SHAWORDS
Azhar Hashmi Sabqat

Azhar Hashmi Sabqat

Azhar Hashmi Sabqat

Azhar Hashmi Sabqat

poet
15Sher
15Shayari
16Ghazal

Sherشعر

See all 15

Popular Sher & Shayari

30 total

Ghazalغزل

See all 16
غزل · Ghazal

kabhi madhur kabhi miThi zabaan kaa shaa'ir huun

کبھی مدھر کبھی میٹھی زباں کا شاعر ہوں اسی سند سے میں ہندوستاں کا شاعر ہوں دکھیں گے مجھ میں تمہیں زخم گھاؤ دونو ہی خلاف ظلم کے عاجز بیاں کا شاعر ہوں میں اپنی فکر کو محدود رکھ نہیں سکتا زمین و عرش مکین و مکاں کا شاعر ہوں گمان کہتا ہے کے میں یقیں کا شاعر ہوں یقین کہتا ہے کے میں گماں کا شاعر ہوں جہاں ہے ذرّہ قمر اور جہاں قمر ذرہ میں اس زمیں کا میں اس آسماں کا کا شاعر ہوں ابھی مجھے نہ سخنور کہو مرے احباب ابھی سخن میں فقط امتحاں کا شاعر ہوں مجھے نہ دیکھو یوں نفرت بھری نگاہوں سے میں ہاشمیؔ ہوں میں امن و اماں کا شاعر ہوں

غزل · Ghazal

shahr ko aatish-e-ranjish ke dhuaan tak dekhun

شہر کو آتش رنجش کے دھواں تک دیکھوں مقتل زیست کو آخر میں کہاں تک دیکھوں پھر یہ مانوں گا خموشی پہ زوال آیا ہے دل دھڑکنے کی صدا جب میں زباں تک دیکھوں یہ تمنا ہے خدا عالم ہستی میں ترے میں عیاں دیکھنا چاہوں تو نہاں تک دیکھوں جب کہ اب رابطہ رکھنے کا بہت ہے امکاں پھر بھی ویرانیاں پھیلیں ہیں جہاں تک دیکھوں کیا تصور مری آنکھوں نے نوازا ہے مجھے خود کو دیکھوں تو میں احساس زیاں تک دیکھوں مانتا ہوں کہ ہے ظلمات ازل اس کا نصیب رات کی ضد ہے اسے اپنی فغاں تک دیکھوں یہ بھی اسلاف کی تہذیب ہے اظہرؔ میں یہاں اپنا کردار تمام امن اماں تک دیکھوں

غزل · Ghazal

mire vajud kaa mehvar chamaktaa rahtaa hai

مرے وجود کا محور چمکتا رہتا ہے اسی سند سے مقدر چمکتا رہتا ہے کسی مزار پہ چھائی ہے خاک مفلس کی کسی مزار کا پتھر چمکتا رہتا ہے یہ کیسی رسم ہلاکت بھی پا گئی ہے رواج یہ کیسے خون کا منظر چمکتا رہتا ہے مری نگاہ کو منزل کی روشنی ہے عزیز بلا سے میل کا پتھر چمکتا رہتا ہے جو اٹھ کے خاک سے پرواز کا اجالا بنا اسی پرندے کا شہ پر چمکتا رہتا ہے مٹا کے حوصلے باطل کے آؤ سوئے حق قدم بڑھاؤ کہ رہبر چمکتا رہتا ہے نجوم شمس قمر اور جلنے لگتے ہیں سخن وروں میں جب اظہرؔ چمکتا رہتا ہے

غزل · Ghazal

jo daulat taraqqi-rasaai bahut hai

جو دولت ترقی رسائی بہت ہے تو آپس میں اس سے جدائی بہت ہے اگر تجھ میں الفت سمائی بہت ہے تو سن لو یہاں ہے وفائی بہت ہے کبھی درد ماں کو نہیں دو کہ اس کی ہر ایک آہ میں گہری کھائی بہت ہے خدا کی رضا ہے نہ حاصل کسی کو خدا کے لیے پر لڑائی بہت ہے محبت لٹائی ہے اپنو پہ بے حد مگر چوٹ اپنو سے کھائی بہت ہے حقیقت میں وہ دور کافی ہے مجھ سے تصور میں جو پاس آئی بہت ہے سیاست نے جشن چراغاں کے بدلے غریبوں کی بستی جلائی بہت ہے ہر اک شے سے لے کر زمین و فلک کو میسر خدا کی خدائی بہت ہے اگر مجھ کو ایماں کی پرواہ نہ ہوتی تو دنیا میں اظہرؔ کمائی بہت ہے

غزل · Ghazal

khvaabon kaa intikhaab badaltaa dikhaai de

خوابوں کا انتخاب بدلتا دکھائی دے کاش اب کہ اختیار سنورتا دکھائی دے صیاد کے ہنر کی ستائش نہیں ہو اب جس کو ہے پر نصیب وہ اڑتا دکھائی دے اتنی نہ انتشار کی حدت ہو روبرو انساں غم حیات میں جلتا دکھائی دے کیا وہ حساب درس میں رکھے گا کائنات جس کا یہاں وجود شکستہ دکھائی دے

غزل · Ghazal

vafaa khulus kaa singaar roz karti hai

وفا خلوص کا سنگار روز کرتی ہے یوں دھیرے دھیرے مری زندگی سنورتی ہے کوئی حیات زمانہ کو ہے عزیز بہت کوئی حیات ہے کہ روز روز مرتی ہے ترے چراغ کا فانوس خود ہوا ہے اور مرے چراغ سے ظالم ہوا گزرتی ہے تو پھر وجود امارت نظر کا ہے دھوکہ جب اینٹ اینٹ ہی تعمیر سے مکرتی ہے دعا یہ کیجیے یاروں کہ ہوش میں آؤں مری نگاہ محبت تلاش کرتی ہے نہ خود کے رہتا ہے انساں نہ دوسروں کے قریب کوئی حسین شناسائی جب بکھرتی ہے ستم گروں کو عبادت گزار مت جانو خدا کی بندگی اظہرؔ خدا سے ڈرتی ہے

Similar Poets