SHAWORDS
Damodar Thakur Zaki

Damodar Thakur Zaki

Damodar Thakur Zaki

Damodar Thakur Zaki

poet
2Shayari
7Ghazal

Popular Shayari

2 total

Ghazalغزل

See all 7
غزل · Ghazal

عالم سجدہ ہے میرا ایک عالم نور کا سجدہ گہ پر میری دھوکا ہو رہا ہے طور کا ایک عالم ہم نوا ہے صاحب مقدور کا ساتھ دیتا ہے کہاں کوئی کسی مجبور کا شدت احساس تنہائی کی ہیں ہمدردیاں درد بڑھ جاتا ہے اکثر رات کو رنجور کا تیر نے ناپی ہیں شاید زخم کی گہرائیاں علم بے چارے کو کیا ہے صدمۂ مستور کا شمع روشن ہے کہاں اس کا پتہ چلتا نہیں پر نظر کو ہے یقیں موجودگیٔ نور کا ہیں کبھی نظریں تمنا پر کبھی امید پر یعنی حسرت‌ ناک عالم ہے دل مجبور کا تجھ میں اور تیرے تصور میں ذرا سا فرق ہے ایک منظر پاس کا ہے ایک منظر دور کا سرفرازی و نوازش کا سنا ہے صرف نام اے ذکیؔ ان سے تو رشتہ بھی نہیں ہے دور کا

aalam-e-sajda hai meraa ek aalam nuur kaa

غزل · Ghazal

نظر بن کر تجلی جلوہ گر ہے جہاں بے ساختہ سجدے میں سر ہے یہ کس سے کھیل اے دل کچھ خبر ہے نظر ہے یہ حسینوں کی نظر ہے وہ آتے ہیں تو آئیں ان کا گھر ہے زہے تقدیر کیا اچھی خبر ہے کسی کا ہر نفس دل میں گزر ہے مگر آنکھوں کو کیا اس کی خبر ہے ذرا بھی سہہ نہیں سکتے جسے تم وہ کیفیت ہماری عمر بھر ہے پھر آگے کیا ہوا ساقی ہی جانے نظر مجھ پر پڑی اتنی خبر ہے قیامت میں نشانی زندگی کی میری تر دامنی ہے چشم تر ہے وہ کیا جانے کسی کے دل کی حالت جو اپنے حال ہی سے بے خبر ہے قدم اٹھتے نہیں دل بیٹھتا ہے خدا جانے یہ کس کی رہ گزر ہے وہ گیسو کھول کر آئے چمن میں صبا لائی ہے اور اڑتی خبر ہے جدا ہیں اے ذکیؔ وہ جینے والے مگر جینے کا الزام اپنے سر ہے

nazar ban kar tajalli jalva-gar hai

غزل · Ghazal

وہ سامنے ہوں اور نظر کو خبر نہ ہو برباد اس قدر بھی شعور نظر نہ ہو تجھ سے علاج اگر نہ ہو اے چارہ گر نہ ہو راز غم مریض مگر در بدر نہ ہو آنکھیں بچھی ہوئی ہیں بہت دور دور تک ممکن نہیں کہ آپ کی یہ رہ گزر نہ ہو مجھ پر برس پڑے نہ کہیں برہمیٔ زلف جو تیرے سر بلا ہے مرے دل کے سر نہ ہو تجھ سے ہی میرے جذبۂ الفت میں جان ہے اے زندگی حیات تری مختصر نہ ہو ہے وسعت نگاہ کو کچھ اور جستجو اے حد کائنات تو حد نظر نہ ہو راہ وفا کا لطف بھی کچھ چل کے دیکھیے اس رہ گزر پہ آپ کا شاید گزر نہ ہو جذبات دل کو لاکھ چھپاتے ہو تم مگر اس بزم میں کہیں کوئی اہل نظر نہ ہو کیا ہو گیا ہے تجھ کو خدا جانے اے ذکیؔ دل میں کوئی ہو اور نظر کو خبر نہ ہو

