"milti hai khushi sab ko jaise hi kahin se bhi bhuli hui bachpan ki tasvir nikalti hai"

Azhar Hashmi Sabqat
Azhar Hashmi Sabqat
Azhar Hashmi Sabqat
Sherشعر
See all 15 →milti hai khushi sab ko jaise hi kahin se bhi
ملتی ہے خوشی سب کو جیسے ہی کہیں سے بھی بھولی ہوئی بچپن کی تصویر نکلتی ہے
kahin suragh nahin hai kisi bhi qatil ka
کہیں سراغ نہیں ہے کسی بھی قاتل کا لہولہان مگر شہر کا نظارہ ہے
ye tamanna hai khuda alam-e-hasti men tire
یہ تمنا ہے خدا عالم ہستی میں ترے میں عیاں دیکھنا چاہوں تو نہاں تک دیکھوں
koi hayat zamane ko hai aziiz bahut
کوئی حیات زمانہ کو ہے عزیز بہت کوئی حیات ہے کہ روز روز مرتی ہے
itni na intishar ki hiddat ho ru-ba-ru
اتنی نہ انتشار کی حدت ہو روبرو انساں غم حیات میں جلتا دکھائی دے
guman kahta hai ke main yaqin ka sha.ir huun
گمان کہتا ہے کے میں یقیں کا شاعر ہوں یقین کہتا ہے کے میں گماں کا شاعر ہوں
Popular Sher & Shayari
30 total"kahin suragh nahin hai kisi bhi qatil ka lahuluhan magar shahr ka nazara hai"
"ye tamanna hai khuda alam-e-hasti men tire main ayaan dekhna chahun to nihan tak dekhun"
"koi hayat zamane ko hai aziiz bahut koi hayat hai ki roz roz marti hai"
"itni na intishar ki hiddat ho ru-ba-ru insan gham-e-hayat men jalta dikha.i de"
"guman kahta hai ke main yaqin ka sha.ir huun yaqin kahta hai ke main guman ka sha.ir huun"
sajde kaa sabab jaan ke shirin hai pareshaan
farhaad ne kah Daalaa ke rab DhunD rahaa huun
jis khaak se kahte ho vafaa ham nahin karte
soe hain usi khaak mein sultaan hazaaron
kahin suraagh nahin hai kisi bhi qaatil kaa
lahuluhaan magar shahr kaa nazaara hai
ye jo behaal saa manzar ye jo bimaar se ham tum
siyaasat ki navaazish hai kisi se kuchh nahin bolein
ye tamannaa hai khudaa aalam-e-hasti mein tire
main ayaan dekhnaa chaahun to nihaan tak dekhun
khudaa ki razaa hai na haasil kisi ko
khudaa ke liye par laDaai bahut hai
Ghazalغزل
kabhi madhur kabhi miThi zabaan kaa shaa'ir huun
کبھی مدھر کبھی میٹھی زباں کا شاعر ہوں اسی سند سے میں ہندوستاں کا شاعر ہوں دکھیں گے مجھ میں تمہیں زخم گھاؤ دونو ہی خلاف ظلم کے عاجز بیاں کا شاعر ہوں میں اپنی فکر کو محدود رکھ نہیں سکتا زمین و عرش مکین و مکاں کا شاعر ہوں گمان کہتا ہے کے میں یقیں کا شاعر ہوں یقین کہتا ہے کے میں گماں کا شاعر ہوں جہاں ہے ذرّہ قمر اور جہاں قمر ذرہ میں اس زمیں کا میں اس آسماں کا کا شاعر ہوں ابھی مجھے نہ سخنور کہو مرے احباب ابھی سخن میں فقط امتحاں کا شاعر ہوں مجھے نہ دیکھو یوں نفرت بھری نگاہوں سے میں ہاشمیؔ ہوں میں امن و اماں کا شاعر ہوں
shahr ko aatish-e-ranjish ke dhuaan tak dekhun
