har samt hai viraani si viraani kaa aalam
ab ghar saa nazar aane lagaa hai miraa ghar bhi

Bismil Aghai
Bismil Aghai
Bismil Aghai
Popular Shayari
6 totalhoti rahi aankhon se jo yuun khuun ki baarish
dil khatm na ho jaae jigar khatm na ho jaae
har nashtar-e-tafriq ne marham kaa kiyaa kaam
toDe gae lekin mire ahbaab na TuuTe
ghar mein bhi nazar aaeinge andaaz-e-bayaabaan
jab tak miri vahshat kaa asar khatm na ho jaae
phir gardish-e-dauraan se ulajhnaa nahin mushkil
ghurbat mein jo pindaar-e-tab-o-taab na TuuTe
simTaa tiraa khayaal to dil mein samaa gayaa
phailaa to is qadar ki samundar lagaa mujhe
Ghazalغزل
کہیں بھی حد نظر تک نظر نہیں آئے ہماری سمت وہ آئے مگر نہیں آئے نکل پڑے تری دھن میں ترے اشارے پر وگرنہ خواب تو ہم کو نظر نہیں آئے ہمیں بلائے گئے دار ہو کہ مقتل ہو ترے پیام بہ نام دگر نہیں آئے افق کے پار بھی چھپنا محال تھا تیرا ہوئی یہ خیر کہ ہم لوگ ادھر نہیں آئے ہمیں چمن کی جدائی نہ کیوں گراں گزرے ہم آبروئے چمن بیچ کر نہیں آئے میں ان سے دور بھی رہ کر نظر کی زد میں رہا وہ میرے پاس رہے اور نظر نہیں آئے بہت دنوں سے ہے سونی رہ وفا بسملؔ بہت دنوں سے مسافر نظر نہیں آئے
kahin bhi hadd-e-nazar tak nazar nahin aae
ہر اک قدم پہ ماتم مہر و وفا ہوا اکثر یہ سوچتا ہوں زمانے کو کیا ہوا وہ سامنے نہیں ہیں مگر دم بخود ہوں میں کیا بات کر سکوں گا اگر سامنا ہوا مایوسیاں ہجوم تمنا تمہاری یاد اک دل ہے وہ بھی کتنے غموں سے بھرا ہوا راہ جنوں میں ایسا بھی اک موڑ تھا جہاں خود میرا نقش پا ہی مرا رہنما ہوا کلیوں میں کہکشاں میں ستاروں میں پھول میں جاؤں کہاں کہاں میں تمہیں ڈھونڈھتا ہوا اچھا کلام اچھا ترنم حسیں خیال سب کچھ ہے میرے پاس خدا کا دیا ہوا بسملؔ مری مثال کچھ اس کے سوا نہیں آندھی میں جیسے ایک دیا ہو جلا ہوا
har ik qadam pe maatam-e-mehr-o-vafaa huaa
زندگی بھر کی دعاؤں کا صلہ ہوتا ہے اک وہ سجدہ جو ترے در پہ ادا ہوتا ہے دوستو پرسش احوال سے کیا ہوتا ہے اس تسلی سے تو غم اور سوا ہوتا ہے جو ہلاک روش خود نگری ہو جائیں ان کو آئینہ دکھانے سے بھی کیا ہوتا ہے پھول خود آتش جذبات سے جل جاتے ہیں ورنہ تبدیلی حالات سے کیا ہوتا ہے کوئی منزل ہو مگر زندۂ جاوید ہے عشق آج بھی تذکرۂ اہل وفا ہوتا ہے رہبر کور نظر کو یہ بتا دو بسملؔ گرد منزل ہی میں منزل کا پتہ ہوتا ہے
zindagi bhar ki du'aaon kaa sila hotaa hai
زیب گلشن نہ بنے رونق ویرانہ بنے کتنے ہشیار تھے جو عشق میں دیوانہ بنے جرأت دید اگر میری تماشہ نہ بنے در حقیقت مرا افسانہ پھر افسانہ بنے کچھ پتنگوں ہی پہ موقوف نہیں جان وفا جو بھی آ جائے تری بزم میں پروانہ بنے کتنے دلچسپ ہیں اس شوخ نظر کے انداز کوئی دیوانہ نہ بنتا ہو تو دیوانہ بنے دل خلوص غم الفت سے ہے خالی ورنہ عشق افسانہ بنا کر بھی نہ افسانہ بنے دل کی دنیا کی الٹ پھیر الٰہی توبہ جتنا آباد کیا جائے یہ ویرانہ بنے کاش اک ربط رہے ان کی نظر سے بسملؔ کبھی آئینہ بنے دل کبھی پیمانہ بنے
zeb-e-gulshan na bane raunaq-e-viraana bane
سب عمر تو جاری نہیں رہتا ہے سفر بھی آتا ہے کسی دن تو بشر لوٹ کے گھر بھی منزل تو بڑی شے نہ ملی راہ گزر بھی باندھا تھا بڑے شوق سے کیا رخت سفر بھی اندر سے پھپھوندے ہوئے دیوار بھی در بھی دیکھے ہیں بڑے لوگوں کے ہم نے بڑے گھر بھی ہر سمت ہے ویرانی سی ویرانی کا عالم اب گھر سا نظر آنے لگا ہے مرا گھر بھی تنہائی پسند اتنا بھی مت بن یہ سمجھ لے تنہائی میں ہے چین تو تنہائی میں ڈر بھی پاگل ہے پتا پوچھ رہا ہے مرے گھر کا کیا خانہ بدوشوں کا ہوا کرتا ہے گھر بھی
sab umr to jaari nahin rahtaa hai safar bhi
ظلمت کے ڈر سے بھاگنے والے خبر بھی ہے تاریک شب کے بعد طلوع سحر بھی ہے کل تک تو خلوتوں میں مرے ساتھ ساتھ تھا آج اس کو اعتراض ملاقات پر بھی ہے منزل سے گمرہی کا اب احساس بھی ہے کفر اب تو ترا خیال مرا ہم سفر بھی ہے بد قسمتی کی اس سے بڑی اور کیا مثال رہبر بھی ساتھ ساتھ ہے لٹنے کا ڈر بھی ہے کل تک مرے عزیز و اقارب اداس تھے لیکن اداس آج مرا چارہ گر بھی ہے موضوع بحث غیر کی تنقید ہی نہیں تھوڑا سا رنج مجھ کو تری بات پر بھی ہے گر میں ہوں مضطرب تو انہیں بھی سکوں نہیں تھوڑی خلش ادھر ہے تو تھوڑی ادھر بھی ہے
zulmat ke Dar se bhaagne vaale khabar bhi hai





