kaarvaan jin kaa luTaa raah mein aazaadi ki
qaum kaa mulk kaa un dard ke maaron ko salaam

Bano Tahira Sayeed
Bano Tahira Sayeed
Bano Tahira Sayeed
Popular Shayari
3 totaltaDapnaa gungunaanaa aah bharnaa dasht-paimaai
dil-e-shaair ki kuchh ranginiyaan hain mere hisse mein
'taahira' talkhi-e-dauraan ki sharaab-e-rangin
teri ghazlon mein rachi hai tujhe maalum nahin
Ghazalغزل
پھر یاد آ گئی کسی شیریں دہن کی بات جس کی ہر ایک بات ہے شعر و سخن کی بات انجان بن کے حال غم دل نہ پوچھئے آ جائے گی زبان پہ زخم کہن کی بات صبح بہار لطف سخن رنگ روئے گل ہر حسن میں نہاں ہے ترے بانکپن کی بات کیوں عندلیب چپ ہے صبا ماجرا ہے کیا گلشن میں ہو رہی ہے جو زاغ و زغن کی بات دلی بہت حسین ہے دل کش ہے لکھنؤ لیکن یہ اور ہی ہے ہمارے دکن کی بات سنتے رہے زمانہ کی کڑوی کڑی مگر کہنے نہ پائے طاہرہؔ ہم اپنے من کی بات
phir yaad aa gai kisi shirin-dahan ki baat
بیسویں صدی کے ہم شاعر پریشاں ہیں مسئلوں میں الجھے ہیں فکر و غم میں غلطاں ہیں ڈوب کر ابھر آئے موت سے گلے مل کر اپنی سخت جانی کے خود ہی ہم نگہباں ہیں ہم تو ٹھہرے دیوانے ہم تو ٹھہرے صحرائی اہل فہم و دانش کے چاک کیوں گریباں ہیں کب حساب مانگا تھا آپ کی جفاؤں کا کیوں جھکی جھکی نظریں کس لیے پشیماں ہیں آج تک ہے غم تازہ دوست سے بچھڑنے کا اب بھی آنکھیں روتی ہیں زخم دل فروزاں ہیں سب کے ہم رہے اپنے کون ہے مگر اپنا ڈھونڈھتے ہیں اپنوں کو ہم بھی کتنے ناداں ہیں طاہرہؔ زمانے کی کروٹوں کا کیا کہنا ہوں گے یہ بھی ویرانے آج جو گلستاں ہیں
bisvin sadi ke ham shaair-e-pareshaan hain
بے خبر ہوں ہوش کا عالم نہیں یہ بھی کچھ اس کی عنایت کم نہیں میرے ہونٹوں پر تبسم دیکھ کر کیوں سمجھتے ہو کہ دل میں غم نہیں شان غم اس میں نہیں آنسو بہیں قہقہے بھی آنسوؤں سے کم نہیں جل اٹھا ہے دل میں اک ایسا چراغ روشنی جس کی کبھی مدھم نہیں چشم شاعر چشم ہے نرگس نہیں اس کا حاصل خون ہے شبنم نہیں طاہرہؔ جس میں نہ ہو سوز دروں صرف اک حیوان ہے آدم نہیں
be-khabar huun hosh kaa aalam nahin
پہلی سی اب وہ شوخی گفتار بھی نہیں مدت سے ذوق نغمہ و اشعار بھی نہیں سونی پڑی ہے منزل دیوانگیٔ عشق کیا ہو گیا کہ کوئی سر دار بھی نہیں واعظ شراب نوشی کے بے حد خلاف ہیں مل جائے مفت کی تو کچھ انکار بھی نہیں وہ سامنے جو آئے تو نظریں نہ اٹھ سکیں اب مجھ میں جیسے طاقت دیدار بھی نہیں کب ہوگی ختم طاہرہؔ شام غم حیات اب تک نمود صبح کے آثار بھی نہیں
pahli si ab vo shokhi guftaar bhi nahin
خاموش ہیں خاموش مگر دیکھ رہے ہیں ہم دیکھنے والوں کی نظر دیکھ رہے ہیں تاریک فضاؤ میں بھی جگنو کوئی چمکا آج اپنی دعاؤں کا اثر دیکھ رہے ہیں کیا بات ہے کیا راز بنے کیا ہو گیا آخر کیوں آپ کو با دیدۂ تر دیکھ رہے ہیں خود موت سے ٹکرانے کا جن کو ہے سلیقہ مر کے بھی وہ اپنے کو امر دیکھ رہے ہیں دیکھا نہ ہمیں مڑ کے بھی اک بار کسی نے ہم شوق سے تا حد نظر دیکھ رہے ہیں کیا جانئے اس راہ سے کب ان کا گزر ہو مدت سے مگر راہ گزر دیکھ رہے ہیں
khaamosh hain khaamosh magar dekh rahe hain
صد رشک انجمن ہیں یہ تنہائیاں مری سورج مرا ستارے مرے کہکشاں مری مانا کہ قہقہے نہیں میرے نصیب میں سرمایۂ نشاط ہے آہ و فغاں مری ہر تلخ تجربے نے کہا ہنس کے مجھ سے یوں آئیں گی کام تیرے یہی تلخیاں مری رنگ بہار رنگ غزل رنگ خون دل ڈوبی ہر ایک رنگ میں ہے داستاں مری جھکتا نہیں یہ سر کسی سرکش کے سامنے پایندہ باد رفعت فکر جواں مری طوفان و انقلاب کے افسانے بن گئے الٹا اثر دکھا گئیں خاموشیاں مری جب طاہرہؔ ملے گا نہ نعم البدل مرا یاد آئیں گی زمانے کو تب خوبیاں مری
sad-rashk-e-anjuman hain ye tanhaaiyaan miri