شہر کو آتش رنجش کے دھواں تک دیکھوں مقتل زیست کو آخر میں کہاں تک دیکھوں پھر یہ مانوں گا خموشی پہ زوال آیا ہے دل دھڑکنے کی صدا جب میں زباں تک دیکھوں یہ تمنا ہے خدا عالم ہستی میں ترے میں عیاں دیکھنا چاہوں تو نہاں تک دیکھوں جب کہ اب رابطہ رکھنے کا بہت ہے امکاں پھر بھی ویرانیاں پھیلیں ہیں جہاں تک دیکھوں کیا تصور مری آنکھوں نے نوازا ہے مجھے خود کو دیکھوں تو میں احساس زیاں تک دیکھوں مانتا ہوں کہ ہے ظلمات ازل اس کا نصیب رات کی ضد ہے اسے اپنی فغاں تک دیکھوں یہ بھی اسلاف کی تہذیب ہے اظہرؔ میں یہاں اپنا کردار تمام امن اماں تک دیکھوں
mire vajud kaa mehvar chamaktaa rahtaa hai
مرے وجود کا محور چمکتا رہتا ہے اسی سند سے مقدر چمکتا رہتا ہے کسی مزار پہ چھائی ہے خاک مفلس کی کسی مزار کا پتھر چمکتا رہتا ہے یہ کیسی رسم ہلاکت بھی پا گئی ہے رواج یہ کیسے خون کا منظر چمکتا رہتا ہے مری نگاہ کو منزل کی روشنی ہے عزیز بلا سے میل کا پتھر چمکتا رہتا ہے جو اٹھ کے خاک سے پرواز کا اجالا بنا اسی پرندے کا شہ پر چمکتا رہتا ہے مٹا کے حوصلے باطل کے آؤ سوئے حق قدم بڑھاؤ کہ رہبر چمکتا رہتا ہے نجوم شمس قمر اور جلنے لگتے ہیں سخن وروں میں جب اظہرؔ چمکتا رہتا ہے
jo daulat taraqqi-rasaai bahut hai
جو دولت ترقی رسائی بہت ہے تو آپس میں اس سے جدائی بہت ہے اگر تجھ میں الفت سمائی بہت ہے تو سن لو یہاں ہے وفائی بہت ہے کبھی درد ماں کو نہیں دو کہ اس کی ہر ایک آہ میں گہری کھائی بہت ہے خدا کی رضا ہے نہ حاصل کسی کو خدا کے لیے پر لڑائی بہت ہے محبت لٹائی ہے اپنو پہ بے حد مگر چوٹ اپنو سے کھائی بہت ہے حقیقت میں وہ دور کافی ہے مجھ سے تصور میں جو پاس آئی بہت ہے سیاست نے جشن چراغاں کے بدلے غریبوں کی بستی جلائی بہت ہے ہر اک شے سے لے کر زمین و فلک کو میسر خدا کی خدائی بہت ہے اگر مجھ کو ایماں کی پرواہ نہ ہوتی تو دنیا میں اظہرؔ کمائی بہت ہے
khvaabon kaa intikhaab badaltaa dikhaai de
خوابوں کا انتخاب بدلتا دکھائی دے کاش اب کہ اختیار سنورتا دکھائی دے صیاد کے ہنر کی ستائش نہیں ہو اب جس کو ہے پر نصیب وہ اڑتا دکھائی دے اتنی نہ انتشار کی حدت ہو روبرو انساں غم حیات میں جلتا دکھائی دے کیا وہ حساب درس میں رکھے گا کائنات جس کا یہاں وجود شکستہ دکھائی دے
vafaa khulus kaa singaar roz karti hai
وفا خلوص کا سنگار روز کرتی ہے یوں دھیرے دھیرے مری زندگی سنورتی ہے کوئی حیات زمانہ کو ہے عزیز بہت کوئی حیات ہے کہ روز روز مرتی ہے ترے چراغ کا فانوس خود ہوا ہے اور مرے چراغ سے ظالم ہوا گزرتی ہے تو پھر وجود امارت نظر کا ہے دھوکہ جب اینٹ اینٹ ہی تعمیر سے مکرتی ہے دعا یہ کیجیے یاروں کہ ہوش میں آؤں مری نگاہ محبت تلاش کرتی ہے نہ خود کے رہتا ہے انساں نہ دوسروں کے قریب کوئی حسین شناسائی جب بکھرتی ہے ستم گروں کو عبادت گزار مت جانو خدا کی بندگی اظہرؔ خدا سے ڈرتی ہے





