SHAWORDS
Fatima Taj

Fatima Taj

Fatima Taj

Fatima Taj

poet
6Sher
6Shayari
5Ghazal

Sherشعر

Popular Sher & Shayari

12 total

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

daanista kar ke tark-e-safar ro paDe hain ham

دانستہ کر کے ترک سفر رو پڑے ہیں ہم کس کو ہمارے غم کی خبر رو پڑے ہیں ہم سمجھے تھے اہل بزم کہ ہم مسکرائیں گے یہ بھی ہے اک فریب نظر رو پڑے ہیں ہم ذکر غم حیات پھر اک بار چھڑ گیا محفل میں تیری بار دگر رو پڑے ہیں ہم آنکھوں کے سامنے وہی منزل ہے دار کی یاد آئی تیری راہ گزر رو پڑے ہیں ہم فصل بہار آئی تو یہ بھی ستم ہوا ہنسنے لگے ہیں زخم جگر رو پڑے ہیں ہم کیا کیا امیدیں لے کے گزاری تھی شام غم دیکھا مگر جو رنگ سحر رو پڑے ہیں ہم اب تاجؔ مل گیا ہے ہمیں منصب حیات ہے انتہا خوشی کی مگر رو پڑے ہیں ہم

غزل · Ghazal

kyon farq kiye baiThe ho is kaa hai sabab kyaa

کیوں فرق کئے بیٹھے ہو اس کا ہے سبب کیا ہیں اصل میں سب ایک عجم کیا ہے عرب کیا ممکن ہو اگر تم سے تو کردار سنوارو کام آتا ہے محشر میں کوئی نام و نسب کیا تو نے نظر انداز کیا ہم کو ہمیشہ ہم نے تری محفل کو جو چھوڑا تو عجب کیا یہ موسم گل مانا کہ تسکیں کا سبب ہے ڈھاتا تمہیں موسم یہی اس دل پہ غضب کیا احساس تمنا ہی مرے دل سے مٹا دو جب غم نہیں مطلوب تو خوشیوں کی طلب کیا پھر ہم سے کوئی تاجؔ یہی پوچھ رہا ہے بربادیٔ گلشن میں ہے پوشیدہ سبب کیا

غزل · Ghazal

yahi sochte hain aksar kahaan aa gae khushi mein

یہی سوچتے ہیں اکثر کہاں آ گئے خوشی میں کہ یہ دن گزر رہے ہیں جو حصار بے خودی میں یہ سفر ہے آرزو کا یہاں دھوپ‌ چھاؤں بھی ہے کبھی دل میں روشنی ہے کبھی دل ہے روشنی میں وہی دیں گے اب اجالا ترے قلب بے خبر کو جو چراغ جل اٹھے ہیں مری شام زندگی میں مجھے اعتبار الفت تمہیں ہے یقین میرا کوئی مل سکا نہ تم سا مجھے ساری زندگی میں ترے ساتھ ہے کچھ ایسا مری جرأتوں کا عالم کوئی ڈر ہے زندگی میں نہ ہے خوف کوئی جی میں ترا نام پڑھ رہی ہوں ترا نام لکھ رہی ہوں میں تجھے سمو رہی ہوں مرے ذوق شاعری میں مری ذات کو سجانے کوئی آئنہ نہ دینا مرا حسن جلوہ گر ہے ابھی تاجؔ سادگی میں

غزل · Ghazal

miri hayaat abhi jis ke intizaar mein hai

مری حیات ابھی جس کے انتظار میں ہے وہ لمحہ کس کے خدا جانے اختیار میں ہے یہ پھول کانٹے بہت ہی عزیز ہیں ہم کو ہمارے ماضی کی خوشبو اسی بہار میں ہیں کرے گا کیسے کوئی منزلوں کا اندازہ ابھی تو کارواں خود پردۂ غبار میں ہے نہ جانے کب یہ قفس زندگی کا ٹوٹے گا ابھی حیات مری درد کے حصار میں ہے زمانہ ٹوکتا جاتا ہے اس طرح مجھ کو کہ جیسے ترک وفا میرے اختیار میں ہے عجیب تاجؔ یہاں نظم زندگانی ہے ہے گلستاں میں کوئی کوئی لالہ زار میں ہے

غزل · Ghazal

muhaajir hain rahne ko ghar maangte hain

مہاجر ہیں رہنے کو گھر مانگتے ہیں یہ کیا ہم سے اہل سفر مانگتے ہیں بہت پی چکے ہیں شفق کا لہو ہم نیا ایک جام سحر مانگتے ہیں ترا نقش پا گر نہیں ہے تو کیا غم حوادث مری رہ گزر مانگتے ہیں غنیمت ہیں ٹوٹے ہوئے آئنے بھی یہ پتھر تو دست ہنر مانگتے ہیں ہے زندہ قفس میں چمن کی تمنا عزائم مرے بال و پر مانگتے ہیں نظاروں کے پردے اٹھا کر تو دیکھو نظارے بھی حسن نظر مانگتے ہیں سبق دے رہے تھے جو ضبط الم کا وہی تاجؔ سوز جگر مانگتے ہیں

Similar Poets