہی رہ جائے سوچوں تو شعاعوں سے تراشوں ترا پیکر چھو لوں تو وہی برف کا انسان ہی رہ جائے یہ شام یہ چاندی کا برستا ہوا جھرنا کوئی تری زلفوں میں پریشان ہی رہ جائے صورت سے وہ گل برف سہی پھر بھی عطاؔ شاد تاثیر میں وہ مشک کی پہچان ہی رہ جائے

yak lamha sahi 'umr kaa armaan hi rah jaae

غزل · Ghazal

دلوں کے درد جگا خواہشوں کے خواب سجا بلا کشان نظر کے لیے سراب سجا مہک رہا ہے کسی کا بدن سر مہتاب مرے خیال کی ٹہنی پہ کیا گلاب سجا کوئی کہیں تو سنے تیرے عرض حال کا حبس ہوا کی رحل پہ آواز کی کتاب سجا وہ کیا طلب تھی ترے جسم کے اجالے کی میں بجھ گیا تو مرا خانۂ خراب سجا تمام شب تھا ترا ہجر تیرا آئینہ گر تمام شب مرے پہلو میں آفتاب سجا نہ تو ہے اور نہ میں ہوں نہ وصل ہے نہ فراق سجا شراب سجا جا بجا شراب سجا عطاؔ یہ آنکھ دھنک منزلوں کی چاہ میں تھی چھٹا جو ابر گھنی تیرگی کا باب سجا

dilon ke dard jagaa khvaahishon ke khvaab sajaa

غزل · Ghazal

زندگی آئینہ ہے آئینہ آرائی ہے اجنبی بھی ہے وہی جس سے شناسائی ہے سنگ دل سامنے آتا ہے تو یہ سوچتا ہوں آرزو حسن کی دیوار سے ٹکرائی ہے آج کی رات بھی کرتا ہے کوئی کفر کی بات چاند کے پھول میں شبنم کی شراب آئی ہے کس کو اس دور میں ہے فرصت عشق خوباں آگ تیرے لب و رخسار نے برسائی ہے تو نہیں ہے تو ہر اک جرعۂ مہتاب صفت یاد کی آنکھ سے ٹپکی ہوئی تنہائی ہے دل وہ صحرا ہے جہاں حسرت سایہ بھی نہیں دل وہ دنیا ہے جہاں رنگ ہے رعنائی ہے

zindagi aaina hai aaina-aaraai hai

Similar Poets