azaab hoti hain aksar shabaab ki ghaDiyaan
gulaab apni hi khushbu se Darne lagte hain

Badr Wasti
Badr Wasti
Badr Wasti
Popular Shayari
6 totalhar shakhs ko gumaan ki manzil nahin hai duur
ye to bataaiye ki pata kis ke paas hai
qaatil ki saari saazishein naakaam hi rahin
chehra kuchh aur khil uThaa zahraab gar piyaa
lahu kaa aakhiri qatra nichoDne par bhi
taqaaze reingte rahte hain rang-o-bu ke liye
phaldaar darakhton ne rijhaayaa to mujhe bhi
aazaad parindon ke liye shaakh-o-samar kyaa
aaj-kal to sab ke sab Tv ke divaane hue
varna bachche to liyaa karte the paagal ke maze
Ghazalغزل
تمہارے دل میں جو غم بسا ہے تو میں کہاں ہوں یہ میں نہیں کوئی دوسرا ہے تو میں کہاں ہوں ہماری پلکوں کے خواب آخر اداس کیوں ہیں اگر یہ تم کو ہی سوچنا ہے تو میں کہاں ہوں وہ میری تصویر میری خوشبو خیال میرا تمہارا کمرہ سجا ہوا ہے تو میں کہاں ہوں کسی نے دیکھا تو کیا کہے گا تم ہی بتاؤ تمہارے ہاتھوں میں آئینہ ہے تو میں کہاں ہوں تمہاری چاہت کے زخم شاید مہک رہے ہیں سنا ہے موسم ہرا بھرا ہے تو میں کہاں ہوں ہرا جمے گا کہ سرخ جوڑا یہ کارچوبی تمہیں یہ دل ہی سے پوچھنا ہے تو میں کہاں ہوں یہ تم بھی سوچو کہ بدرؔ آخر اداس کیوں ہے چراغ اتنا بجھا بجھا ہے تو میں کہاں ہوں
tumhaare dil mein jo gham basaa hai to main kahaan huun
فکر اہل ہنر پہ بیٹھی ہے شاعری سیم و زر پہ بیٹھی ہے پہلے ہاتھوں میں ہاتھ رہتا تھا زندگی اب کمر پہ بیٹھی ہے سہمی سہمی ہوئی سی ہر خواہش دل وحشت اثر پہ بیٹھی ہے پھول کانٹوں کے بیچ رہتے ہیں خوشبو تتلی کے پر پہ بیٹھی ہے آستینیں ٹٹول کر دیکھو دوستی کس ڈگر پہ بیٹھی ہے
fikr-e-ahl-e-hunar pe baiThi hai
وہ جب دے گا جو کچھ دے گا دے گا اپنے والوں کو ویسے بھی کچھ ملتا کب ہے دھوپ میں تپنے والوں کو دین دھرم محفوظ ہیں لیکن تصویروں جزدانوں میں وقت پڑے تو لے آتے ہیں مالا جپنے والوں کو خوابوں کی بارش تو سارے زخم ہرے کر دیتی ہے نیند کہاں سے آئے گی پھر بھیگے سپنے والوں کو اخباروں کی سرخی بننا سب کے بس کی بات نہیں اونچا مول چکانا پڑتا ہے روز کے چھپنے والوں کو جانے کیسے ایسے ویسے آگے بڑھتے جاتے ہیں پاس سے جا کر کس نے دیکھا بدرؔ پنپنے والوں کو
vo jab degaa jo kuchh degaa degaa apne vaalon ko
ذہن اور دل میں جو رہتی ہے چبھن کھل جائے آئے کاغذ پہ تو سلمائے سخن کھل جائے قطرۂ دیدۂ نمناک مسیحائی کرے فکر کے بند دریچوں کی شکن کھل جائے میں اسے روز مناتا ہوں سحر ہونے تک میرے اللہ کسی شب تو یہ دلہن کھل جائے ایک خوشبو سی ہے جو روح کی گہرائی میں لفظ مل جائیں تو معنی کا چمن کھل جائے اس طرح جاگے کسی روز غزل کا جادو جیسے مستی میں پیا سے کوئی جوگن کھل جائے نیم شب عجز و سماجت سے کروں دست دراز لفظ دھونے کے لئے آنکھوں میں ساون کھل جائے سرکشی اور تجاوز سے بچانا یا رب میرے احساس میں گر یاس کا پھن کھل جائے
zehan aur dil mein jo rahti hai chubhan khul jaae
دھانی سرمئی سبز گلابی جیسے ماں کا آنچل شام کیسے کیسے رنگ دکھائے روز لبالب چھاگل شام چرواہے کو گھر پہنچائے پہرے دار سے گھر چھڑوائے آتے جاتے چھیڑتی جائے دروازے کی سانکل شام سورج کے پاپوں کی گٹھری سر پر لادے تھکی تھکی سی خاموشی سے منہ لٹکائے چل دیتی ہے پیدل شام بے حس دنیا داروں کو ہو دنیا کی ہر چیز مبارک غم زادوں کا سرمایا ہیں آنسو آہیں بوتل شام سورج کے جاتے ہی اپنے رنگ پہ آ جاتی ہے دنیا جانے بوجھے چپ رہتی ہے شب کے موڑ پہ کومل شام سانسوں کی پر شور ڈگر پہ رقص کرے گا سناٹا چپکے سے جس روز اچانک چھنکا دے گی پائل شام بدرؔ تمہیں کیا حال سنائیں اتنا ہی بس کافی ہے تنہائی میں کٹ جاتی ہے جیسے تیسے مخمل شام
dhaani surmai sabz gulaabi jaise maan kaa aanchal shaam
کس کو فرصت کون پڑھے گا چہرے جیسا سچا سچ روز عدالت میں چلتا ہے کھوٹا سکہ جھوٹا سچ اونچے خوابوں کے تاجر سے کوئی نہیں یہ پوچھنے والا کون جوانوں کے چہروں پر لکھ دیتا ہے پیلا سچ ہم سے کیا پوچھو گے صاحب شہر کبھی کا ٹوٹ چکا شام کی میلی چادر پر ہے ٹکڑے ٹکڑے پھیلا سچ ان آنکھوں میں مستقبل کے خواب بھلا کیا اتریں گے جن آنکھوں نے دیکھ لیا ہے وقت سے پہلے نیلا سچ اس کے بیٹا بیٹی کالج اسی طرف سے جاتے ہیں رات کو جس نے بیچ سڑک پر پھینکا ہے اک گیلا سچ سب نے ہم کو خوشحالی کے خواب دکھا کر چھوڑ دیا گلیوں گلیوں گھوم رہا ہے دھول میں لپٹا ننگا سچ بدرؔ تمہاری راہ میں آ کر دنیا جال بچھائے گی جو کہتے ہو کہتے رہنا چھوڑ نہ دینا لکھنا سچ
kis ko fursat kaun paDhegaa chehre jaisaa sachchaa sach





