aaj bhi buri kyaa hai kal bhi ye buri kyaa thi
is kaa naam duniyaa hai ye badalti rahti hai

Ejaz Siddiqi
Ejaz Siddiqi
Ejaz Siddiqi
Popular Shayari
3 totalaur zikr kyaa kiije apne dil ki haalat kaa
kuchh bigaDti rahti hai kuchh sambhalti rahti hai
duniyaa sabab-e-shorish-e-gham puchh rahi hai
ik mohr-e-khamoshi hai ki honTon pe lagi hai
Ghazalغزل
مل سکے گی اب بھی داد آبلہ پائی تو کیا فاصلے کم ہو گئے منزل قریب آئی تو کیا ہے وہی جبر اسیری اور وہی غم کا قفس دل پہ بن آئی تو کیا یہ روح گھبرائی تو کیا اپنی بے تابئ دل کا خود تماشا بن گئے آپ کی محفل کے بنتے ہم تماشائی تو کیا بات تو جب ہے کہ سارا گلستاں ہنسنے لگے فصل گل میں چند پھولوں کی ہنسی آئی تو کیا لاؤ ان بے کیفیوں ہی سے نکالیں راہ کیف وقت اب لے گا کوئی پر کیف انگڑائی تو کیا کم نگاہی نے اسے کچھ اور گہرا کر دیا وہ چھپاتے ہی رہیں رنگ شناسائی تو کیا پھر ذرا سی دیر میں چونکائے گا خواب سحر آخر شب جاگنے کے بعد نیند آئی تو کیا بیڑیاں وہم تعلق کی نئی پہنا گئے دوست آ کر کاٹتے زنجیر تنہائی تو کیا شورش افکار سے اعجازؔ داماندہ سہی چھن سکے گی پھر بھی فکر و فن کی رعنائی تو کیا
mil sakegi ab bhi daad-e-aabla-paai to kyaa
نظام فکر نے بدلا ہی تھا سوال کا رنگ جھلک اٹھا کئی چہروں سے انفعال کا رنگ نہ گل کدوں کو میسر نہ چاند تاروں کو ترے وصال کی خوشبو ترے جمال کا رنگ ذرا سی دیر کو چہرے دمک تو جاتے ہیں خوشی کا رنگ ہو یا ہو غم و ملال کا رنگ زمانہ اپنی کہانی سنا رہا تھا ہمیں ابھر گیا مگر آغاز میں مآل کا رنگ اسیر وقت ہے تو میں ہوں وقت سے آزاد ترے عروج سے اچھا مرے زوال کا رنگ بسان تختۂ گل میری فکر ہے آزاد مثال قوس قزح ہے مرے خیال کا رنگ
nizaam-e-fikr ne badlaa hi thaa savaal kaa rang
وحشت آثار و سکوں سوز نظاروں کے سوا اور سب کچھ ہے گلستاں میں بہاروں کے سوا اب نہ بے باک نگاہی ہے نہ گستاخ لبی چند سہمے ہوئے مبہم سے اشاروں کے سوا ساقیا کوئی نہیں مجرم مے خانہ یہاں تیرے کم ظرف و نظر بادہ گساروں کے سوا حسرتیں ان میں ابھی دفن ہیں انسانوں کی نام کیا دیجیے سینوں کو مزاروں کے سوا دور تک کوئی نہیں ہے شجر سایہ دار چند سوکھے ہوئے پیڑوں کی قطاروں کے سوا آپ کہتے ہیں کہ گلشن میں ہے ارزانئ گل اپنے دامن میں تو کچھ بھی نہیں خاروں کے سوا منزل شوق میں اک اک کو دیا اذن سفر کوئی بھی تو نہ ملا جادہ شماروں کے سوا زور طوفاں تو بہ ہر حال ہے زور طوفاں کس سے ٹکرائے گی موج اپنی کناروں کے سوا کون اس دور کے انساں کا مقدر بنتا چند آوارہ و منحوس ستاروں کے سوا کتنے قدموں کی خراشوں سے لہو رستا ہے کس کو معلوم ہے یہ راہ گزاروں کے سوا بات کرتے ہیں وہ اب ایسی زباں میں اعجازؔ کوئی سمجھے نہ جسے نامہ نگاروں کے سوا
