SHAWORDS
B

Betab Azimabadi

Betab Azimabadi

Betab Azimabadi

poet
5Shayari
12Ghazal

Popular Shayari

5 total

Ghazalغزل

See all 12
غزل · Ghazal

دل لیے اور دکھا دکھا کے لیے کی جفا اور مزے جفا کے لیے رند ہم ہیں تو پھر پیے گا کون کیا یہ اتری ہے پارسا کے لیے آتش ہجر اے معاذ اللہ ایک دوزخ ہے مبتلا کے لیے جتنے دل تھے بتوں نے چھین لیے ایک کعبہ بچا خدا کے لیے ہر حسیں پر نہ یوں مٹو بیتابؔ ایک کے ہو رہو خدا کے لیے

dil liye aur dikhaa dikhaa ke liye

1 views

غزل · Ghazal

کھٹک نے دل کی دیا زخم بے نشاں کا پتا نہ اس دہن میں فغاں تھی نہ تھا زباں کا پتا سر نیاز جھکانے کی خو تو پیدا کر جبین شوق لگا لے گی آستاں کا پتا ستم دبا نہ سکا آپ کے شہیدوں کو جفا مٹا نہ سکی خون بے کساں کا پتا رگ بریدہ پکارے گی نام قاتل کا کفن بتائے گا اس تیغ خوں چکاں کا پتا اسی قدر تو ہے سرمایۂ تجسس عقل کہ کچھ زمیں کی خبر ہے کچھ آسماں کا پتا دل تپاں تھا کہیں چشم خونفشاں تھی کہیں قدم قدم پہ ملا کوچۂ بتاں کا پتا اسیر دام محبت سے پوچھئے بیتابؔ کمند طرۂ مشکین دلستاں کا پتا

khaTak ne dil ki diyaa zakhm-e-be-nishaan kaa pataa

1 views

غزل · Ghazal

اثر نہ کم ہو کبھی نالۂ رسا تیرا رہے بڑھا ہوا ہر آن حوصلہ تیرا پڑھی ہے عارض و کاکل کی داستاں میں نے سنا ہے میں نے فسانہ ذرا ذرا تیرا اے اشک شوق تجھی سے ہے زندگی دل کی فزوں ہے چشمۂ حیواں سے مرتبہ تیرا تمام راہ ہے فیض قدم سے نورانی ہے ماہتاب زمیں پر کہ نقش پا تیرا قدم کو تیز کر اس سے زیادہ اے بیتابؔ نکل گیا ہے بہت دور قافلہ تیرا

asar na kam ho kabhi naala-e-rasaa teraa

1 views

غزل · Ghazal

ہجر میں غم کش کوئی مجھ سا نہیں آج تک میں نے اسے دیکھا نہیں کہنے والے نے تو سب کچھ کہہ دیا سننے والا ایک بھی سمجھا نہیں ماہ میں کس کو سناؤں حال زار خواب میں بھی وہ نظر آیا نہیں جب نظر ہو منزل مقصود پر روک سکتی راہ کی ایذا نہیں آرزو ہی اس کی دل میں رہ گئی ہاتھ دامن تک کبھی پہنچا نہیں بزم ساقی میں ہوئے وہ سرفراز جام جن کے ہاتھ میں چھلکا نہیں وعدۂ فردا کی پھر تفصیل کر کیا کہا تو نے کوئی سمجھا نہیں ہے غضب پھر صور نے چونکا دیا نیند بھر کر میں ابھی سویا نہیں اپنا سا منہ لے کے شانہ رہ گیا پیچ گیسو کا کوئی سلجھا نہیں کسب ہر دم کچھ نہ کچھ کرتی ہے روح جیسا کل تھا آج میں ویسا نہیں جو نہیں مست شراب بے خودی اس نے لطف زندگی پایا نہیں جیتے جی اپنے کو کر دیتا تھا خاک موت سے مرنا کوئی مرنا نہیں یاد اے بیتابؔ رکھنا یار کو پار ہے بیڑا اگر بھولا نہیں

hijr mein gham-kash koi mujh saa nahin

1 views

غزل · Ghazal

ڈوب جانے کے سوا عشق میں چارا ہی نہیں اس سمندر کا کسی سمت کنارا ہی نہیں تلخیٔ زخم جگر جس کو گوارا ہی نہیں اس کو ناوک نگہ ناز نے مارا ہی نہیں سنتے آتے ہیں کہ اک روز قیامت ہوگی آپ نے زلف پریشاں کو سنوارا ہی نہیں پردۂ دل سے صدا یار کی آ ہی جاتی ہم تذبذب میں رہے اس کو پکارا ہی نہیں باز ہم ایسے تصور سے کہ اب تک جس نے ایک نقشہ بھی ترا ٹھیک اتارا ہی نہیں پھر شکایت ہے مرے دل کے تڑپنے کی عبث تاک کر تیر کوئی آپ نے مارا ہی نہیں کیا ہے دریائے محبت کے ادھر کیا معلوم تیری تلوار نے اس گھاٹ اتارا ہی نہیں ان کی محفل کی عجب بات ہے کیا عرض کریں تذکرہ سب کا ہے اک ذکر ہمارا ہی نہیں مل گئی اس کی نظر میری نظر سے آخر اب تو دینا ہی پڑا دل کوئی چارا ہی نہیں اور بھی دیدۂ دل رکھتے ہیں پرخوں ہم سے کچھ ترے ہجر میں یہ رنگ ہمارا ہی نہیں پارسائی میں ہے فرد اس کی حیا اے بیتابؔ شوق آلود نظر اس کو گوارا ہی نہیں

Duub jaane ke sivaa ishq mein chaaraa hi nahin

غزل · Ghazal

نہ میرے دل نے نہ ادراک نکتہ جو نے کیا خدا گواہ ہے جو کچھ کیا وہ تو نے کیا فریفتہ مجھے عالم کے رنگ و بو نے کیا بڑا ستم ترے ملنے کی آرزو نے کیا لحاظ دامن قاتل مرے لہو نے کیا خیال شرط ادب خود رگ گلو نے کیا خود اپنی زیست کا پردہ تھا جب الگ یہ ہوا حجاب دور جمال رخ نکو نے کیا بہار آئی تو کیا ناشگفتہ خاطر کو فسردہ اور بھی اس موسم نمو نے کیا حریم قدس میں پہنچائے گی شہادت خود کہ میری روح کو طاہر مرے لہو نے کیا تمہاری چارہ گری کو سلام ہے میرا کہ ایک زخم کو سو زخم اک رفو نے کیا وہ کیوں کر آ کے ملے خود یہ حال مجھ سے نہ پوچھ برائے مقصد دل ترک آرزو نے کیا جو زاہدوں نے نہ باطن کو دھو کے صاف کیا تو کوئی کام نہ ظاہر کی شست و شو نے کیا جز اپنے دل کے نہ پایا کسی نے اس کا نشاں ہزار عقل کو آوارہ جستجو نے کیا بڑی امید بندھی بے بسوں کو محشر میں عجب کرشمہ ترے طرز گفتگو نے کیا کہوں گا یار سے میں صاف صاف حشر کے دن کہ مجھ سے ہجر میں جو کچھ ہوا وہ تو نے کیا بجا رہے نہ مرے عقل و ہوش اے بیتابؔ غضب کا مست مجھے پہلے ہی سبو نے کیا

na mere dil ne na idraak nukta-ju ne kiyaa

Similar Poets