kis se ab aarzu-e-vasl karein
is kharaabe mein koi mard kahaan

Fahmida Riaz
Fahmida Riaz
Fahmida Riaz
Popular Shayari
4 totalmiri bebasi mujh pe zaahir hai lekin
tumhaari tamannaa tumhaari tamannaa
chalte chalte kuchh tham jaanaa phir bojhal qadmon se chalnaa
ye kaisi kasak si baaqi hai jab paanv mein vo kaanTaa bhi nahin
jo mujh mein chhupaa meraa galaa ghonT rahaa hai
yaa vo koi iblis hai yaa meraa khudaa hai
Ghazalغزل
یہ کس کے آنسوؤں نے اس نقش کو مٹایا جو میرے لوح دل پر تو نے کبھی بنایا تھا دل جب اس پہ مائل تھا شوق سخت مشکل ترغیب نے اسے بھی آسان کر دکھایا اک گرد باد میں تو اوجھل ہوا نظر سے اس دشت بے ثمر سے جز خاک کچھ نہ پایا اے چوب خشک صحرا وہ باد شوق کیا تھی میری طرح برہنہ جس نے تجھے بنایا پھر ہم ہیں نیم شب ہے اندیشۂ عبث ہے وہ واہمہ کہ جس سے تیرا یقین آیا
ye kis ke aansuon ne us naqsh ko miTaayaa
چار سو ہے بڑی وحشت کا سماں کسی آسیب کا سایہ ہے یہاں کوئی آواز سی ہے مرثیہ خواں شہر کا شہر بنا گورستاں ایک مخلوق جو بستی ہے یہاں جس پہ انساں کا گزرتا ہے گماں خود تو ساکت ہے مثال تصویر جنبش غیر سے ہے رقص کناں کوئی چہرہ نہیں جز زیر نقاب نہ کوئی جسم ہے جز بے دل و جاں علما ہیں دشمن فہم و تحقیق کودنی شیوۂ دانش منداں شاعر قوم پہ بن آئی ہے کذب کیسے ہو تصوف میں نہاں لب ہیں مصروف قصیدہ گوئی اور آنکھوں میں ہے ذلت عریاں سبز خط عاقبت و دیں کے اسیر پارسا خوش تن و نو خیز جواں یہ زن نغمہ گر و عشق شعار یاس و حسرت سے ہوئی ہے حیراں کس سے اب آرزوئے وصل کریں اس خرابے میں کوئی مرد کہاں
chaar-su hai baDi vahshat kaa samaan
کبھی دھنک سی اترتی تھی ان نگاہوں میں وہ شوخ رنگ بھی دھیمے پڑے ہواؤں میں میں تیز گام چلی جا رہی تھی اس کی سمت کشش عجیب تھی اس دشت کی صداؤں میں وہ اک صدا جو فریب صدا سے بھی کم ہے نہ ڈوب جائے کہیں تند رو ہواؤں میں سکوت شام ہے اور میں ہوں گوش بر آواز کہ ایک وعدے کا افسوں سا ہے فضاؤں میں مری طرح یوں ہی گم کردہ راہ چھوڑے گی تم اپنی بانہہ نہ دینا ہوا کی بانہوں میں نقوش پاؤں کے لکھتے ہیں منزل نا یافت مرا سفر تو ہے تحریر میری راہوں میں
kabhi dhanak si utarti thi un nigaahon mein
مدت سے یہ عالم ہے دل کا ہنستا بھی نہیں روتا بھی نہیں ماضی بھی کبھی دل میں نہ چبھا آئندہ کا سوچا بھی نہیں وہ میرے ہونٹ پہ لکھا ہے جو حرف مکمل ہو نہ سکا وہ میری آنکھ میں بستا ہے جو خواب کبھی دیکھا بھی نہیں چلتے چلتے کچھ تھم جانا پھر بوجھل قدموں سے چلنا یہ کیسی کسک سی باقی ہے جب پاؤں میں وہ کانٹا بھی نہیں دھندلائی ہوئی شاموں میں کوئی پرچھائیں سی پھرتی رہتی ہے میں آہٹ سنتی ہوں جس کی وہ وہم نہیں سایہ بھی نہیں تزئین لب و گیسو کیسی پندار کا شیشہ ٹوٹ گیا تھی جس کے لئے سب آرائش اس نے تو ہمیں دیکھا بھی نہیں
muddat se ye aalam hai dil kaa hanstaa bhi nahin rotaa bhi nahin
پتھر سے وصال مانگتی ہوں میں آدمیوں سے کٹ گئی ہوں شاید پاؤں سراغ الفت مٹھی میں خاک بھر رہی ہوں ہر لمس ہے جب تپش سے عاری کسی آنچ سے یوں پگھل رہی ہوں وہ خواہش بوسہ بھی نہیں اب حیرت سے ہونٹ کاٹتی ہوں اک طفلک جستجو ہوں شاید میں اپنے بدن سے کھیلتی ہوں اب طبع کسی پہ کیوں ہو راغب انسانوں کو برت چکی ہوں
patthar se visaal maangti huun
جو مجھ میں چھپا میرا گلا گھونٹ رہا ہے یا وہ کوئی ابلیس ہے یا میرا خدا ہے جب سر میں نہیں عشق تو چہرے پہ چمک ہے یہ نخل خزاں آئی تو شاداب ہوا ہے کیا میرا زیاں ہے جو مقابل ترے آ جاؤں یہ امر تو معلوم کہ تو مجھ سے بڑا ہے میں بندہ و ناچار کہ سیراب نہ ہو پاؤں اے ظاہر و موجود مرا جسم دعا ہے ہاں اس کے تعاقب سے مرے دل میں ہے انکار وہ شخص کسی کو نہ ملے گا نہ ملا ہے کیوں نور ابد دل میں گزر کر نہیں پاتا سینے کی سیاہی سے نیا حرف لکھا ہے
jo mujh mein chhupaa meraa galaa ghonT rahaa hai