vahshat-e-aasaar-o-sukun soz nazaaron ke sivaa
دنیا سبب شورش غم پوچھ رہی ہے اک مہر خموشی ہے کہ ہونٹوں پہ لگی ہے کچھ اور زیادہ اثر تشنہ لبی ہے جب سے تری آنکھوں سے چھلکتی ہوئی پی ہے اس جبر کا اے اہل جہاں نام کوئی ہے کلفت میں بھی آرام ہے غم میں بھی خوشی ہے ارباب چمن اپنی بہاروں سے یہ پوچھیں دامان گل و غنچہ میں کیوں آگ لگی ہے اے ہم سفرو ڈھونڈھ لو آسانی منزل اپنا تو یہ دل خوگر مشکل طلبی ہے اے موجۂ طوفاں ترا دل کوئی بھی توڑے ساحل نے سفینے کو اک آواز تو دی ہے
duniyaa sabab-e-shorish-e-gham puchh rahi hai
ذروں کا مہر و ماہ سے یارانہ چاہئے بے نوریوں کو نور سے چمکانا چاہئے خوابوں کی ناؤ اور سمندر کا مد و جزر ٹکرا کے پاش پاش اسے ہو جانا چاہئے نشتر زنی تو شیوۂ ارباب فن نہیں ان دل جلوں کو بات یہ سمجھانا چاہئے ہو رقص زندگی کے جہنم کے ارد گرد پروانہ بن کے کس لیے جل جانا چاہئے کھودیں پہاڑ اور بر آمد ہو صرف گھاس مصرعوں کو اس قدر بھی نہ الجھانا چاہئے فن کار اور فن کے تقاضوں سے نا بلد احساس کمتری ہے تو لڑ جانا چاہئے نام حسین لے کے حقائق سے روکشی ایسوں کو قبل موت ہی مر جانا چاہئے
zarron kaa mehr-o-maah se yaaraana chaahiye
نور کی کرن اس سے خود نکلتی رہتی ہے وقت کٹتا رہتا ہے رات ڈھلتی رہتی ہے اور ذکر کیا کیجے اپنے دل کی حالت کا کچھ بگڑتی رہتی ہے کچھ سنبھلتی رہتی ہے ذہن ابھار دیتا ہے نقش حال و ماضی کے ان دنوں طبیعت کچھ یوں بہلتی رہتی ہے تہ نشین موجیں تو پر سکون رہتی ہیں اور سطح دریا کی موج اچھلتی رہتی ہیں زندگی عبارت ہے زندگی کے موڑوں سے پیچ و خم ہوں کتنے ہی راہ چلتی رہتی ہے چاہے اپنے غم کی ہو یا غم زمانہ کی بات تو بہر صورت کچھ نکلتی رہتی ہے زندگی ہے نام اس کا تازگی ہے کام اس کا ایک موج خوں دل سے جو ابلتی رہتی ہے کیف بھی ہے مستی بھی زہر بھی ہے امرت بھی وہ جو جام ساقی سے روز ڈھلتی رہتی ہے خود وجودیت ہو یہ یا ہو اس کی تنہائی روح کو مگر کوئی شے مسلتی رہتی ہے آج بھی بری کیا ہے کل بھی یہ بری کیا تھی اس کا نام دنیا ہے یہ بدلتی رہتی ہے ہوتی ہے وہ شعروں میں منعکس کبھی اعجازؔ مدتوں گھٹن سی جو دل میں پلتی رہتی ہے
nuur ki kiran us se khud nikalti rahti hai





