SHAWORDS
Azhar Naqvi

Azhar Naqvi

Azhar Naqvi

Azhar Naqvi

poet
19Sher
19Shayari
13Ghazal

Sherشعر

See all 19

Popular Sher & Shayari

38 total

Ghazalغزل

See all 13
غزل · Ghazal

girdaab-e-reg-e-jaan se mauj-e-saraab tak

گرداب ریگ جان سے موج سراب تک زندہ ہے تو لہو میں بس اک اضطراب تک اک میں کہ ایک غم کا تقاضا نہ کر سکا اک وہ کہ اس نے مانگ لئے اپنے خواب تک تو لفظ لفظ لذت ہجراں میں ہے ابھی ہم آ گئے ہیں ہجرت غم کے نصاب تک جو زیر‌ موج آب رواں ہے خروج آب آ جائے ایک روز اگر سطح آب تک ملتا کہیں سواد ورود و شہود میں ہوتا مری حدود کا کوئی حساب تک تیرا ہی رقص سلسلہ عکس خواب ہے اس اشک نیم شب سے شب ماہتاب تک آثار عہد غم ہیں تہہ ریگ جاں کہ تو پہنچا نہیں ابھی دل خانہ خراب تک

غزل · Ghazal

koi aisi baat hai jis ke Dar se baahar rahte hain

کوئی ایسی بات ہے جس کے ڈر سے باہر رہتے ہیں ہم جو اتنی رات گئے تک گھر سے باہر رہتے ہیں پتھر جیسی آنکھوں میں سورج کے خواب لگاتے ہیں اور پھر ہم اس خواب کے ہر منظر سے باہر رہتے ہیں جب تک رہتے ہیں آنگن میں ہنگامہ تنہائی کے خاموشی کے سائے بام و در سے باہر رہتے ہیں جب سے بے چہروں کی بستی میں چہرے تقسیم ہوئے اس دن سے ہم آئینوں کے گھر سے باہر رہتے ہیں جس کی ریت پہ نام لکھے ہیں اظہرؔ ڈوبنے والوں کے وہ ساحل موجوں کے شور و شر سے باہر رہتے ہیں

غزل · Ghazal

afsurdagi-e-dard-e-faraaqat hai sahar tak

افسردگیٔ درد فراقت ہے سحر تک یہ شام تو اک شام قیامت ہے سحر تک کوئی تو اندھیروں میں اجالوں کا سبب ہو مانا کہ چراغوں کی حقیقت ہے سحر تک اب ہم پہ جو آئی تو کسی طور نہ گزری سنتے تھے شب غم کی طوالت ہے سحر تک پھر راکھ بھی ہو جائیں تو ہو جائیں بلا سے آنکھوں کے حوالوں کی ضرورت ہے سحر تک جس رات کھلا مجھ پہ وہ مہتاب کی صورت وہ رات ستاروں کی امانت ہے سحر تک سورج پہ حکومت ہے یہاں دیدہ وروں کی سینوں کی سلگنے کی اجازت ہے سحر تک گونجے گا ہر اک حلقۂ زنجیر اسیراں خاموشیٔ زنداں کی اذیت ہے سحر تک یہ رقص بلا‌ ساز جنوں خیز پہ اظہرؔ یہ محفل ہنگامۂ وحشت ہے سحر تک

غزل · Ghazal

kinaaron se judaa hotaa nahin tughyaaniyon kaa dukh

کناروں سے جدا ہوتا نہیں طغیانیوں کا دکھ نئی موجوں میں رہتا ہے پرانے پانیوں کا دکھ کہیں مدت ہوئی اس کو گنوایا تھا مگر اب تک مری آنکھوں میں ہے ان بے سر و سامانیوں کا دکھ تو کیا تو بھی مری اجڑی ہوئی بستی سے گزرا ہے تو کیا تو نے بھی دیکھا ہے مری ویرانیوں کا دکھ شکست غم کے لمحوں میں جو غم آلود ہو جائیں زمیں ہاتھوں پہ لے لیتی ہے ان پیشانیوں کا دکھ میان عکس و آئینہ ابھی کچھ گرد باقی ہے ابھی پہچان میں آیا نہیں حیرانیوں کا دکھ میں پہلے ڈھونڈھتا ہوں اک ذرا آسانیاں اور پھر بڑی مشکل میں رکھتا ہے مجھے آسانیوں کا دکھ

غزل · Ghazal

utar kar paaniyon mein chaand mahv-e-raqs rahtaa hai

اتر کر پانیوں میں چاند محو رقص رہتا ہے مری آنکھوں میں کچھ اس طور کوئی شخص رہتا ہے عجب حیرت ہے اکثر دیکھتا ہے میرے چہرے کو یہ کس نا آشنا کا آئنے میں عکس رہتا ہے مری بستی کا کوئی گھر بھی گھر جیسا نہیں لگتا کہیں تعمیر بام و در میں کوئی نقص رہتا ہے جمی ہے گرد آنکھوں میں کئی گمنام برسوں کی مرے اندر نہ جانے کون بوڑھا شخص رہتا ہے چلو باد صبا کو جنگلوں سے ڈھونڈھ کر لائیں فصیل شہر میں اظہرؔ بلا کا حبس رہتا ہے

غزل · Ghazal

dil kuchh der machaltaa hai phir yaadon mein yuun kho jaataa hai

دل کچھ دیر مچلتا ہے پھر یادوں میں یوں کھو جاتا ہے جیسے کوئی ضدی بچہ روتے روتے سو جاتا ہے سرد ہوا یا ٹوٹا تاؤ پوری رات ادھورا چاند میرے آنگن کی مٹی کو جانے کون بھگو جاتا ہے اک اک کر کے دھوپ کے سارے سرخ پرندے مر جاتے ہیں ریت کے زرد سمندر پر جب سورج پاؤں دھو جاتا ہے تجھ سے بچھڑ کر رات کا اک اک لمحہ صدیوں میں کٹتا ہے دن کے ہوتے ہوتے اب تو ایک زمانہ ہو جاتا ہے رات گئے تنہائی مجھ سے اکثر پوچھنے آ جاتی ہے چپ کی اس بستی کو شور و غل میں کون ڈبو جاتا ہے

Similar Poets