vo saamne hon aur nazar ko khabar na ho

غزل · Ghazal

بلند زیست کا اپنی وقار ہو نہ سکا تری نظر میں مرا پیار پیار ہو نہ سکا زمانہ زندگی کا سازگار ہو نہ سکا جئے ضرور مگر اعتبار ہو نہ سکا ترا وقار مکمل وقار ہو نہ سکا کسی سے تجھ کو زمانے میں پیار ہو نہ سکا زمانہ سارا ہوا ہے تمہارا محرم راز نہ ہو سکا تو مرا اعتبار ہو نہ سکا حیات گزری زمانے کی غم گساری میں مگر کوئی بھی مرا غم گسار ہو نہ سکا

buland ziist kaa apni vaqaar ho na sakaa

غزل · Ghazal

لے لیا وعدہ ان کے آنے کا اب مقدر غریب خانے کا کھل گیا راز مسکرانے کا تم کو نکتہ ملا بہانے کا روز ہی انقلاب آتے ہیں کیا بھروسہ کسی زمانے کا ایک صیاد ایک میں اک برق سب کو ارماں ہے آشیانے کا دل میں بھی کچھ ہے اے جبین نیاز تو تو ہے نقش آستانے کا تم تو ہونے لگے ہو سنجیدہ اب میں آنسو نہیں بہانے کا جانیں انجام برق یا صیاد ہے تو آغاز آشیانے کا قسمت عشق یا ہو دولت حسن کس کو شکوہ نہیں زمانے کا اشک رنگیں مرا فسانہ ہے زندگی نام ہے فسانے کا یاس ہے اک ہرا بھرا بوٹا میرے دل کے نگار خانے کا خوف صیاد سے لرزتا ہوں دل ہوں میں اپنے آشیانے کا زندگی ہارنے لگی ہمت اب رہا کیا ہے آزمانے کا گل کی خاطر چمن میں بستے ہیں اور بہانہ ہے آشیانے کا محفل غیر میں ذرا بچ کر میں کہیں تم کو یاد آنے کا ساتھ توبہ لگی ہوئی تھی ذکیؔ اور کھلا در شراب خانے کا

le liyaa vaada un ke aane kaa

غزل · Ghazal

نقش قدم ملے جو ترے چل کے سر سے ہم اکثر گزر گئے ہیں تری رہ گزر سے ہم ہیں بے نیاز تندہیٔ چارہ گر سے ہم بے خود رہے عنایت درد جگر سے ہم سمجھے جہاں کو اپنا بڑے کر و فر سے ہم دیکھے گئے ہمیشہ پرائی نظر سے ہم نقش قدم سے چمٹے تری رہ گزر سے ہم پر تیری دید کو رہے ترسے کے ترسے ہم ہم دیکھتے ہیں تم کو ہماری نگاہ سے غیروں کو دیکھتے ہیں تمہاری نظر سے ہم محفوظ کر لے اپنے لئے غم گساریاں صیاد با خبر ہیں ترے خیر و شر سے ہم تم کو سمجھ کے تم ستم اپنے پہ ڈھا لئے کس درجے بے خبر ہیں ہماری خبر سے ہم اللہ شیخ جی کو تو جنت کرے نصیب وابستہ صبح و شام رہیں ان کے در سے ہم لاتے نہ تیرے عشق میں شکوے زبان پر آپ اپنے کو سمجھتے اگر پیشتر سے ہم ہم تیرے ہو کے بزم میں تیری نہ رہ سکے محفل تھی تیری آنکھ سی تیری نظر سے ہم یا پار ہوں گے چیر کے یا ڈوب جائیں گے ساحل پہ رک نہ جائیں گے طوفاں کے ڈر سے ہم نکلی ہوئی دعائیں ابھی جستجو میں ہیں شاید بعید تر ہیں مقام اثر سے ہم نظروں سے سب کی گر گئے پروا نہ تھی ہمیں لیکن غضب ہے گرتے ہیں اپنی نظر سے ہم کیا حشر ہونے والا ہے دیکھیں گے اے ذکیؔ بیٹھے ہیں دل لگا کے کسی فتنہ گر سے ہم

naqsh-e-qadam mile jo tire chal ke sar se ham

Similar Poets