SHAWORDS
Dilkash Sagari

Dilkash Sagari

Dilkash Sagari

Dilkash Sagari

poet
2Sher
2Shayari
13Ghazal

Sherشعر

Popular Sher & Shayari

4 total

Ghazalغزل

See all 13
غزل · Ghazal

kitne mele hain aasmaanon mein

کتنے میلے ہیں آسمانوں میں اور ہم بند ہیں مکانوں میں نسل آدم نکل کے غاروں سے آ گئی ہے کتاب خانوں میں لوگ کرتے ہیں انتظار مرا تیر کھینچے ہوئے کمانوں میں اژدہے ہیں بہ صورت اشیا سر اٹھائے ہوئے دکانوں میں ہم وہ صحرا نورد ہیں جن کا نجد پھیلا ہے آسمانوں میں ساعتوں سے گزر رہی ہے رات آگ روشن رکھو مکانوں میں

غزل · Ghazal

khvaahish-e-be-naam se vaaqif nahin

خواہش بے نام سے واقف نہیں اک نشیلی شام سے واقف نہیں بہہ رہا ہوں میں تو دریا کی طرح فرق خاص و عام سے واقف نہیں فن ترے شعروں میں کیا آئے کہ تو حافظ و خیام سے واقف نہیں ہاں وہی دلکشؔ وہی بے آبرو کون اس بدنام سے واقف نہیں

غزل · Ghazal

jo bujh chuke hain vo lamhe ujaaltaa kyon hai

جو بجھ چکے ہیں وہ لمحے اجالتا کیوں ہے مرے بدن پہ خراشیں بھی ڈالتا کیوں ہے میں معترض تو نہیں ہوں مگر یہ سمجھا دے جو مارنا ہے تو دنیا کو پالتا کیوں ہے تجھے تلاش ہے جس کی وہ تیری ذات میں ہے یہ کوہ و بن یہ سمندر کھنگالتا کیوں ہے نہیں ہے وہ ترا کوئی تو پھر ضرورت کیا تو اس کے حسن کو شعروں میں ڈھالتا کیوں ہے اگر نہیں ہوں میں مانند مہر و مہ تو مجھے زمیں سے کوئی فلک پر اچھالتا کیوں ہے شکست و مرگ میں جب طرز آسماں ہے تو پھر تو اپنے ٹوٹے ہوئے پر سنبھالتا کیوں ہے نہ میں رسول نہ ہادی نہ پیشوا نہ امام مجھے تو میرے وطن سے نکالتا کیوں ہے

غزل · Ghazal

hai lahu shahidon kaa naqsh-e-jaavedaan yaaro

ہے لہو شہیدوں کا نقش جاوداں یارو مقتلوں میں ہوتی ہے آج بھی اذاں یارو سیل وقت ہوں مجھ کو کون روک سکتا ہے چھین لو قلم چاہے کاٹ لو زباں یارو بال و پر کی محرومی اور خوں رلاتی ہے جب بھی دیکھ لیتا ہوں سوئے آسماں یارو اس نگاہ باہم کو اور کس سے دوں نسبت نوک بے سناں یارو تیر بے کماں یارو ان کی بزم رنگیں کا اہل تو نہ تھا لیکن کام آ گئی میری شوخیٔ بیاں یارو یہ بھی اپنے محور کی سمت لوٹتا ہوگا بے سبب نہیں اٹھتا آگ سے دھواں یارو اس صدی نے بخشا ہے مجھ کو ایک نیا لہجہ مجھ سے چھٹ نہیں سکتی جدت بیاں یارو

غزل · Ghazal

phir gulaab ki shaakhein saj gaiin qarinon se

پھر گلاب کی شاخیں سج گئیں قرینوں سے آپ بھی اتر آئیں چاندنی کے زینوں سے اپنی پاک بازی کا پھر ثبوت دے لینا تم لہو تو دھو ڈالو پہلے آستینوں سے دشمنوں کے خیموں میں کھل کے جائیے صاحب ہاں مگر بچے رہئے خوش ادا حسینوں سے ان کے عارض و لب کو چاند سے نہ دو تشبیہ پتھروں کو کیا نسبت قیمتی نگینوں سے کوئی ان کو جا کر یہ التماس پہنچا دے آپ کو نہیں دیکھا ڈیڑھ دو مہینوں سے خوش لباس موجوں نے پیرہن بدل ڈالے آپ بھی ذرا لنگر کھولیے سفینوں سے ماسوائے محرومی اور کچھ نہیں پایا عاقلوں کی بستی میں مل لئے ذہینوں سے

غزل · Ghazal

dosto tum ne bhi dekhi hai vo surat vo shabih

دوستو تم نے بھی دیکھی ہے وہ صورت وہ شبیہ جو نگاہوں میں سما جاتی ہے منظر کی طرح مجھ کو اک قطرۂ بے فیض سمجھ کے نہ گزر پھیل جاؤں گا کسی روز سمندر کی طرح شہر آشوب میں چیزوں کا کوئی قحط نہیں زخم ملتے ہیں دکانوں میں گل تر کی طرح اپنے ہاتھوں کی لکیروں میں نہیں ہے شاید ہائے وہ زلف جو کھل جائے مقدر کی طرح مجھ سے اتراؤ نہ یارو کہ مجھے ہے معلوم آپ کا گھر کہ شکستہ ہے مرے گھر کی طرح دل نے کچھ خواب تو دیکھے تھے مگر کیا کیجے وہ بھی گم ہو گئے تالاب میں پتھر کی طرح

Similar Poets