SHAWORDS
Farooq Shamim

Farooq Shamim

Farooq Shamim

Farooq Shamim

poet
7Sher
7Shayari
6Ghazal

Sherشعر

See all 7

Popular Sher & Shayari

14 total

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

dard ke chehre badal jaate hain kyuun

درد کے چہرے بدل جاتے ہیں کیوں مرثیے نغموں میں ڈھل جاتے ہیں کیوں سوچ کے پیکر نہیں جب موم کے ہاتھ آتے ہی پگھل جاتے ہیں کیوں جب بکھر جاتی ہے خوش بو خواب کی نیند کے گیسو مچل جاتے ہیں کیوں جھیل سی آنکھوں میں مجھ کو دیکھ کر دو دیئے چپکے سے جل جاتے ہیں کیوں دھوپ چھوتی ہے بدن کو جب شمیمؔ برف کے سورج پگھل جاتے ہیں کیوں

غزل · Ghazal

har ek lafz mein poshida ik alaao na rakh

ہر ایک لفظ میں پوشیدہ اک الاؤ نہ رکھ ہے دوستی تو تکلف کا رکھ رکھاؤ نہ رکھ ہر ایک عکس روانی کی نذر ہوتا ہے ندی سے کون یہ جا کر کہے بہاؤ نہ رکھ یہ اور بات زمانے پہ آشکار نہ ہو مری نظر سے چھپا کر تو دل کا گھاؤ نہ رکھ حصار ذات سے کٹ کر تو جی نہیں سکتے بھنور کی زد سے یوں محفوظ اپنی ناؤ نہ رکھ یہ انکسار مبارک شمیمؔ تجھ کو مگر اب اتنا شاخ ثمر دار میں جھکاؤ نہ رکھ

غزل · Ghazal

ghazlon mein ab vo rang na raanaai rah gai

غزلوں میں اب وہ رنگ نہ رعنائی رہ گئی کچھ رہ گئی تو قافیہ پیمائی رہ گئی لفظوں کا یہ حصار بلندی نہ چھو سکا یوں بھی مرے خیال کی گہرائی رہ گئی کیا سوچیے کہ رشتۂ دیوار کیا ہوا دھوپوں سے اب جو معرکہ آرائی رہ گئی کب جانے ساتھ چھوڑ دیں دل کی یہ دھڑکنیں ہر وقت سوچتی یہی تنہائی رہ گئی اپنے ہی فن کی آگ میں جلتے رہے شمیمؔ ہونٹوں پہ سب کے حوصلہ افزائی رہ گئی

غزل · Ghazal

silsile khvaab ke ashkon se sanvarte kab hain

سلسلے خواب کے اشکوں سے سنورتے کب ہیں آج دریا بھی سمندر میں اترتے کب ہیں وقت اک موج ہے آتا ہے گزر جاتا ہے ڈوب جاتے ہیں جو لمحات ابھرتے کب ہیں یوں بھی لگتا ہے تری یاد بہت ہے لیکن زخم یہ دل کے تری یاد سے بھرتے کب ہیں لہر کے سامنے ساحل کی حقیقت کیا ہے جن کو جینا ہے وہ حالات سے ڈرتے کب ہیں یہ الگ بات ہے لہجے میں اداسی ہے شمیمؔ ورنہ ہم درد کا اظہار بھی کرتے کب ہیں

غزل · Ghazal

jo khud pe baiThe biThaae zavaal le aae

جو خود پہ بیٹھے بٹھائے زوال لے آئے کہاں سے ہم بھی لکھا کر کمال لے آئے کواڑ کھولیں تو اڑ جائیں گی ابابیلیں نہ جانے ذہن میں کیسا خیال لے آئے ہر ایک شخص سمجھ کر بھی ہو گیا خاموش ازل سے چہرے پہ ہم وہ سوال لے آئے ہیں راکھ راکھ مگر آج تک نہیں بکھرے کہو ہوا سے ہماری مثال لے آئے سلگتی بجھتی ہوئی زندگی کی یہ سوغات شمیمؔ اپنے لیے ماہ و سال لے آئے

غزل · Ghazal

main to lamhaat ki saazish kaa nishaana Thahraa

میں تو لمحات کی سازش کا نشانہ ٹھہرا تو جو ٹھہرا تو ترے ساتھ زمانہ ٹھہرا آنے والے کسی موسم سے ہمیں کیا لینا دل ہی جب درد کی خوشبو کا خزانہ ٹھہرا یاد ہے راکھ تلے ایک شرارے کی طرح یہ جو بجھ جائے ہواؤں کا بہانہ ٹھہرا جھوٹ سچ میں کوئی پہچان کرے بھی کیسے جو حقیقت کا ہی معیار فسانہ ٹھہرا عکس بکھرے ہوئے چہروں کے ہیں ہر سمت شمیمؔ دل ہمارا بھی کوئی آئنہ خانہ ٹھہرا

Similar Poets